کوالالمپور: ملائیشیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید احسن رضا شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی اور عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران ملائی...
کوالالمپور: ملائیشیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید احسن رضا شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی اور عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران ملائیشیا اور پاکستان کو تنازعات سے نمٹنے کے اپنے تجربات اور سفارتی طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس شعبے میں تعاون ایک ’’اسٹریٹجک ضرورت‘‘ بن چکا ہے، کیونکہ ملائیشیا اور پاکستان دونوں کو جغرافیائی سیاسی اعتبار سے اہم مقام حاصل ہے اور حالیہ بعض تنازعات میں دونوں ممالک نے ثالث یا سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
سید احسن رضا شاہ نے یہ بات پیر کو برن اما ورلڈ کے پروگرام “ملائشیا اینڈ پاکستان: ڈپلومیسی فار پیس” میں ایک انٹرویو کے دوران کہی۔
ان کے مطابق ملائیشیا اور پاکستان نے حالیہ عرصے میں مختلف علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اور کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی بھی شامل ہے۔
ملائیشیا کا تھائی لینڈ، کمبوڈیا تنازع میں کردار
پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع کے دوران ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ایک پرسکون سفارتی طریقہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت آسیان کا موجودہ سفارتی طریقہ کار بھی دباؤ کا سامنا کر رہا تھا، تاہم ملائیشیا کی کوششوں نے فریقین کے درمیان جنگ بندی اور بعد میں کوالالمپور معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی۔
سید احسن کے مطابق اس تجربے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی تنازعات میں سفارتی رابطے اور ثالثی کا کردار اہم رہتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب موجودہ علاقائی نظام کو مشکلات کا سامنا ہو۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کا کردار
پاکستان کے کردار کے حوالے سے سید احسن نے کہا کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد کے لیے ایک مناسب پوزیشن میں تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات موجود ہیں، جبکہ امریکا بھی پاکستان کے اہم شراکت داروں میں شامل ہے۔
ان کے بقول اسی وجہ سے پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور مذاکرات میں مدد دینے کی کوشش کی۔
سید احسن نے کہا کہ اس وقت صورتحال کی پیش گوئی کرنا مشکل تھا کیونکہ امریکا اور ایران کے موقف میں کافی فرق موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور جغرافیائی تعلقات جبکہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے قریبی روابط نے اسلام آباد کو ثالثی اور رابطہ کاری کے لیے ایک منفرد پوزیشن فراہم کی۔
انہوں نے اسلام آباد معاہدے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس معاہدے پر فخر ہے۔
بدلتے حالات میں سفارت کاری کے نئے طریقے ضروری
پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کے حالیہ تجربات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ موجودہ دور میں ممالک کو سفارت کاری کے اپنے طریقوں کو تبدیل ہوتی ہوئی عالمی صورتحال کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیراعظم انور ابراہیم کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ’’پوسٹ نارمل دور‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حکمت عملی پہلے کے مقابلے میں زیادہ لچکدار ہونی چاہیے۔
سید احسن نے واضح کیا کہ سفارت کاری، تنازع اور ثالثی تین مختلف معاملات ہیں، اس لیے ہر تنازع کے لیے ایک ہی طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق ممالک کو ایک دوسرے کے بہترین تجربات سے سیکھنا چاہیے اور سفارتی کوششوں میں کامیاب طریقوں کا تبادلہ کرنا چاہیے۔
ثالثی میں اعتماد بنیادی عنصر ہے
سید احسن رضا شاہ نے کہا کہ کسی بھی ثالثی کی کوشش میں اعتماد سب سے اہم عنصر ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر تنازع میں شامل فریق ثالث کو ایک ایماندار اور خیرخواہ فریق کے طور پر قبول نہ کریں تو مذاکرات کو آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق ثالث کو فوری طور پر پورے تنازع کو حل کرنے کے بجائے مرحلہ وار پیش رفت پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران رکاوٹیں آنا معمول کی بات ہے، اس لیے ثالث کو صبر سے کام لینا چاہیے اور مشکل صورتحال میں سیاسی بیانات یا سخت بیان بازی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ طریقہ مذاکرات کو مسلسل جاری رکھنے اور فریقین کے درمیان اعتماد برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انور ابراہیم کے سفارتی روابط کی تعریف
پاکستانی ہائی کمشنر نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی روابط قائم کرنے کی صلاحیت کو بھی سراہا۔
ان کے مطابق عالمی رہنماؤں کے ساتھ براہ راست اور ذاتی تعلقات نے ملائیشیا کی جانب سے مختلف تنازعات کو کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مدد فراہم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول میں ایسے روابط سفارتی کوششوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب مختلف ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہوں۔
جغرافیائی تنازعات کے معاشی اثرات بھی ہو سکتے ہیں
سید احسن نے وسیع تر جغرافیائی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی تنازع کے اثرات صرف اس کے جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتے۔
ان کے مطابق ایک ملک یا خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی دوسرے ممالک پر بھی معاشی اور اسٹریٹجک اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا بھی عالمی اور علاقائی تنازعات کے ممکنہ معاشی اور اسٹریٹجک اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سفارتی تجربات کا تبادلہ دونوں ممالک کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں تنازعات سے نمٹنے کے مختلف طریقوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
دونوں ممالک کے سفارتی تجربات میں ایک اہم مماثلت یہ ہے کہ دونوں نے مختلف مواقع پر براہ راست فریق بننے کے بجائے مذاکرات، رابطہ کاری اور ثالثی کے ذریعے تنازعات کو کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔
سید احسن کے مطابق مستقبل کی سفارت کاری میں باہمی اعتماد، مرحلہ وار مذاکرات، تجربات کا تبادلہ اور بدلتے حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرنا اہم رہے گا۔

COMMENTS