ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے سیلنگور کے علاقے بندر مہکوٹا چیراس میں ایک خصوصی کارروائی کے دوران آٹھ میانمار شہریوں کو گرف...
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے سیلنگور کے علاقے بندر مہکوٹا چیراس میں ایک خصوصی کارروائی کے دوران آٹھ میانمار شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے جو غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے ٹمپرری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) فراہم کرنے میں ملوث تھا۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتک زکریا شعبان نے بتایا کہ یہ کارروائی ہفتے کے روز شام 3:50 بجے شروع کی گئی۔ آپریشن پوتراجایا امیگریشن ہیڈکوارٹر کے انٹیلی جنس اینڈ اسپیشل آپریشنز ڈویژن نے کیا، جبکہ اس کی بنیاد 28 جولائی کو ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کے ساتھ مشترکہ طور پر کیے گئے "آپریشن کریک" کے دوران حاصل ہونے والی معلومات تھیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ہونے والی ایک میانمار خاتون کا تعلق ایک ایسے میانمار شہری سے ہے جسے اس مبینہ نیٹ ورک کا سرغنہ سمجھا جا رہا ہے۔ مذکورہ شخص کو اس سے قبل مائی آئی ایم ایم ایس کیس میں ہونے والی مشترکہ کارروائی کے دوران ایم اے سی سی اور امیگریشن حکام نے گرفتار کیا تھا۔
اس کارروائی میں مجموعی طور پر آٹھ افراد گرفتار کیے گئے، جن میں ایک مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان کی عمریں 29 سے 56 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا کہ یہ افراد ممکنہ آجروں کے پاس بھیجے جانے کے انتظار میں تھے۔
امیگریشن حکام کی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ گرفتار خاتون کے پاس سروس سیکٹر کے لیے جاری کیا گیا پی ایل کے ایس موجود تھا، جبکہ چار دیگر خواتین مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود ملائیشیا میں مقیم تھیں۔ اس کے علاوہ ایک مرد اور دو خواتین کے پاس نہ تو درست امیگریشن پاس موجود تھا اور نہ ہی کوئی قانونی سفری دستاویز۔
کارروائی کے دوران حکام نے 16 میانمار پاسپورٹس، مشتبہ جعلی پی ایل کے ایس کی نقول، غیر ملکی کارکنوں کی فراہمی سے متعلق مختلف دستاویزات اور ایک ٹویوٹا یارس گاڑی بھی ضبط کی، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اسے نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک رواں سال کے آغاز سے سرگرم تھا اور مبینہ طور پر ایسے پی ایل کے ایس فراہم کر رہا تھا جو ملائیشیا کے مائی آئی ایم ایم ایس امیگریشن سسٹم میں ہونے والی سکیورٹی خلاف ورزی کے ذریعے غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ نیٹ ورک کلانگ ویلی کے مختلف علاقوں میں آجروں کو غیر ملکی کارکن بھی فراہم کرتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کی جانب سے ہر غیر ملکی کارکن کے بدلے 8,000 رنگٹ سے 10,000 رنگٹ تک وصول کیے جاتے تھے۔ اس رقم کے عوض کارکنوں کے لیے پی ایل کے ایس حاصل کرنے اور انہیں مختلف کمپنیوں یا آجروں تک پہنچانے کا بندوبست کیا جاتا تھا۔
تمام گرفتار افراد کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور پاسپورٹ ایکٹ 1966 کی مختلف دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ بعد ازاں انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے پوتراجایا امیگریشن آفس منتقل کر دیا گیا۔
داتک زکریا شعبان نے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس مبینہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان، سہولت کاروں اور اس سے وابستہ افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔ ان کے مطابق امیگریشن ڈیپارٹمنٹ ایسے تمام عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو ملکی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اعلان کر چکا ہے کہ مائی آئی ایم ایم ایس سسٹم کے ذریعے غیر قانونی طور پر منظور کیے گئے 1,306 پی ایل کے ایس منسوخ کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مائی آئی ایم ایم ایس سسٹم میں مبینہ مداخلت کے کیس میں 12 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے چھ اہلکار بھی شامل تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سسٹم میں غیر قانونی مداخلت کے ذریعے ورک پاس کی منظوری میں مبینہ تعاون کیا۔
حکام کے مطابق موجودہ کارروائی اسی وسیع تحقیقات کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر قانونی ورک پاس نیٹ ورکس کا خاتمہ، امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور غیر قانونی طور پر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔

COMMENTS