ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کے امیگریشن حراستی مراکز میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود ہونے کے...
ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کے امیگریشن حراستی مراکز میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف امیگریشن قوانین کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ان کے مطابق امیگریشن قوانین پر عمل درآمد قومی سلامتی، خودمختاری اور قانونی نظام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت غیر ملکیوں کی آمد کے خلاف نہیں ہے، بلکہ ملائیشیا ایک ایسا ملک ہے جو بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کا خیرمقدم کرتا ہے، چاہے وہ سیاحت، کاروبار یا روزگار کے لیے ہی کیوں نہ آئیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ہر غیر ملکی کو ملک میں قیام کے دوران ملائیشیا کے امیگریشن قوانین اور ضوابط کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔
سیف الدین ناسوشن اسماعیل کے مطابق، اگر کوئی غیر ملکی بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں داخل ہوتا ہے، مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرتا ہے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس وقت ملائیشیا بھر میں موجود 19 امیگریشن حراستی مراکز اپنی مقررہ گنجائش سے زیادہ افراد کو رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری آپریشنز میں کمی نہیں کرے گی کیونکہ یہ اقدامات ملکی سلامتی اور عوامی مفاد سے جڑے ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ امیگریشن نفاذی کارروائیاں صرف گرفتاریاں کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کا مقصد امیگریشن نظام کو منظم رکھنا، غیر قانونی قیام کی روک تھام کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ تمام غیر ملکی افراد درست سفری اور رہائشی دستاویزات کے ساتھ ملائیشیا میں موجود ہوں۔
ملائیشیا میں امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت بغیر اجازت داخل ہونا، ویزا یا پاس کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں قیام کرنا، یا امیگریشن شرائط کی خلاف ورزی کرنا قابلِ سزا جرائم ہیں۔ اسی قانون کے تحت امیگریشن ڈیپارٹمنٹ وقتاً فوقتاً ملک کے مختلف حصوں میں نفاذی کارروائیاں کرتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں حکومت نے مختلف ریاستوں میں متعدد مشترکہ آپریشنز کیے ہیں جن میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، جعلی دستاویزات کے استعمال اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد صرف قانون نافذ کرنا ہی نہیں بلکہ امیگریشن نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنا بھی ہے۔
حکام کے مطابق حراستی مراکز پر دباؤ بڑھنے کے باوجود متعلقہ ادارے انتظامی اور قانونی اقدامات کے ذریعے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف ممالک کے سفارتی مشنز کے تعاون سے زیر حراست غیر ملکیوں کی شناخت، سفری دستاویزات کی تصدیق اور وطن واپسی کے عمل پر بھی کام جاری ہے۔
وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملائیشیا میں کام کرنے یا رہنے کے خواہشمند تمام غیر ملکی افراد اور ان کے آجر کو چاہیے کہ وہ قانونی طریقہ کار پر مکمل عمل کریں، ضروری اجازت نامے حاصل کریں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھے گی اور قانون شکنی کے خلاف کارروائیاں ملکی قوانین کے مطابق جاری رہیں گی۔

COMMENTS