کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے جعلی میڈیکل دستاویزات کے مبینہ استعمال کے معاملے ...
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن حکام نے جعلی میڈیکل دستاویزات کے مبینہ استعمال کے معاملے میں دو مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر دیا۔ دونوں مسافروں کے سفری ریکارڈ اور سفر کے مقصد سے متعلق معلومات میں تضاد سامنے آنے کے بعد انہیں تفصیلی پوچھ گچھ کے لیے روکا گیا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق امیگریشن کلیئرنس کے دوران حکام نے دونوں مسافروں کے ٹریول پروفائلز میں کچھ ایسی معلومات کی نشاندہی کی جو ان کے سفری دعووں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ اس کے بعد مسافروں کو مزید تفصیلی پوچھ گچھ اور دستاویزات کی جانچ کے لیے متعلقہ حکام کے پاس بھیجا گیا۔
مزید تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ دونوں مسافر ملائیشیا جانے کی تیاری کر رہے تھے اور ان کا اصل مقصد وہاں ملازمت حاصل کرنا تھا، جبکہ ان کے پاس وزٹ ویزے موجود تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق مسافروں نے اپنے اصل مقصدِ سفر کو ظاہر نہ کرنے کے لیے مبینہ طور پر جعلی طبی دستاویزات استعمال کیں۔
سفری پروفائل میں تضاد کے بعد تحقیقات
ایف آئی اے امیگریشن حکام کی جانب سے ایئرپورٹ پر مسافروں کی سفری دستاویزات اور سفر سے متعلق معلومات کی جانچ معمول کے امیگریشن عمل کا حصہ ہے۔ اس معاملے میں حکام کو دونوں مسافروں کے ٹریول پروفائلز میں ایسی معلومات نظر آئیں جن کی مزید تصدیق ضروری سمجھی گئی۔
تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد مسافروں کے پیش کردہ دستاویزات اور ان کے مبینہ اصل مقصدِ سفر کا جائزہ لیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات میں یہ الزام سامنے آیا کہ وہ ملائیشیا میں روزگار کے لیے سفر کر رہے تھے، لیکن وزٹ ویزا استعمال کر رہے تھے۔
ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ مسافروں نے اپنے سفر کے اصل مقصد کو چھپانے کے لیے مبینہ طور پر جعلی میڈیکل دستاویزات تیار یا استعمال کیں۔ ان دستاویزات کے ذریعے سفر کے حقیقی مقصد کو مختلف ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔
دونوں مسافر پرواز سے آف لوڈ
تحقیقات کے بعد دونوں مسافروں کو ان کی مقررہ پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔ آف لوڈنگ کا مطلب ہے کہ مسافر کو متعلقہ پرواز پر سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے، عموماً اس وقت جب امیگریشن حکام کو سفری دستاویزات، ویزا یا سفر کے مقصد سے متعلق قانونی یا تصدیقی مسئلہ درپیش ہو۔
اس معاملے میں کارروائی کا تعلق مبینہ طور پر جعلی میڈیکل دستاویزات اور وزٹ ویزے کے ذریعے ملائیشیا میں روزگار کے لیے سفر کرنے کی کوشش سے ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق صرف مسافروں ہی نہیں بلکہ ان افراد کی بھی نشاندہی کی گئی جو مبینہ طور پر ان کے سفر کا انتظام کرنے اور جعلی دستاویزات تیار کرنے میں سہولت کاری کر رہے تھے۔
مبینہ سہولت کار بھی تحقیقات میں شامل
ایف آئی اے نے بتایا کہ مسافروں کے سفر اور جعلی دستاویزات کی مبینہ تیاری یا انتظام میں ملوث سہولت کاروں کی بھی شناخت کر لی گئی ہے۔ ان افراد کے کردار کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انہوں نے مسافروں کے سفر کے انتظام اور دستاویزات کی تیاری میں کس نوعیت کی مدد فراہم کی۔
مسافروں اور مبینہ سہولت کاروں کو مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل، کراچی (اے ایچ ٹی سی) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اے ایچ ٹی سی ایسے معاملات کی تحقیقات کرتا ہے جن میں انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی بیرون ملک ملازمت، سفری دھوکہ دہی اور متعلقہ جرائم کے شبہات شامل ہوں۔ اس کیس میں بھی حکام مسافروں کے سفر کے مقصد، ویزا کی نوعیت، میڈیکل دستاویزات اور مبینہ سہولت کاروں کے کردار کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ملائیشیا میں روزگار کے لیے وزٹ ویزا کا معاملہ
اس کیس میں ایف آئی اے کے مطابق ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مسافروں کا مبینہ اصل مقصد ملائیشیا میں ملازمت حاصل کرنا تھا جبکہ وہ وزٹ ویزوں پر سفر کر رہے تھے۔
وزٹ ویزا عام طور پر سیاحت، ملاقات یا مختصر مدت کے جائز مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ بیرون ملک ملازمت کے لیے متعلقہ ملک کے مقررہ ورک پرمٹ یا روزگار سے متعلق اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ کسی دوسرے مقصد کے لیے جاری کیے گئے ویزے کو مبینہ طور پر ملازمت کے مقصد کے لیے استعمال کرنا امیگریشن اور روزگار سے متعلق قوانین کے تحت مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اسی وجہ سے ایف آئی اے نے دونوں مسافروں کے سفر کے اصل مقصد اور پیش کردہ دستاویزات کی مزید جانچ کی۔
ایف آئی اے کی امیگریشن فراڈ کے خلاف کارروائی
ایف آئی اے نے کہا ہے کہ ادارہ غیر قانونی بیرون ملک روزگار، دستاویزات میں جعل سازی اور پاکستان کے امیگریشن نظام کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والی اس کارروائی میں امیگریشن حکام نے سفر کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر مسافروں کو مزید جانچ کے لیے روکا۔ تحقیقات کے بعد نہ صرف دونوں مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا بلکہ مبینہ طور پر سفر کا انتظام کرنے والے سہولت کاروں کی بھی نشاندہی کی گئی۔
اب معاملہ ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے پاس ہے، جہاں مسافروں اور مبینہ سہولت کاروں کے خلاف مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ جعلی میڈیکل دستاویزات کہاں سے حاصل کی گئیں، مبینہ سہولت کاروں کا اس عمل میں کیا کردار تھا اور بیرون ملک ملازمت کے لیے سفر کا مکمل انتظام کس طریقے سے کیا گیا تھا۔
یہ کارروائی بیرون ملک روزگار کے خواہشمند مسافروں کے لیے بھی اس بات کی اہمیت ظاہر کرتی ہے کہ سفر کے مقصد کے مطابق درست ویزا اور قانونی دستاویزات استعمال کی جائیں۔ کسی غلط یا جعلی دستاویز کے ذریعے امیگریشن کلیئرنس حاصل کرنے کی کوشش قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔

COMMENTS