انڈونیشیا نے پاکستانی برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کے لیے بزنس ویزا کے حصول کے عمل کو مزید آسان بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد...
انڈونیشیا نے پاکستانی برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کے لیے بزنس ویزا کے حصول کے عمل کو مزید آسان بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ مختلف شعبوں میں معاشی روابط مزید مضبوط ہو سکیں۔
یہ اعلان پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوتجو نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے دورے کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سفارتی وفد کی قیادت کی اور آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت اور نائب صدر فہد برلاس سمیت دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی۔
سفیر کے مطابق انڈونیشیا پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بزنس ویزا کے اجراء کا طریقہ کار آسان بنانے پر کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویزا فیس میں کمی کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی کاروباری افراد انڈونیشیا میں تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اجلاس کے دوران سفیر نے پاکستانی تاجروں کو 41ویں ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا میں شرکت کی دعوت بھی دی، جو 14 سے 18 اکتوبر تک منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش پاکستانی کمپنیوں کے لیے برآمدی آرڈرز حاصل کرنے، مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) پر بات چیت کرنے اور انڈونیشی کاروباری اداروں کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان حلال خوراک، قابلِ تجدید توانائی، صحت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری روابط مستقبل میں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان کاروباری اداروں کے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک اپنے مضبوط سفارتی تعلقات کو زیادہ تجارتی حجم میں تبدیل کریں، پاکستانی برآمدات میں اضافہ کریں، مشترکہ تجارتی وفود کا تبادلہ کریں اور مینوفیکچرنگ و ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیں۔
انڈونیشی سفارتی وفد میں اقتصادی امور کے سربراہ انگان مالین، اکنامک سیکشن کی نمائندہ قرۃ العین، سماجی و ثقافتی امور کے نمائندہ محمد خیرال اجیال اور ڈکی رحمت پوجی بھی شامل تھے۔ وفد نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امکانات پر پاکستانی کاروباری برادری سے تبادلہ خیال کیا۔
پس منظر
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان کئی برسوں سے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں، تاہم دونوں ممالک کا خیال ہے کہ موجودہ تجارتی حجم میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ بزنس ویزا کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور ممکنہ طور پر فیس میں کمی جیسے اقدامات پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے انڈونیشیا کی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تجارتی نمائشوں اور مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی دونوں ممالک کے معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

COMMENTS