ملائیشیا اور پاکستان نے قیدیوں کی بین الاقوامی منتقلی سے متعلق معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک میں سزا کاٹنے والے بعض قید...
ملائیشیا اور پاکستان نے قیدیوں کی بین الاقوامی منتقلی سے متعلق معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک میں سزا کاٹنے والے بعض قیدیوں کو اپنی باقی سزا اپنے آبائی ملک میں مکمل کرنے کی اجازت مل سکے گی۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان قانونی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید منظم اور مضبوط بنانا ہے۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل کے مطابق انٹرنیشنل ٹرانسفر آف پریزنز ٹریٹی پر پاکستان کے وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات سید محسن رضا نقوی کے ساتھ دستخط کیے گئے۔ تقریب پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی، جس میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بھی شرکت کی۔
سیف الدین ناسوشن نے بتایا کہ یہ معاہدہ ملائیشیا اور پاکستان کے طویل عرصے سے جاری دوطرفہ تعلقات میں قانونی اور سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں سے متعلق معاملات کے لیے ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک قائم ہوگا۔
قیدی اپنی باقی سزا اپنے ملک میں مکمل کر سکیں گے
اس معاہدے کے تحت پاکستان میں قید ملائیشین شہریوں کو بعض مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں ملائیشیا واپس منتقل کیا جا سکے گا، جہاں وہ اپنی باقی سزا مکمل کریں گے۔
اسی طرح ملائیشیا کی جیلوں میں سزا کاٹنے والے پاکستانی قیدیوں کو بھی پاکستان منتقل کیا جا سکے گا تاکہ وہ اپنی باقی سزا اپنے ملک میں پوری کر سکیں۔
اس طریقہ کار سے قیدیوں کو اپنے خاندانوں، زبان اور معاشرتی ماحول کے قریب رہتے ہوئے سزا مکمل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ معاہدے کے مطابق اس سے متعلقہ قیدیوں کے لیے بحالی اور اصلاحی پروگرام بھی ان کے اپنے ملک کے ماحول اور ثقافتی ضروریات کے مطابق زیادہ موزوں انداز میں فراہم کیے جا سکیں گے۔
سیف الدین ناسوشن نے کہا کہ قیدیوں کی بحالی کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم کرنا بھی اس معاہدے کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس کا مقصد صرف قیدیوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنا نہیں بلکہ سزا کے باقی عرصے کے دوران اصلاح اور بحالی کے عمل کو بھی بہتر بنانا ہے۔
معاہدے کے لیے پانچ ادوار میں مذاکرات ہوئے
ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان اس معاہدے پر مذاکرات ستمبر 2025 سے جاری تھے۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پانچ ادوار میں مذاکرات ہوئے۔
ان مذاکرات میں ملائیشیا کی وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، اٹارنی جنرلز چیمبرز، ملائیشین جیلز ڈیپارٹمنٹ اور رائل ملائیشین پولیس سمیت متعلقہ اداروں نے حصہ لیا۔
ملائیشیا کی کابینہ نے بھی اس معاہدے کی منظوری 13 مئی 2026 کو دی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے معاہدے پر دستخط کے لیے قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کیے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو ایک اضافی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے قیدیوں کی منتقلی کے معاملات کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا جا سکے گا۔
پاکستان اور ملائیشیا کے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعاون کا حصہ
قیدیوں کی منتقلی کا معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا اور پاکستان مختلف سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے معاملات میں تعاون بڑھانے پر بھی بات کر رہے ہیں۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران منشیات کے خلاف کارروائی، سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور پولیس کی تربیت سمیت مختلف معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان منشیات کے خلاف تعاون کو مزید منظم کرنے کے لیے ایک ممکنہ مفاہمت کی یادداشت پر بھی بات ہوئی ہے۔ اس تناظر میں قیدیوں کی منتقلی کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان قانونی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتا ہے۔
قیدیوں کی منتقلی کے ایسے معاہدوں کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ مخصوص حالات میں بیرون ملک سزا کاٹنے والے افراد کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکے۔ اس عمل میں متعلقہ دونوں ممالک کے قوانین، عدالتی فیصلوں اور معاہدے میں طے شدہ شرائط کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اس لیے معاہدے پر دستخط کا مطلب یہ نہیں کہ تمام قیدی خودکار طور پر اپنے ملک منتقل ہو جائیں گے۔ منتقلی کا عمل متعلقہ قانونی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق ہوگا۔
سیف الدین ناسوشن کے مطابق یہ معاہدہ ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے جاری تعلقات میں ایک نیا قانونی طریقہ کار شامل کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایسے تعاون کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔
یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان صرف سیکیورٹی تعاون تک محدود نہیں بلکہ قانونی، ادارہ جاتی اور عوامی سطح کے روابط کو بھی مزید منظم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ قیدیوں کی منتقلی کا باقاعدہ فریم ورک خاص طور پر ان معاملات میں اہم ہوسکتا ہے جہاں کسی شہری کو بیرون ملک سزا کا سامنا ہو اور متعلقہ قانونی شرائط کے تحت اسے اپنے ملک میں باقی سزا مکمل کرنے کا راستہ دستیاب ہو۔

COMMENTS