ملائیشیا کے وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم نے کہا ہے کہ عوامی دولت کو لوٹنے، سیاسی طاقت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے اور سرکاری وسا...
ملائیشیا کے وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم نے کہا ہے کہ عوامی دولت کو لوٹنے، سیاسی طاقت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے اور سرکاری وسائل کے ذریعے خاندان یا قریبی ساتھیوں کو فائدہ پہنچانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ مدانی حکومت ملک میں صاف، شفاف اور کرپشن سے پاک نظام حکومت کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے یہ بات ریاست جوہر کے علاقے سیروم میں منعقدہ "جوہر کے دیپان، اندی ہراپن" انتخابی مہم کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ملکی نظامِ حکمرانی سے جڑ پکڑ چکی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ملائیشیا کے وسائل اور قومی دولت کو مکمل طور پر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی رہنما کا انتخاب اس کی دیانت داری، ایمانداری اور بہتر طرز حکمرانی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ نسل، قومیت یا ایسے سیاسی نعروں کی بنیاد پر جو ماضی کی بدعنوانیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میں ایسے ملائی رہنما چاہتا ہوں جو ایماندار ہوں اور کرپشن میں ملوث نہ ہوں۔ میں ایسے چینی رہنما بھی چاہتا ہوں جو ایماندار ہوں اور بدعنوان نہ ہوں۔ اصل اہمیت دیانت داری کی ہے۔"
اس تقریب میں پینانگ کے وزیراعلیٰ چو کون یو اور لیڈانگ سے رکن پارلیمنٹ سید ابراہیم سید نوح بھی موجود تھے، جنہوں نے انتخابی مہم میں شرکت کی۔
انور ابراہیم، جو پاکتان ہراپن (پی ایچ) کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ اگر ملائیشیا کو ترقی کرنی ہے اور عالمی سطح پر مزید احترام حاصل کرنا ہے تو سرکاری عہدوں کا استعمال خاندان کے افراد، شریک حیات یا سیاسی اتحادیوں کو حکومتی ٹھیکے دینے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تمام طریقہ کار کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
وزیراعظم نے مزید کہا، "اپنے بچوں، شریک حیات یا قریبی ساتھیوں کو سرکاری معاہدوں کے ذریعے فائدہ پہنچانے کی پرانی روایت اب ختم ہونی چاہیے۔ حکومت ایسے طرز عمل کو روکنے کی ذمہ دار ہے۔"
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے خلاف جاری بعض سیاسی حملوں کا مقصد عوامی خدمت نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لیے دوبارہ اقتدار حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق ایسے عناصر اپنی سیاسی پوزیشن بحال کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ عوام کے مسائل حل کرنا۔
انور ابراہیم نے اس موقع پر عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی قیادت میں کرپشن میں ملوث کسی بھی شخص کو، خواہ اس کا عہدہ یا حیثیت کچھ بھی ہو، کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی سب پر یکساں لاگو ہوگی اور احتساب کے عمل میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ریاست جوہر کے ووٹرز سے اپیل کی کہ آئندہ ریاستی انتخابات میں ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں جو دیانت دار ہوں اور جن کا ریکارڈ صاف ہو۔ ان کے مطابق ووٹروں کا فیصلہ نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے مفادات پر بھی اثر انداز ہوگا۔
یہ انتخابی اجتماع سنگائی ماتی میں منعقد ہوا، جو جوہر میں انور ابراہیم کی انتخابی مہم کا اس روز آٹھواں پروگرام تھا۔ دو روزہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مجموعی طور پر 15 مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ ریاست جوہر میں 7 جولائی کو قبل از وقت ووٹنگ جبکہ 11 جولائی 2026 کو باقاعدہ پولنگ شیڈول ہے۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران شفاف طرز حکمرانی، احتساب اور کرپشن کے خاتمے سے متعلق بحث مسلسل جاری رہی ہے۔ موجودہ حکومت اپنی مدانی پالیسی کے تحت حکومتی اداروں میں شفافیت بڑھانے، احتساب کو مضبوط بنانے اور عوامی وسائل کے بہتر استعمال پر زور دے رہی ہے۔ وزیراعظم انور ابراہیم کے تازہ بیانات بھی اسی حکومتی مؤقف کا حصہ ہیں، جن میں انہوں نے دیانت داری اور اچھی حکمرانی کو قومی ترقی کی بنیادی شرط قرار دیا۔

COMMENTS