جوہر بہرو: ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 98 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جن میں 26 خواتین ب...
جوہر بہرو: ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 98 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جن میں 26 خواتین بھی شامل ہیں۔ گرفتار افراد کا تعلق بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، انڈونیشیا اور میانمار سے بتایا گیا ہے۔
یہ کارروائی گزشتہ روز رات تقریباً 12:30 بجے جوہر بہرو کے کمپونگ اونگکو محسن علاقے میں واقع دکانوں کے ایک بلاک میں کی گئی۔ کارروائی میں ملائیشیا کے امیگریشن حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مجموعی طور پر 105 افسران اور اہلکاروں نے حصہ لیا۔
امیگریشن حکام کے مطابق کارروائی کے دوران بعض غیر ملکی کارکنوں نے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی۔ کچھ افراد مبینہ طور پر تاریک اور تنگ چھتوں کے اندر چھپ گئے، جبکہ کچھ قریبی رہائشی علاقے کی جانب بھاگنے کی کوشش کرتے رہے۔
تاہم حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی جاری رکھی اور تمام افراد کو حراست میں لے لیا۔
تقریباً 20 گھروں کی بھی تلاشی
امیگریشن آپریشن کے دوران قریبی علاقے میں موجود تقریباً 20 ٹیرس گھروں کی بھی جانچ کی گئی۔ حکام کو شبہ تھا کہ ان میں سے بعض مکانات غیر ملکی کارکنوں نے کرائے پر لے رکھے تھے۔
کارروائی کے دوران امیگریشن اہلکاروں کو ایک ایسے مقام پر بھی داخل ہونا پڑا جہاں موجود غیر ملکی کارکنوں نے دروازہ کھولنے سے انکار کیا تھا۔
حکام نے پہلے لوہے کی جالی کاٹی اور اس کے بعد دروازہ کھول کر اندر موجود افراد کو حراست میں لیا۔
مختلف ممالک کے شہری گرفتار
جوہر امیگریشن کے ڈائریکٹر نور فاضل رحیم کے مطابق کارروائی میں مجموعی طور پر 98 غیر قانونی تارکین وطن گرفتار کیے گئے۔
گرفتار افراد میں بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، انڈونیشیا اور میانمار کے شہری شامل ہیں۔ ان میں 26 خواتین بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے غیر ملکی شہری مختلف قریبی کاروباری مراکز اور دیگر مقامات پر کام کرتے تھے۔
یہ کارروائی صرف ایک کاروباری مقام تک محدود نہیں رہی بلکہ امیگریشن حکام نے آس پاس کے ان مقامات اور رہائشی گھروں کو بھی چیک کیا جہاں غیر ملکی کارکنوں کی موجودگی کا شبہ تھا۔
امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کا شبہ
ملائیشین امیگریشن حکام کے مطابق گرفتار افراد پر امیگریشن ایکٹ 1959 کے تحت مختلف خلاف ورزیوں کا شبہ ہے۔
ان میں بغیر درست سفری یا امیگریشن دستاویزات کے ملائیشیا میں داخل ہونا، اجازت سے زیادہ مدت تک قیام کرنا اور جاری کیے گئے پاس یا پرمٹ کا غلط استعمال شامل ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ ہر گرفتار شخص کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ تفتیش اور متعلقہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
گرفتار افراد کو سیتیا ٹروپیکا منتقل کر دیا گیا
کارروائی کے بعد تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے سیتیا ٹروپیکا میں وزارت داخلہ کے کمپلیکس منتقل کر دیا گیا۔
ملائیشیا میں غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے خلاف امیگریشن حکام کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں، خصوصاً ان مقامات پر جہاں بغیر درست دستاویزات کے غیر ملکیوں کے رہنے یا کام کرنے کی اطلاع ملتی ہے۔
اس کارروائی میں پاکستانی شہری بھی شامل ہونے کی وجہ سے یہ خبر ملائیشیا میں موجود پاکستانی کمیونٹی اور وہاں قانونی طور پر کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں کے لیے بھی اہم ہے۔
غیر ملکی کارکنوں کے لیے ملائیشیا میں قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے درست پاسپورٹ، ویزا، ورک پرمٹ اور متعلقہ امیگریشن شرائط کی پابندی ضروری ہے۔ پاس یا پرمٹ کے غلط استعمال، زائد قیام یا غیر قانونی طور پر کام کرنے کی صورت میں امیگریشن قوانین کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

COMMENTS