ملائیشیا میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی اسٹارلنک ملک میں اپنی "ڈائریکٹ ٹو سیل" ٹیکنالوجی کے آزمائشی مرحلے (پائلٹ ...
ملائیشیا میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی اسٹارلنک ملک میں اپنی "ڈائریکٹ ٹو سیل" ٹیکنالوجی کے آزمائشی مرحلے (پائلٹ ٹرائل) کی تیاری کر رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ایسے علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے جہاں موبائل ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز موجود نہیں یا آبادی بہت کم ہونے کی وجہ سے نیٹ ورک کی رسائی محدود ہے۔
ملائیشیا کے وزیرِ مواصلات داتک سری فہمی فاضل نے بتایا کہ اسٹارلنک کے نمائندوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی اور ملائیشیا میں اس نئی سروس کے پائلٹ ٹرائل سے متعلق بریفنگ دی۔ ان کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی مستقبل میں انٹرنیٹ کی رسائی کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خصوصاً ان دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں روایتی ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر قائم کرنا مشکل یا مہنگا ہوتا ہے۔
فہمی فاضل نے کہا کہ ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی کے ذریعے سیٹلائٹ براہِ راست موبائل ڈیوائسز کو انٹرنیٹ یا مواصلاتی سہولت فراہم کر سکے گا، جس سے ایسے مقامات پر بھی رابطہ ممکن ہوگا جہاں موبائل ٹاورز دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو مواصلاتی شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
یہ بیان سائبرجایا میں ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) اور ملائیشین ہائی وے اتھارٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب کے موقع پر دیا گیا۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک بھر میں انٹرنیٹ کی کوریج کو بہتر بنانا ہے تاکہ کم آبادی والے اور دور افتادہ علاقوں کے رہائشی بھی جدید ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اگر پائلٹ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
پس منظر کے طور پر، گزشتہ سال وزیرِ مواصلات فہمی فاضل نے کہا تھا کہ حکومت اسٹارلنک کی لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل آپشنز کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم اب اسٹارلنک کی نئی ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی کے آزمائشی مرحلے کی تجویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت جدید مواصلاتی حل کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بہتر کنیکٹیویٹی فراہم کی جا سکے۔
ڈائریکٹ ٹو سیل ٹیکنالوجی روایتی موبائل نیٹ ورک سے مختلف تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس میں سیٹلائٹ اور موبائل فون کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔ اس سے قدرتی آفات، دور دراز علاقوں یا ایسے مقامات پر جہاں موبائل ٹاور نصب کرنا ممکن نہ ہو، رابطے کی سہولت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اسی لیے کئی ممالک اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کے مواصلاتی نظام کا اہم حصہ تصور کر رہے ہیں۔

COMMENTS