ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے ورک پاس (پی ایل کے ایس) کی منظوری سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں عدالت نے 12 افراد کو ریمانڈ پر بھی...
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے ورک پاس (پی ایل کے ایس) کی منظوری سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں عدالت نے 12 افراد کو ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی مائی آئی ایم ایم ایس امیگریشن سسٹم کے مبینہ غلط استعمال اور مقررہ طریقہ کار کے بغیر غیر ملکی کارکنوں کے پاس منظور کرنے کے الزام کے بعد کی گئی۔
پوتراجایا مجسٹریٹ کورٹ میں مجسٹریٹ ایزرین ذکریاہ نے 29 جولائی کو ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کے ریمانڈ کے احکامات جاری کیے۔ عدالت نے پانچ مرد ملزمان کو تین روزہ جبکہ پانچ دیگر مردوں اور دو خواتین کو دو روزہ ریمانڈ پر بھیجنے کی اجازت دی تاکہ تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔
تحقیقات کے مطابق گرفتار افراد میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے چار افسران، محکمہ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ڈویژن کے دو اہلکار، دو کمپنی ڈائریکٹرز، تین غیر ملکی شہری اور ایک پولیس افسر شامل ہیں۔ تمام ملزمان کی عمریں تقریباً 30 سے 40 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ان افراد کو 28 جولائی کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاریاں ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کے ہیڈکوارٹر اور پینانگ امیگریشن آفس میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران عمل میں آئیں۔
ایم اے سی سی کے چیف کمشنر داتوک سری عبد حلیم امان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ گروہ نے 2011 میں مختص کیے گئے غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے کو استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ سرکاری لیوی ادا کیے بغیر پی ایل کے ایس منظور کروائے۔
تحقیقات میں اب تک 1,306 ایسے پی ایل کے ایس ورک پاسز کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے جاری کیے گئے۔ حکام کے اندازے کے مطابق اس مبینہ فراڈ کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 2.4 ملین رنگٹ کا مالی نقصان پہنچا۔
تحقیقاتی ادارے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہر پی ایل کے ایس درخواست کی منظوری کے لیے 1,000 رنگٹ سے 6,000 رنگٹ تک رقم بعض امیگریشن اہلکاروں کو ادا کی جاتی تھی تاکہ وہ مقررہ قواعد پر عمل کیے بغیر درخواستیں منظور کر دیں۔
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری طریقہ کار کے مطابق کسی بھی غیر ملکی کارکن کے لیے پی ایل کے ایس حاصل کرنے سے پہلے آجر کو متعلقہ منظوری حاصل کرنا اور مقررہ سرکاری لیوی ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی ویزا ود ریفرنس اور ٹمپرری ایمپلائمنٹ پاس کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ تفتیش کیس میں انہی قانونی مراحل کو مبینہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔
یہ کارروائی مئی 2026 سے ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ہونے والے انٹیلی جنس شیئرنگ کے نتیجے میں کی گئی۔ تحقیقات کا دائرہ کار کلانگ ویلی اور پینانگ تک پھیلا ہوا ہے، جہاں مختلف کمپنیوں اور سرکاری دفاتر کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔
اس مشترکہ آپریشن میں سائبر سیکورٹی ملائیشیا، ٹیلی کام ملائشیا اور ایم اے سی سی کے ٹیکنالوجی فارینزک ڈیویژن نے بھی تکنیکی معاونت فراہم کی۔ اس دوران پینانگ اور پوتراجایا میں کمپنیوں کے دفاتر اور امیگریشن دفاتر پر تلاشی بھی لی گئی۔
تحقیقات کے دوران حکام نے 186,360 رنگٹ نقد رقم، 700 سنگاپور ڈالر، تقریباً 15,700 رنگٹ مالیت کے سونے اور زیورات، جبکہ تقریباً 36,000 رنگٹ مالیت کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی ضبط کیے ہیں۔
یہ مقدمہ ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن ایکٹ 2009 کی سیکشن 16(اے) اور سیکشن 17(اے) کے تحت زیرِ تفتیش ہے، جو رشوت ستانی اور بدعنوانی سے متعلق جرائم کا احاطہ کرتی ہیں۔
عدالتی احکامات کے مطابق دو روزہ ریمانڈ حاصل کرنے والے سات افراد کا ریمانڈ 30 جولائی کو ختم ہونا تھا، جبکہ تین روزہ ریمانڈ پر بھیجے گئے پانچ ملزمان کا ریمانڈ 31 جولائی تک جاری رکھا گیا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔

COMMENTS