پتراجایا: ملائیشیا کے امیگریشن سسٹم (مائی آئی ایم ایم ایس) میں مبینہ طور پر غیر قانونی مداخلت کرکے غیر ملکی کارکنوں کے لیے عارضی ورک پرمٹ (...
پتراجایا: ملائیشیا کے امیگریشن سسٹم (مائی آئی ایم ایم ایس) میں مبینہ طور پر غیر قانونی مداخلت کرکے غیر ملکی کارکنوں کے لیے عارضی ورک پرمٹ (پی ایل کے ایس) کی منظوری دینے کے معاملے میں پانچ امیگریشن افسران کو تین روزہ ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ریمانڈ تحقیقات مکمل کرنے اور معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے دیا گیا ہے۔
پتراجایا مجسٹریٹ کورٹ میں مجسٹریٹ ایزرین ذکریہ نے ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کی درخواست پر پانچوں مشتبہ افراد کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔ ریمانڈ کی مدت 6 اگست تک جاری رہے گی تاکہ تحقیقاتی ٹیم شواہد اکٹھے کر سکے اور مبینہ کردار کا مزید جائزہ لے سکے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں تقریباً 30 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔ انہیں 3 اگست کو دوپہر تقریباً ایک بجے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ایم اے سی سی کے ہیڈکوارٹر پہنچے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان افسران پر شبہ ہے کہ انہوں نے باہمی تعاون سے ملائیشین امیگریشن مینجمنٹ سسٹم (مائی آئی ایم ایم ایس) میں مبینہ مداخلت کی اور غیر ملکی کارکنوں کے لیے ٹمپرری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) کی درخواستوں کو مقررہ قانونی طریقہ کار مکمل کیے بغیر منظور کروانے میں مدد فراہم کی۔ تاہم اس مرحلے پر یہ الزامات زیرِ تفتیش ہیں اور ان پر عدالت کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا۔
تحقیقات کے دوران حکام نے پانچوں مشتبہ افراد کے زیر استعمال پانچ موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ ان آلات کا فرانزک تجزیہ کیا جائے گا تاکہ مبینہ سرگرمیوں سے متعلق مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔
ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن کے چیف کمشنر داتک سری عبدالحلیم امان نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کیس کی تحقیقات ایم اے سی سی ایکٹ 2009 کی دفعہ 16(اے) اور 17(اے) کے تحت جاری ہیں۔ ان دفعات کا تعلق مبینہ بدعنوانی، رشوت لینے یا دینے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق تحقیقات سے ہے۔
یہ معاملہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ان تحقیقات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جن میں ملائیشیا کے امیگریشن سسٹم مائی آئی ایم ایم ایس کے ممکنہ غلط استعمال اور غیر ملکی کارکنوں کے ورک پاسز کی منظوری کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مائی آئی ایم ایم ایس وہ مرکزی نظام ہے جس کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں کے امیگریشن ریکارڈ، ویزا اور مختلف اقسام کے پاسز کی درخواستوں پر کارروائی کی جاتی ہے۔ اگر اس نظام میں کسی بھی سطح پر غیر قانونی مداخلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے اثرات امیگریشن انتظامیہ اور ورک پرمٹ کے نظام پر پڑ سکتے ہیں۔
تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور متعلقہ ادارے شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کی جانچ کر رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے مزید گرفتاریاں یا اضافی کارروائی کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

COMMENTS