ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے ایک ایسے ’فلائنگ پاسپورٹ‘ سنڈیکیٹ کے خلاف کارروائی کی ہے جو غیر ملکی شہریوں کے پاسپورٹس جمع ...
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) نے ایک ایسے ’فلائنگ پاسپورٹ‘ سنڈیکیٹ کے خلاف کارروائی کی ہے جو غیر ملکی شہریوں کے پاسپورٹس جمع کرکے ان کے حقیقی طور پر سرحدی چیک پوائنٹ پر موجود ہوئے بغیر جعلی امیگریشن موومنٹ ریکارڈ تیار کرنے میں ملوث تھا۔
یہ کارروائی جمعرات کو جوہر کے گیلانگ پاتاہ میں واقع سلطان ابو بکر کمپلیکس (کے ایس اے بی) میں کی گئی۔ کارروائی کے دوران 33 سے 41 سال عمر کے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے بتایا کہ کارروائی صبح 10 بجے شروع کی گئی۔ یہ آپریشن امیگریشن ہیڈکوارٹرز پتراجایا کے انٹیلی جنس اینڈ سپیشل آپریشنز ڈیویژن اور جوہر امیگریشن کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر کیا۔
حکام کے مطابق کارروائی سے پہلے اس معاملے سے متعلق تحقیقات اور معلومات جمع کی گئی تھیں۔ یہ تازہ کارروائی پہلے سے جاری آپس کریک کی تحقیقات میں سامنے آنے والی پیش رفت کے بعد کی گئی، جس میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ملائیشین اینٹی کریشن کمیشن (ایم اے سی سی) کے ساتھ مل کر کام کیا۔
پاسپورٹ ہولڈرز کی غیر موجودگی میں جعلی ریکارڈ
تحقیقات کے مطابق مبینہ سنڈیکیٹ کا طریقہ کار یہ تھا کہ غیر ملکی شہریوں کے پاسپورٹس جمع کیے جاتے تھے۔ پاسپورٹ کے مالک کو خود امیگریشن چیک پوائنٹ پر موجود ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
سنڈیکیٹ کے ایجنٹس پاسپورٹ کے سامنے والے بائیوڈیٹا صفحے کی کاپی یا تصویر واٹس ایپ کے ذریعے اپنے مبینہ ساتھیوں کو بھیجتے تھے۔ اس کے بعد متعلقہ معلومات کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے سسٹم میں اسکین کیا جاتا تھا۔
اس عمل کے ذریعے ایسا امیگریشن موومنٹ ریکارڈ بنایا جاتا تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ متعلقہ غیر ملکی شہری نے ملائیشیا کے بارڈر چیک پوائنٹ سے گزر کر ملک میں داخلہ یا خروج کیا ہے، حالانکہ پاسپورٹ ہولڈر حقیقت میں وہاں موجود نہیں ہوتا تھا۔
یہی طریقہ ’فلائنگ پاسپورٹ‘ کے نام سے بیان کیا گیا ہے، کیونکہ ریکارڈ میں پاسپورٹ کی نقل و حرکت ظاہر کی جاتی تھی جبکہ اصل پاسپورٹ ہولڈر کی جسمانی موجودگی نہیں ہوتی تھی۔
ہر پاسپورٹ پر 700 رنگٹ فیس
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مبینہ سنڈیکیٹ اس سروس کے عوض ہر غیر ملکی پاسپورٹ پر 700 رنگٹ وصول کرتا تھا۔
اس معاملے میں حکام نے کارروائی کے دوران متعدد اشیا بھی قبضے میں لیں۔ ان میں موبائل فونز، مختلف مقامات کی چابیاں، زیورات، امیگریشن کے سیکیورٹی اسٹیمپس اور 20,000 رنگٹ نقد رقم شامل ہے۔
یہ اشیا مزید تحقیقات کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں کیونکہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جعلی امیگریشن موومنٹ ریکارڈ تیار کرنے کے عمل میں مزید کون سے افراد یا سہولت کار شامل تھے۔
تین مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات
کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے تینوں مشتبہ افراد کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ 1966 کے سیکشن 12(1)(ایچ) کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
گرفتاری کے بعد مشتبہ افراد کو مزید کارروائی کے لیے امیگریشن آفس منتقل کیا گیا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل زکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ اس معاملے کی جامع تحقیقات جاری رکھے گا تاکہ مبینہ سنڈیکیٹ کے وسیع نیٹ ورک اور اس سے منسلک دیگر افراد کی شناخت کی جا سکے۔
حکام یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جعلی امیگریشن موومنٹ ریکارڈ بنانے کے لیے استعمال ہونے والا طریقہ کار کس حد تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں مزید کون سے افراد یا گروپس شامل ہو سکتے ہیں۔
آپس کریک کے تناظر میں کارروائی
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا کا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ مائی آئی ایم ایم ایس سے متعلق ایک الگ معاملے کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔
آپس کریک کے تحت امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور ایم اے سی سی کی مشترکہ تحقیقات میں امیگریشن نظام کے غلط استعمال اور بعض امیگریشن کارروائیوں سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں۔
’فلائنگ پاسپورٹ‘ کے معاملے میں بھی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات آپس کریک سے سامنے آنے والی پیش رفت کے بعد آگے بڑھائی گئیں۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مقصد صرف گرفتاریاں کرنا نہیں بلکہ اس مبینہ نیٹ ورک کے پورے ڈھانچے اور اس سے وابستہ افراد کی شناخت کرنا ہے۔
امیگریشن ریکارڈ کی اہمیت
امیگریشن موومنٹ ریکارڈ کسی شخص کے ملک میں داخل ہونے یا ملک سے باہر جانے کی معلومات سے متعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کسی ایسے شخص کے نام پر جعلی ریکارڈ بنانا جو حقیقت میں متعلقہ بارڈر چیک پوائنٹ پر موجود نہ ہو، امیگریشن نظام کی نگرانی اور سرحدی ریکارڈ کی درستگی کے لیے ایک اہم معاملہ ہے۔
اسی وجہ سے امیگریشن حکام ایسے طریقوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جن کے ذریعے سرکاری نظام میں غلط معلومات داخل کی جا سکتی ہیں۔
تازہ کارروائی کے بعد امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ تحقیقات جاری رکھے گا اور اگر مزید افراد کے سنڈیکیٹ سے منسلک ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
زکریا شعبان کے مطابق محکمہ ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گا اور امیگریشن نظام کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے تحقیقات کو مکمل کیا جائے گا۔

COMMENTS