ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کوالالمپور کے یو ٹی سی پڈو سینٹرل امیگریشن دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق وائرل سوشل م...
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کوالالمپور کے یو ٹی سی پڈو سینٹرل امیگریشن دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق وائرل سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے پر پولیس رپورٹ درج کرا دی ہے۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل زکریا شعبان کے مطابق، محکمہ نے واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، دستیاب ریکارڈز اور ڈیوٹی پر موجود افسران کے بیانات کا جائزہ لیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بیان کیے گئے واقعے اور دستیاب معلومات میں کچھ تضادات سامنے آئے۔
زکریا شعبان نے اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے تاکہ واقعے کے اصل حالات کی تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر وضاحت کی جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے پولیس رپورٹ درج کرائی گئی ہے اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ عوام کے اس حق کا احترام کرتا ہے کہ وہ سرکاری خدمات سے متعلق اپنی شکایات یا تجربات کا اظہار کریں، تاہم کسی بھی معاملے کی منصفانہ جانچ کے لیے درست اور مکمل معلومات ضروری ہیں۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے مطابق محکمہ شکایات سے متعلق معاملات کو شفاف، پیشہ ورانہ اور غیر جانب دار انداز میں نمٹانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو خدمات کی فراہمی میں شائستگی اور دیانت داری کو برقرار رکھنا بھی محکمہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے دو روز قبل تھریڈز پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے یو ٹی سی پڈو سینٹرل امیگریشن دفتر میں اپنے مبینہ تجربے کے بارے میں شکایت کی۔
خاتون کے مطابق وہ اپنے پہلے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے کے سلسلے میں امیگریشن دفتر گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہاں موجود افسران نے ان پر پاسپورٹ کور چوری کرنے کا الزام عائد کیا۔
خاتون نے سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے شوہر کو ایک کمرے میں لے جایا گیا، جہاں تقریباً 10 امیگریشن افسران نے پاسپورٹ کور سے متعلق ان سے پوچھ گچھ کی۔
ان کے مطابق انہوں نے پاسپورٹ کور اس خیال سے اٹھایا تھا کہ وہ اسی پاسپورٹ کے ساتھ فراہم کیا گیا ہے جس کے لیے وہ درخواست دے رہی تھیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے افسران کو اس غلط فہمی کی وضاحت کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے دعوے کے مطابق انہیں بار بار روکا گیا اور اپنا مؤقف مکمل طور پر بیان کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ صورتحال کے دوران انہیں دو آپشنز دیے گئے۔ ان کے مطابق یا تو انہیں پولیس اسٹیشن لے جانے کی بات کی گئی یا پھر ایسا بیان لکھنے کو کہا گیا جس میں وہ پاسپورٹ کور چوری کرنے کا اعتراف کریں۔
خاتون نے بتایا کہ اس صورتحال کے دوران وہ اپنے دفاع میں اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہوئیں۔ بعد ازاں انہوں نے اس معاملے کے حوالے سے وزارت داخلہ میں شکایت بھی درج کرائی۔
تاہم امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے معاملے کے جائزے کے بعد ادارے نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیان کیے گئے واقعے میں بعض باتیں سی سی ٹی وی فوٹیج، ریکارڈز اور متعلقہ افسران کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اسی لیے معاملہ مزید تحقیقات کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
اس مرحلے پر پولیس رپورٹ کا اندراج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واقعے کے مختلف دعوؤں اور دستیاب شواہد کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ تحقیقات میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔
یہ معاملہ سرکاری امیگریشن خدمات استعمال کرنے والے افراد کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ شکایات یا کسی مبینہ واقعے کی صورت میں مکمل اور درست معلومات کی بنیاد پر تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔ موجودہ معاملے میں خاتون کا مؤقف سوشل میڈیا پر سامنے آیا، جبکہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے جائزے کی بنیاد پر مختلف معلومات کی نشاندہی کرتے ہوئے پولیس سے مزید کارروائی کی درخواست کی ہے۔

COMMENTS