کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے درخواست دینے کا عمل اب مکمل طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے۔ انسانی وسائل کی وزارت ک...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے درخواست دینے کا عمل اب مکمل طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے۔ انسانی وسائل کی وزارت کے مطابق 22 اگست 2026 سے آجر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی درخواستیں فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم (ایف ڈبلیو سی ایم ایس) کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکیں گے۔
نئے نظام کے تحت آجروں کو درخواستیں جمع کرانے کے لیے سرکاری دفاتر میں دستی طور پر کاغذات جمع کرانے یا ذاتی طور پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو زیادہ آسان، منظم اور شفاف بنانا ہے۔
وزارت انسانی وسائل کے مطابق آن لائن نظام سے آجروں کے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر کم ہوں گے، انتظار کا وقت کم ہونے کی توقع ہے اور درخواستوں کی کارروائی کو ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منظم کیا جا سکے گا۔
غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی شرائط برقرار
وزارتِ انسانی وسائل نے واضح کیا ہے کہ درخواست کا عمل آن لائن ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے قوانین یا شرائط میں نرمی کر دی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق تمام درخواستیں اب بھی متعلقہ قوانین، اہلیت کے معیار، غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی جانچ پڑتال سے مشروط ہوں گی۔
اس کا مطلب ہے کہ آجر صرف ایف ڈبلیو سی ایم ایس پر درخواست جمع کرا دینے سے غیر ملکی کارکن رکھنے کے اہل نہیں ہو جائیں گے۔ درخواست کی منظوری کے لیے موجودہ قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوں گے۔
درخواست کا عمل کہاں سے شروع ہوگا؟
وزارت کے مطابق غیر ملکی کارکن رکھنے کا عمل ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 کی سیکشن 60کے کے تحت پہلے سے اجازت حاصل کرنے سے شروع ہوگا۔
یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آجر کو کنڈیشنل اپروول لیٹر جاری نہیں کر دیا جاتا۔ مکمل درخواست اور مقررہ شرائط و معیار پورے ہونے کی صورت میں آجر 14 دن کے اندر حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت نے آجروں کو ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ذریعے درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ نظام تک رسائی کے لیے ایف ڈبلیو سی ایم ایس کی ویب سائٹ استعمال کی جا سکتی ہے۔
15 ہزار غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے پر بھی کارروائی
وزارتِ انسانی وسائل نے غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے کی درخواستوں کے حوالے سے مرحلہ وار طریقہ کار بھی شروع کیا ہے۔
یہ اقدام ریستوران کے شعبے میں 15,000 غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے کے کھولے جانے کے بعد کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم نے 24 جولائی کو اس کوٹے کا اعلان کیا تھا۔
وزارت کے مطابق مجموعی 15,000 کے کوٹے میں سے 5,000 غیر ملکی کارکنوں سے متعلق درخواستیں اس وقت منظوری کے مرحلے میں ہیں۔
یہ 5,000 کارکن 1,033 آجروں سے متعلق ہیں، جن کے کیسز پر پہلے ہی کیس بائی کیس انٹرویوز کیے جا چکے ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ ان درخواستوں پر کارروائی جاری ہے اور متعلقہ آجر اپنے معاملات کو ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ذریعے مکمل کریں گے۔
انٹرویو مکمل کرنے والے آجروں کے لیے اہم ہدایت
وزارتِ انسانی وسائل نے ان آجروں کو بھی ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ذریعے عمل مکمل کرنے کا مشورہ دیا ہے جن کے انٹرویوز پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔
اسی طرح وہ آجر جو غیر ملکی کارکنوں کی نئی درخواستیں جمع کرانا چاہتے ہیں، انہیں بھی اب آن لائن نظام استعمال کرنا ہوگا۔
اس تبدیلی کے بعد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق درخواستوں کے لیے دستی عمل اور والک ان وزٹس ختم ہو جائیں گے، جبکہ درخواستوں کی سبمیشن اور پراسیسنگ مرکزی آن لائن نظام کے ذریعے کی جائے گی۔
آن لائن نظام سے آجروں کو کیا فائدہ ہوگا؟
ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ذریعے مکمل آن لائن درخواست کے نظام کا بنیادی مقصد بھرتی کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ آجر اپنی درخواستیں ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرا سکیں گے، جس سے دستاویزات جمع کرانے کے لیے دفاتر کے بار بار دورے کم ہوں گے۔
اس نظام سے درخواستوں کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر منظم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وزارت کے مطابق انتظار کے وقت کو کم کرنے اور پورے عمل کو زیادہ شفاف اور منظم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم، درخواست کا آن لائن ہونا منظوری کی خودکار ضمانت نہیں ہے۔ ہر درخواست کو مقررہ قانونی اور انتظامی شرائط کے مطابق جانچا جائے گا۔
کے ایل آئی اے پر غیر ملکی کارکنوں کی آمد کے لیے نیا منصوبہ
اسی معاملے سے متعلق ایک اور پیش رفت میں وزارت انسانی وسائل نے بتایا کہ وہ فارین ورکر ٹرانزٹ سینٹر قائم کرنے کی تجویز کو مزید بہتر بنا رہی ہے۔
اس مرکز کا مقصد کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر غیر ملکی کارکنوں کی آمد کے دوران پیدا ہونے والے رش اور انتظامی مسائل سے نمٹنا ہے۔
وزارت کے مطابق اس منصوبے کو مستقبل میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں کی آمد اور متعلقہ انتظامی کارروائی کو زیادہ منظم بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
آجروں اور غیر ملکی کارکنوں کے لیے کیا تبدیل ہوا؟
نئے نظام میں سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے درخواست دینے والے آجروں کو اب دستی درخواستیں جمع کرانے یا والک ان وزٹس کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تمام درخواستیں ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ذریعے آن لائن جمع ہوں گی۔ تاہم، بھرتی کے لیے قانونی شرائط، اہلیت اور متعلقہ حکومتی منظوریوں کا عمل برقرار رہے گا۔
اس لیے آجروں کے لیے ضروری ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے تمام مطلوبہ معلومات اور دستاویزات مکمل رکھیں تاکہ کارروائی میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔
پندرہ ہزار غیر ملکی کارکنوں کے ریستوران شعبے کے کوٹے سے متعلق جاری کارروائی بھی اسی ڈیجیٹل نظام کے تحت آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ وزارت نے ان آجروں کو خاص طور پر ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ذریعے اپنی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جن کے کیسز کے انٹرویوز مکمل ہو چکے ہیں یا جو نئی درخواستیں جمع کرانا چاہتے ہیں۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی ایک باقاعدہ حکومتی نظام کے تحت ہوتی ہے، جس میں مختلف شعبوں کے لیے کوٹے، قانونی شرائط اور متعلقہ اداروں کی منظوری شامل ہوتی ہے۔
ایف ڈبلیو سی ایم ایس کا مکمل آن لائن استعمال اسی عمل کو ڈیجیٹل بنانے کی جانب ایک اہم انتظامی تبدیلی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد موجودہ شرائط ختم کرنا نہیں بلکہ درخواست کے طریقہ کار کو زیادہ منظم اور آسان بنانا ہے۔
اس لیے غیر ملکی کارکن رکھنے کے خواہشمند آجروں کے لیے ایف ڈبلیو سی ایم ایس اب درخواست کے عمل کا مرکزی آن لائن پلیٹ فارم ہوگا، جبکہ حتمی منظوری اب بھی متعلقہ قوانین اور حکومتی پالیسیوں کے مطابق ہوگی۔

COMMENTS