ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے کوالالمپور میں دو مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے جعلی پاسپورٹ تیار کرنے والے ایک مبینہ گروہ کا سرغنہ سمی...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے کوالالمپور میں دو مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے جعلی پاسپورٹ تیار کرنے والے ایک مبینہ گروہ کا سرغنہ سمیت تین انڈونیشی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران مختلف ممالک کے 119 جعلی پاسپورٹ، ایک پرنٹر، موبائل فونز اور نقد رقم بھی برآمد کی گئی، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے بتایا کہ یہ کارروائیاں گزشتہ رات تقریباً 11 بجے کوالالمپور کے علاقوں تامن سری کوچنگ اور تامن بکیت چیراس میں کی گئیں۔ گرفتار ہونے والوں میں دو مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 30 سے 50 سال کے درمیان ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ہونے والا مرکزی ملزم تعمیراتی شعبے کے لیے جاری کیے گئے ٹمپرری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس کا حامل تھا، جبکہ دیگر دو غیر ملکی اپنے قانونی قیام کی مدت سے زیادہ عرصہ ملائیشیا میں مقیم تھے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق یہ گروہ وادیٔ کلانگ میں ایسے غیر ملکیوں کو نشانہ بناتا تھا جو غیر ملکی کارکنوں کے لازمی طبی معائنے میں ناکام ہو جاتے تھے یا انہیں طبی لحاظ سے کام کے لیے نااہل قرار دیا جاتا تھا۔ ایسے افراد کو دوبارہ کامیاب ظاہر کرنے کے لیے گروہ مبینہ طور پر پاسپورٹ میں جعلسازی اور رد و بدل کی خدمات فراہم کرتا تھا۔
حکام کے مطابق گروہ ہر جعلی یا تبدیل شدہ پاسپورٹ کے عوض 80 سے 130 ملائیشین رنگٹ وصول کرتا تھا تاکہ متعلقہ افراد جعلی دستاویزات استعمال کرتے ہوئے ہیلتھ اسکریننگ کا عمل مکمل کر سکیں۔
ڈائریکٹر جنرل زکریا شعبان نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے اسی طرزِ عمل استعمال کرنے والے گروہوں کے خلاف یہ پانچویں کامیاب کارروائی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیگریشن حکام اس نوعیت کی سرگرمیوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
آپریشن کے دوران امیگریشن حکام نے 119 جعلی پاسپورٹ قبضے میں لیے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انڈونیشیا، میانمار، بنگلہ دیش، ویتنام، بھارت اور نیپال کے شہریوں سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ ایک پرنٹر، متعدد موبائل فونز اور 1,500 رنگٹ نقد رقم بھی برآمد کی گئی، جسے حکام نے اس غیر قانونی سرگرمی سے حاصل ہونے والی آمدن قرار دیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزم کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 12(1)(ایف) کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر دو گرفتار افراد پر دفعہ 6(1)(سی) کے تحت ملائیشیا میں غیر قانونی طور پر قیام کرنے کا شبہ ہے۔
تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے پوتراجایا امیگریشن آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر اس نیٹ ورک سے مزید افراد یا گروہ منسلک پائے گئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران امیگریشن حکام نے جعلی دستاویزات، غیر قانونی ورک پاسز اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کے اندراج، طبی معائنے اور امیگریشن نظام میں شفافیت برقرار رکھنا اور جعلسازی کے ذریعے قانون سے بچنے کی کوششوں کو روکنا ہے۔

COMMENTS