ملائیشیا کے تعمیراتی شعبے میں بڑھتی ہوئی لاگت نے کنٹریکٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ تعمیراتی شعبے کی دو اہم تنظیموں نے ورکس منسٹر الیگ...
ملائیشیا کے تعمیراتی شعبے میں بڑھتی ہوئی لاگت نے کنٹریکٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ تعمیراتی شعبے کی دو اہم تنظیموں نے ورکس منسٹر الیگزینڈر نانٹا لنگی کو آگاہ کیا ہے کہ تعمیراتی مقامات پر لاگت کا دباؤ ملک کی مجموعی معاشی رپورٹس میں ظاہر ہونے والے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔
ماسٹر بلڈرز ایسوسی ایشن ملائیشیا اور بومی پوترا کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ قومی سطح کے اوسط اعداد و شمار تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے کنٹریکٹرز کو درپیش حقیقی آپریشنل اخراجات کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
یہ بیان ورکس منسٹر الیگزینڈر نانٹا لنگی کے ان ریمارکس کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عالمی توانائی بحران کے باوجود تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافہ اب بھی قابلِ انتظام ہے اور کنٹریکٹرز اضافی اخراجات برداشت کرتے ہوئے منصوبوں کو بغیر تاخیر جاری رکھنے کے قابل ہیں۔
تاہم، دونوں تعمیراتی تنظیموں نے اس مؤقف کے حوالے سے کہا کہ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ تعمیراتی مقامات سے حاصل ہونے والی زمینی معلومات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
ڈیزل اور بٹومین کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
تنظیموں کے مطابق فروری سے جولائی کے دوران صنعتی ڈیزل کی قیمت میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔ قیمت 2.95 رنگٹ فی لیٹر سے بڑھ کر 4.26 رنگٹ فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے میں بٹومین کی قیمت بھی 42 فیصد بڑھی۔ اس کی قیمت 2,125 رنگٹ فی ٹن سے بڑھ کر 3,025 رنگٹ فی ٹن ہوگئی۔
بٹومین سڑکوں کی تعمیر اور دیگر تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والا اہم مواد ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ تعمیراتی منصوبوں کے مجموعی اخراجات کو متاثر کر سکتا ہے۔
کنکریٹ اور سیمنٹ بھی مہنگے
تعمیراتی تنظیموں نے دیگر بنیادی مواد کی قیمتوں میں اضافے کی بھی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق گریڈ 30 این ریڈی مکس کنکریٹ کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 402 رنگٹ فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی۔
اسی طرح عام آرڈینری پورٹ لینڈ سیمنٹ کے 50 کلوگرام بیگ کی قیمت جون سے جولائی کے درمیان 6.7 فیصد بڑھ گئی۔
کنٹریکٹرز کے لیے کنکریٹ، سیمنٹ، بٹومین اور ایندھن جیسے بنیادی اجزا تعمیراتی منصوبوں کے اہم اخراجات میں شامل ہوتے ہیں۔ ان اشیا کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی منصوبوں کے منافع اور تعمیراتی بجٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ اور مزدوری کے اخراجات بھی بڑھے
دونوں تنظیموں نے کہا کہ اکتوبر 2025 سے ٹرانسپورٹ کی گنجائش سے متعلق قوانین پر سخت عمل درآمد کے بعد سامان کی ترسیل یا ہالیج کاسٹس میں بھی تقریباً 15 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ کم از کم اجرت میں اضافے، غیر ملکی کارکنوں کے لیے ای پی ایف سے متعلق تبدیلیوں اور تانبے کی ریکارڈ قیمتوں کے باعث مزدوری اور دیگر آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یہ اخراجات تعمیراتی کمپنیوں کے روزمرہ کام کا حصہ ہیں اور خاص طور پر ان منصوبوں میں اہم اثر ڈال سکتے ہیں جہاں معاہدہ پہلے ہی ایک مقررہ قیمت پر کیا جا چکا ہو۔
مقررہ قیمت کے معاہدے چھوٹے کنٹریکٹرز کے لیے مسئلہ
تعمیراتی تنظیموں کے مطابق زیادہ تر کنٹریکٹرز ایسے فکسڈ پرائس کنٹریکس کے تحت کام کرتے ہیں جو موجودہ قیمتوں میں اضافے سے پہلے طے کیے گئے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر منصوبے کا معاہدہ پہلے ایک مقررہ قیمت پر کیا گیا ہو اور بعد میں تعمیراتی مواد، ایندھن، مزدوری یا ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھ جائے تو اضافی اخراجات کا اثر کنٹریکٹر کے منافع پر پڑ سکتا ہے۔
تنظیموں نے کہا کہ اس صورتحال کا اثر خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کنٹریکٹرز پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان کے پاس قیمتوں میں اچانک اضافے کو برداشت کرنے کی گنجائش نسبتاً محدود ہو سکتی ہے۔
مزید رابطے اور زمینی اعداد و شمار کا مطالبہ
دونوں تنظیموں نے ورکس منسٹری، کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیویلپمنٹ بورڈ (سی آئی ڈی بی) اور محکمہ شماریات کے ساتھ مزید قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔
تنظیموں نے تجویز دی کہ تعمیراتی شعبے سے متعلق پالیسی سازی میں قومی سطح کے معاشی اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ تعمیراتی مقامات سے حاصل ہونے والی حقیقی معلومات اور صنعت کے مائیکرو لیول ڈیٹا کو بھی شامل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ زمینی سطح پر موجود اعداد و شمار اور تعمیراتی صنعت کے مشاہدات کو قومی شماریاتی معلومات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو شعبے کی صورتحال کی زیادہ متوازن اور مکمل تصویر سامنے آ سکتی ہے۔
تنظیموں نے کہا کہ اس طریقہ کار سے تعمیراتی صنعت کی پائیداری کے لیے بہتر فریم ورک تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تعمیراتی شعبے کے لیے موجودہ صورتحال
تعمیراتی صنعت میں لاگت صرف تعمیراتی مواد تک محدود نہیں ہوتی۔ ایندھن، ٹرانسپورٹ، مزدوری، سماجی تحفظ سے متعلق اخراجات اور دیگر آپریشنل ضروریات بھی منصوبوں کی مجموعی لاگت کا حصہ ہوتی ہیں۔
حالیہ قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تعمیراتی تنظیموں اور حکومت کے مؤقف میں بنیادی فرق اس بات پر ہے کہ مجموعی قومی اعداد و شمار اور تعمیراتی مقامات پر کنٹریکٹرز کو درپیش حقیقی اخراجات کس حد تک ایک دوسرے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ورکس منسٹر کے مطابق تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافہ فی الحال قابلِ انتظام ہے، جبکہ صنعت کی نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر موجود اخراجات کو الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔
دونوں جانب کے اعداد و شمار اور مشاہدات کو سامنے رکھ کر تعمیراتی شعبے کی موجودہ لاگت اور اس کے منصوبوں پر اثرات کو زیادہ واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

COMMENTS