کراچی: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر جعلی دستاویزات کے ذریعے غیر قانونی طور پر بیر...
کراچی: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر جعلی دستاویزات کے ذریعے غیر قانونی طور پر بیرون ملک روزگار کے حصول کی کوشش ناکام بنا دی۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملائیشیا جانے والے چار مسافروں کو مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر روکا گیا، جو "ویزٹ ویزا" پر سفر کر رہے تھے۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ان مسافروں کے پاس جعلی ملازمت کارڈز اور ملائیشیا میں منعقد ہونے والی ایک آئی ٹی نمائش کے حوالے سے ایک جعلی دعوت نامہ موجود تھا۔ یہ دستاویزات ظاہری طور پر اس بات کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں کہ مسافر کاروباری یا نمائشی مقصد کے تحت سفر کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں معاملہ کچھ اور تھا۔
ایف آئی اے حکام کی جانب سے پوچھ گچھ کے دوران چاروں مسافروں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ ان کا اصل مقصد نمائش میں شرکت نہیں بلکہ ملائیشیا میں ملازمت کا حصول تھا۔ واضح رہے کہ ویزٹ ویزا کے تحت کسی بھی ملک میں باقاعدہ ملازمت اختیار کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے، اور ایسے میں جعلی دستاویزات کا استعمال دراصل امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
مزید تفتیش کے دوران حکام نے مسافروں کے قبضے سے مالی لین دین کے شواہد، ایک ملازمت کا معاہدہ اور دیگر مواد بھی برآمد کیا، جن کا مبینہ تعلق غیر قانونی بھرتی کے نیٹ ورک سے بتایا جا رہا ہے۔ یہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسافروں کو کسی منظم ایجنٹ یا نیٹ ورک کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چاروں مسافروں کو مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے انسانی اسمگلنگ کے خلاف قائم خصوصی شعبے، اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ ادارہ خاص طور پر انسانی اسمگلنگ، جعلی بھرتی اور غیر قانونی بیرون ملک روزگار سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کرتا ہے۔
پاکستان میں بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد اکثر نجی ایجنٹس یا نیٹ ورکس کے ذریعے دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے ایجنٹس بھاری رقم وصول کرکے جعلی دستاویزات، دعوت ناموں یا ملازمت کے معاہدوں کی مدد سے افراد کو ویزٹ ویزا پر بیرون ملک بھجواتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کے پاس کوئی قانونی ورک پرمٹ یا اجازت نامہ نہیں ہوتا۔ اس طرز عمل سے نہ صرف متاثرہ افراد کو مالی نقصان پہنچتا ہے بلکہ بیرون ملک پہنچنے پر انہیں استحصال، جبری مشقت یا انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ غیر قانونی بیرون ملک روزگار، دستاویزی جعل سازی، انسانی اسمگلنگ اور شہریوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے بھرتی کرنے والے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

COMMENTS