بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان اور میانمار کی غیر ملکی ملازمتوں سے متعلق بھرتی کرنے والی تنظیموں نے ملائیشیا کے غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے نظام م...
بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان اور میانمار کی غیر ملکی ملازمتوں سے متعلق بھرتی کرنے والی تنظیموں نے ملائیشیا کے غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے نظام میں مبینہ طور پر مخصوص ایجنسیوں کو ترجیح دینے، اجارہ داری اور گروہی کنٹرول کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چاروں ممالک کی نمائندہ تنظیموں نے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ اور غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کا نظام تمام قانونی طور پر لائسنس یافتہ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے لیے کھلا، شفاف، مسابقتی اور غیر امتیازی ہونا چاہیے۔
مشترکہ بیان پر نیپال ایسوسی ایشن آف فارن ایمپلائمنٹ ایجنسیز کے صدر ڈک بہادر کھتری، بنگلہ دیش ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل ریکروٹنگ ایجنسیز کے سابق سینئر نائب صدر ریاض الاسلام، میانمار اوورسیز ایمپلائمنٹ ایجنسیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میو تھانٹ اور پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید رحمت علی شاہ نے دستخط کیے۔
چاروں تنظیموں نے واضح کیا کہ وہ ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت، کارکردگی اور ذمہ دارانہ بھرتی کی حمایت کرتی ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا بھرتی کا طریقہ کار ایسا نہیں ہونا چاہیے جو مخصوص ایجنسیوں کے لیے اجارہ داری، گروہی نظام یا خصوصی کنٹرول پیدا کرے۔
ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے تحت نئی پیش رفت
یہ مشترکہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے طریقہ کار پر دوبارہ بحث جاری ہے۔
ملائیشیا کے فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم (ایف ڈبلیو سی ایم ایس) نے 21 اگست کو بنگلہ دیش کی 25 ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کی فہرست شائع کی تھی، جنہیں ملائیشیا کے لیے کارکن بھیجنے کے حوالے سے شامل کیا گیا۔
اس پیش رفت کے بعد بنگلہ دیش اور دیگر کارکن بھیجنے والے ممالک کی کچھ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کی جانب سے خدشات سامنے آئے کہ اگر بھرتی کا عمل محدود تعداد میں ایجنسیوں تک محدود ہو گیا تو ماضی کی طرح بھرتی کے ایک محدود یا گروہی نظام کے دوبارہ پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔
یہاں ایف ڈبلیو سی ایم ایس کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی اور متعلقہ انتظامی مراحل کو ڈیجیٹل طریقے سے منظم کرنا ہے۔ تاہم، چاروں تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام کی کامیابی صرف آن لائن ہونے سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی جڑی ہے کہ تمام اہل اور لائسنس یافتہ اداروں کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔
ہزاروں لائسنس یافتہ ایجنسیاں موجود ہیں
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارکن بھیجنے والے ممالک میں ہزاروں ریکروٹمنٹ ایجنسیاں مناسب لائسنس کے ساتھ قانونی طور پر کام کر رہی ہیں۔
ان تنظیموں کے مطابق ایسی تمام ایجنسیوں کو جائز بھرتی کے مواقع تک برابر، شفاف اور غیر امتیازی رسائی ملنی چاہیے۔
چاروں ایسوسی ایشنز نے کہا کہ اگر کوئی نظام محدود تعداد میں ایجنسیوں کو ترجیحی یا خصوصی رسائی دیتا ہے تو اس سے منصفانہ مقابلے، شفافیت اور اخلاقی بھرتی کے اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ محدود ایجنسیوں کو خصوصی رسائی دینے والے انتظامات سے آجروں اور غیر ملکی کارکنوں کے اخراجات بڑھنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ ان کے پاس دستیاب انتخاب بھی کم ہو سکتے ہیں۔
ملائیشیا سے نظام کا جائزہ لینے کا مطالبہ
بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان اور میانمار کی متعلقہ تنظیموں نے ملائیشیا کی حکومت اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے تحت بھرتی کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے مواقع ایک کھلے اور مسابقتی نظام کے ذریعے فراہم کیے جائیں اور تمام اہل و لائسنس یافتہ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ برابر اور شفاف سلوک کیا جائے۔
تنظیموں نے اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کارکنوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے اور کارکن بھیجنے والے ممالک کی تسلیم شدہ ریکروٹمنٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ بامعنی مشاورت کا بھی مطالبہ کیا۔
مطالبہ ملائیشیا یا ڈیجیٹل بھرتی کے خلاف نہیں
چاروں تنظیموں نے اپنے مشترکہ مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان ملائیشیا یا ڈیجیٹل بھرتی کے نظام کے خلاف نہیں ہے۔
ان کے مطابق بنیادی مطالبہ شفافیت، جواب دہی، مساوی مواقع اور ایسی بھرتی کے نظام کا ہے جس میں اجارہ داری یا مخصوص گروہوں کا غیر ضروری کنٹرول نہ ہو۔
یہ وضاحت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملائیشیا غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو مزید ڈیجیٹل بنانے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کا مؤقف یہ ہے کہ ڈیجیٹل نظام کو اس انداز میں نافذ کیا جائے کہ اس سے عمل تیز اور شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ تمام اہل اداروں کے لیے منصفانہ مواقع بھی برقرار رہیں۔
غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر اثرات
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکن مختلف شعبوں کی افرادی قوت کا حصہ ہیں، جبکہ بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان اور میانمار ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں کارکن بیرون ملک روزگار کے لیے جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے ملائیشیا کے بھرتی نظام میں تبدیلیاں نہ صرف مقامی آجروں بلکہ کارکن بھیجنے والے ممالک کی ریکروٹمنٹ ایجنسیوں اور ممکنہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
چاروں تنظیموں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ بھرتی کا نظام واضح اصولوں، یکساں مواقع اور شفاف طریقہ کار پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ قانونی طور پر کام کرنے والی ایجنسیوں کو مساوی رسائی حاصل ہو اور کارکنوں کی بھرتی کا عمل ذمہ دارانہ انداز میں جاری رہے۔
چاروں اداروں کے مشترکہ مؤقف کے بعد ملائیشیا میں غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے نظام میں شفافیت اور مساوی رسائی سے متعلق مطالبات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ تنظیموں نے اس معاملے میں ملائیشیا کی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت اور نظام کے جائزے پر زور دیا ہے۔

COMMENTS