پتراجایا: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایسے افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے جو بدعنوانی، اختیارات کے...
پتراجایا: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایسے افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے جو بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں گے۔ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے واضح کیا ہے کہ محکمہ اب ایسے اہلکاروں کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
زکریا شعبان نے کہا کہ یہ پالیسی محکمہ امیگریشن میں ادارہ جاتی دیانت داری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ہر افسر اور اہلکار کو اپنے سپرد کیے گئے اختیارات اور ذمہ داریوں کو مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ کو بعض اہلکاروں کے ممکنہ طور پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں جن میں پاسپورٹس کی غیر قانونی نقل و حرکت، کاؤنٹر سیٹنگ اور غیر معمولی طریقے سے ٹمپریری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) کی منظوری شامل ہے۔
زکریا شعبان نے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی ماہانہ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں کئی مرتبہ اہلکاروں کو خبردار کر چکے ہیں، تاہم اب مزید وارننگ یا یاد دہانی نہیں کرائی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر کسی اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ امیگریشن کے اہلکاروں کو اپنے کام میں مکمل دیانت داری اختیار کرنی چاہیے اور کسی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی سرگرمی کو فوری طور پر روک دینا چاہیے، اس سے پہلے کہ محکمہ ان کے خلاف کارروائی کرے۔
مائی آئی ایم ایم ایس ہیکنگ کیس بھی زیر تحقیقات
یہ سخت موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملائیشیا کے ملائشیا امیگریشن سسٹم ، یعنی مائی آئی ایم ایم ایس، کی ہیکنگ سے متعلق ایک معاملہ بھی تحقیقات میں ہے۔ اس کیس میں خاص طور پر غیر مجاز طریقے سے پی ایل کے ایس کی درخواستوں اور منظوری کے عمل کو نشانہ بنائے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
زکریا شعبان کے مطابق محکمہ امیگریشن کو ابتدائی طور پر اس معاملے میں اپنے بعض افسران اور اہلکاروں کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کی معلومات مل چکی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور ملائشیا اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) اس معاملے پر مل کر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے پہلے ہی دن متعلقہ افسران کے بارے میں معلومات حاصل کر لی گئی تھیں، تاہم کارروائی فوری طور پر کرنے کے بجائے مزید شواہد جمع کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
ان کے مطابق اس کا مقصد صرف چند افراد تک کارروائی محدود کرنے کے بجائے اس سرگرمی میں شامل تمام افراد اور ممکنہ طور پر اس کے پیچھے موجود اہم کرداروں تک پہنچنا تھا۔
زکریا شعبان نے کہا کہ متعلقہ اہلکاروں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ معاملہ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق محکمہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مناسب وقت پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
پانچ مزید امیگریشن افسران گرفتار
مائی آئی ایم ایم ایس ہیکنگ کیس میں پیش رفت کے طور پر گزشتہ منگل کو ایم اے سی سی نے مزید پانچ امیگریشن افسران کو حراست میں لیا تھا۔ ان افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے مائی آئی ایم ایم ایس سسٹم کو ہیک کرنے اور پی ایل کے ایس کی غیر مجاز درخواستوں اور منظوری سے متعلق سرگرمیوں میں مبینہ طور پر تعاون کیا۔
یہ معاملہ آپس کریک کے تحت کی جانے والی تحقیقات سے منسلک ہے۔ پی ایل کے ایس ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے جاری کیا جانے والا ٹمپریری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس ہے، اس لیے اس نظام میں غیر مجاز تبدیلیاں یا منظوری امیگریشن اور غیر ملکی کارکنوں کے انتظام سے براہ راست متعلق معاملہ بنتی ہے۔
امیگریشن ڈائریکٹر جنرل نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایسے پی ایل کے ایس منسوخ کیے جائیں گے جن کے بارے میں شناخت ہو جائے کہ انہیں مائی آئی ایم ایم ایس ہیک کرنے والے مبینہ سنڈیکیٹ کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے منظور کیا گیا تھا۔
تمام امیگریشن معاملات کی نگرانی جاری
زکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ امیگریشن سے متعلق تمام لین دین اور کارروائیوں کی نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
انہوں نے محکمہ کے دیگر اہلکاروں کو بھی موجودہ تحقیقات سے سبق سیکھنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی افسر اس وقت کسی غلط سرگرمی میں ملوث ہے تو اسے کارروائی سے پہلے اپنی سرگرمی روک دینی چاہیے۔
محکمہ کی جانب سے اس معاملے میں دیانت داری اور نگرانی پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غیر ملکی کارکنوں کے ورک پرمٹ، پی ایل کے ایس کی منظوری اور امیگریشن نظام سے متعلق معاملات اہم انتظامی اور قانونی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔
پی ایل کے ایس کی منظوری کا عمل غیر ملکی کارکنوں کے ملائیشیا میں قانونی روزگار سے براہ راست منسلک ہے۔ اس لیے کسی بھی غیر مجاز منظوری یا نظام میں مداخلت سے نہ صرف امیگریشن ریکارڈ متاثر ہو سکتا ہے بلکہ متعلقہ کارکنوں اور آجروں کے قانونی معاملات بھی متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
حالیہ تحقیقات میں امیگریشن اہلکاروں کے مبینہ کردار کی جانچ اسی تناظر میں کی جا رہی ہے۔ حکام کی جانب سے مزید کارروائی تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیے جانے کی توقع ہے۔
زکریا شعبان نے واضح کیا ہے کہ محکمہ ایسے اہلکاروں کا تحفظ نہیں کرے گا جو بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث پائے جائیں گے۔ ان کے مطابق محکمہ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام افسران اپنے اختیارات کو قانون، قواعد اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے مطابق استعمال کریں۔

COMMENTS