سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 3 لاکھ 17 ہزار 436 پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے، جن میں ڈاکٹرز، سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی ماہرین...
سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 3 لاکھ 17 ہزار 436 پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے، جن میں ڈاکٹرز، سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، پیٹرولیم اور مکینیکل انجینئرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ٹیکنیشنز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران مجموعی طور پر 317,436 پاکستانیوں نے بیرون ملک ملازمت کے لیے سفر کیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سے روزگار کے لیے بیرون ملک جانے کا سلسلہ سال کے پہلے نصف میں بھی جاری رہا۔
سعودی عرب پاکستانی کارکنوں کی پہلی ترجیح
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب پاکستانی کارکنوں کے لیے سب سے بڑا بیرون ملک روزگار کا مرکز رہا۔ جنوری سے جون 2026 کے دوران 183,951 پاکستانی ملازمت کے لیے سعودی عرب گئے۔
متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا، جہاں اسی عرصے میں 50,773 پاکستانی روزگار کے لیے گئے۔ اس کے بعد قطر میں 34,025، بحرین میں 13,329 اور ترکیہ میں 4,673 پاکستانی کارکن گئے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک اب بھی پاکستانی شہریوں کے لیے بیرون ملک روزگار کی اہم منزلیں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی تعداد دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
ملائیشیا بھی اہم منزلوں میں شامل
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قبرص، یونان، برطانیہ اور ملائیشیا بھی پاکستانی کارکنوں کے لیے اہم بیرون ملک روزگار کی منزلوں میں شامل رہے۔
اگرچہ ان ممالک کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی الگ الگ تعداد فراہم کردہ اعداد و شمار میں نہیں بتائی گئی، تاہم ان کا اہم منزلوں میں شامل ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی کارکن مختلف خطوں میں روزگار کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
ملائیشیا خاص طور پر پاکستانی شہریوں کے لیے مختلف شعبوں میں روزگار کا ایک اہم ملک رہا ہے۔ تاہم بیرون ملک ملازمت کے لیے سفر کرنے والے افراد کے لیے درست ویزا، ورک پرمٹ اور دیگر قانونی دستاویزات کا ہونا ضروری ہے۔
زیادہ تر افراد بی ای اینڈ او ای کے ذریعے رجسٹرڈ ہوئے
دستیاب سرکاری ڈیٹا کے مطابق بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے 317,436 پاکستانیوں میں سے 316,848 افراد نے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای اینڈ او ای) کے ذریعے رجسٹریشن کرائی۔
اس کے علاوہ 588 افراد نے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) کے ذریعے بیرون ملک ملازمت حاصل کی۔
بی ای اینڈ او ای پاکستان سے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کی رجسٹریشن اور متعلقہ معاملات میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ او ای سی بھی سرکاری سطح پر بیرون ملک روزگار کے مواقع سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے۔
کن شعبوں کے افراد بیرون ملک جا رہے ہیں؟
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں مختلف پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
ان میں ڈاکٹرز، سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز، پیٹرولیم انجینئرز، مکینیکل انجینئرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ٹیکنیشنز شامل ہیں۔
یہ بات اہم ہے کیونکہ بیرون ملک روزگار کی تلاش صرف کم یا درمیانی مہارت رکھنے والے کارکنوں تک محدود نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے پاکستانی بھی بیرون ملک ملازمت کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
خاص طور پر آئی ٹی، انجینئرنگ، میڈیکل اور تکنیکی شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے بیرون ملک ملازمتیں کئی ممالک میں دستیاب ہیں، جس کے باعث ان شعبوں کے کارکن بیرون ملک روزگار کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
مزید پاکستانی بیرون ملک جانے کی تیاری میں
رپورٹ میں میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مزید ہزاروں پاکستانی بیرون ملک جانے کے لیے سفری اور ملازمت سے متعلق دستاویزات مکمل کرنے کے عمل میں ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ سال کے پہلے چھ ماہ میں بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد کے بعد بھی مزید پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
تاہم رپورٹ کے مطابق بعض مسافروں کو ایئرپورٹس پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بیرون ملک روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد کے لیے ویزا، ملازمت کے کاغذات، سفری دستاویزات اور دیگر قانونی تقاضے مکمل ہونا ضروری ہیں تاکہ سفر کے دوران مسائل سے بچا جا سکے۔
ہنرمند افراد کے بیرون ملک جانے کا رجحان
ماہرین کے مطابق پاکستانی شہریوں کا بیرون ملک روزگار کی طرف بڑھتا رجحان ملک سے ہنرمند افرادی قوت کے اخراج کا باعث بن رہا ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر تربیت یافتہ افراد کے بیرون ملک جانے سے پاکستان کی مقامی افرادی قوت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی ملکی معیشت میں ایک دوسرے طریقے سے بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیرون ملک مقیم اور کام کرنے والے پاکستانی اپنے خاندانوں کو رقوم بھیجتے ہیں، جبکہ ملک کو ترسیلات زر کی صورت میں مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
اس طرح بیرون ملک روزگار کے رجحان میں ایک طرف ملک سے ہنرمند افراد کے جانے کا پہلو موجود ہے، جبکہ دوسری طرف بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت اور خاندانوں کے لیے اہم ہوتی ہیں۔
بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے قانونی طریقہ اہم
روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے لیے قانونی طریقے سے ملازمت حاصل کرنا اور سفر کی تمام دستاویزات مکمل رکھنا اہم ہے۔ ویزا اور ورک پرمٹ کی نوعیت اس ملک اور ملازمت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے جہاں کارکن جا رہا ہو۔
اسی طرح ملازمت کے معاہدے، تنخواہ، رہائش، آجر کی معلومات اور دیگر شرائط کو سفر سے پہلے سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ سرکاری یا مجاز ذرائع سے ملازمت حاصل کرنے سے جعلی دستاویزات، غیر قانونی بھرتی اور سفری مسائل کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
2026 کے پہلے چھ ماہ کے اعداد و شمار سے واضح ہے کہ پاکستانی شہری بڑی تعداد میں بیرون ملک روزگار کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اس سلسلے میں سب سے بڑی منزل رہا، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور دیگر ممالک بھی پاکستانی کارکنوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
جنوری سے جون کے دوران 317,436 پاکستانیوں کا بیرون ملک روزگار کے لیے جانا اس رجحان کی مجموعی تصویر پیش کرتا ہے۔ مزید افراد کی سفری اور ملازمت سے متعلق دستاویزات مکمل ہونے کے باعث سال کے باقی حصے میں بھی بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار بعد میں سامنے آئیں گے۔

COMMENTS