پتراجایا: ملائیشیا کے وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم نے وزارتِ انسانی وسائل کو ہدایت دی ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی ابتدائی 15 ہزار درخواستوں...
پتراجایا: ملائیشیا کے وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم نے وزارتِ انسانی وسائل کو ہدایت دی ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی ابتدائی 15 ہزار درخواستوں پر فوری کارروائی مکمل کی جائے تاکہ مختلف اہم شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کو جلد پورا کیا جا سکے۔
یہ ہدایت کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران سامنے آنے والے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق مسائل کے بعد جاری کی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مختلف صنعتوں کو افرادی قوت کی ضرورت ہے، جسے بروقت پورا کرنا ملکی معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔
وزیرِ مواصلات داتوک سری فہمی فاضل نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے وزارتِ انسانی وسائل کو ہدایت دی ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی پہلی 15 ہزار درخواستوں کی فوری جانچ اور منظوری کا عمل مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ان شعبوں کی فوری ضرورت پوری کرنا ہے جہاں کارکنوں کی کمی پیدا ہو رہی ہے، تاکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے اور معیشت کی رفتار برقرار رہے۔
حکومت کے مطابق غیر ملکی کارکن کئی ایسے شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں جہاں مقامی افرادی قوت کی دستیابی محدود ہے۔ ان میں تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زراعت، باغات، خدمات اور دیگر محنت طلب شعبے شامل ہیں۔ ان شعبوں میں بروقت کارکنوں کی فراہمی کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس پیش رفت سے قبل 6 جولائی کو وزیرِ انسانی وسائل داتوک سری آر رامنن نے اعلان کیا تھا کہ کابینہ کی یکم جولائی کی ہدایت کے بعد غیر ملکی کارکنوں کے کوٹہ مینجمنٹ کا مکمل اختیار وزارتِ انسانی وسائل کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
وزیر کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو مزید منظم، شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ ایک ہی ادارے کے ذریعے درخواستوں کی جانچ، منظوری اور افرادی قوت کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
انہوں نے اس وقت بتایا تھا کہ 6 جولائی تک وزارت کو غیر ملکی کارکنوں کے کوٹہ کے لیے 22,476 درخواستیں موصول ہو چکی تھیں، جن کا تعلق 548 مختلف کمپنیوں سے تھا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف صنعتوں میں غیر ملکی افرادی قوت کی طلب بدستور موجود ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کوٹہ مینجمنٹ کو ایک ہی وزارت کے تحت لانے سے درخواستوں کی جانچ کا عمل زیادہ مربوط ہوگا، مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنے گی اور صنعتوں کو درکار کارکن بروقت فراہم کیے جا سکیں گے۔ اس سے بھرتی کے عمل میں انتظامی پیچیدگیوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے 15 ہزار درخواستوں کو فوری طور پر نمٹانے کی ہدایت اسی پالیسی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس کے تحت حکومت ایک طرف غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو بہتر بنانا چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب مختلف معاشی شعبوں میں افرادی قوت کی ضروریات کو بھی بروقت پورا کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
فی الحال حکومت نے صرف ابتدائی 15 ہزار درخواستوں پر فوری کارروائی کی ہدایت دی ہے، جبکہ باقی درخواستوں کی جانچ اور منظوری کا عمل بھی وزارتِ انسانی وسائل کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہے گا۔

COMMENTS