ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اسٹر...
ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم مواقع فراہم کر گیا۔
سیف الدین ناسوشن نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے مطابق انہوں نے دونوں اعلیٰ پاکستانی رہنماؤں تک وزیراعظم انور ابراہیم کا پیغام پہنچایا۔ اس پیغام میں ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان پہلے سے موجود دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ایسے اسٹریٹجک تعاون کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو۔
سیف الدین نے کہا کہ انہیں پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کا موقع ملنے پر خوشی ہوئی۔ انہوں نے دونوں پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے اپنے اور ملائیشیا کے وفد کے لیے کیے گئے گرمجوش استقبال کو بھی سراہا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات باہمی احترام اور تعاون پر قائم ہیں اور حالیہ دورے نے ان تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کا موقع فراہم کیا۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سیکیورٹی تعاون
دورے کے دوران بنیادی توجہ ملائیشیا کی وزارت داخلہ اور پاکستان کے متعلقہ اداروں کے دائرہ کار میں آنے والے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے شعبوں پر رہی۔
دونوں ممالک نے پولیس تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، سرحدی انتظام، امیگریشن، سائبر سیکیورٹی اور دہشت گردی کی روک تھام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اس کے علاوہ سرحد پار جرائم، منشیات کے استعمال اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کو بھی تعاون کے اہم شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی سے متعلق معاملات میں تعاون بھی دونوں ممالک کے وسیع تر سیکیورٹی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
دورے کے اہم نتائج میں انٹرنیشنل ٹرانسفر آف پریزنرز ٹریٹی پر دستخط بھی شامل ہیں۔ اس معاہدے کے تحت مخصوص شرائط کے تحت ایک ملک میں قید دوسرے ملک کے شہری کو اپنی باقی سزا اپنے وطن میں مکمل کرنے کے لیے منتقل کیا جا سکے گا۔
یہ معاہدہ ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان قانونی اور سیکیورٹی تعاون کے دائرہ کار میں ایک اہم اضافہ ہے۔
مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اصولی اتفاق
سیف الدین کے مطابق ملائیشیا اور پاکستان نے دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اصولی اتفاق کیا ہے۔
اس گروپ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور دیگر متعلقہ معاملات میں رابطہ اور تعاون کو مزید منظم کرنا ہوگا۔
دونوں جانب سے پولیس اور انٹیلی جنس تعاون کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے درمیان تجربات اور معلومات کے تبادلے پر بھی زور دیا گیا۔
ڈیجیٹل شناخت اور سرکاری خدمات میں تعاون
ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ دورے کے دوران پاکستان کے ڈیجیٹل شناختی نظام اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تجربات کا جائزہ لینے کا موقع بھی ملا۔
ان کے مطابق ملائیشیا پاکستان کے تجربات اور بہترین طریقہ کار سے سیکھ سکتا ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل شناخت اور عوامی خدمات کی ٹیکنالوجی پر مبنی فراہمی کے شعبوں میں۔
یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی کے روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل نظام اور سرکاری خدمات کے جدید طریقوں تک پھیلنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
تجارت، خوراک اور فضائی رابطوں پر بھی بات چیت
سیف الدین نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں سیکیورٹی کے علاوہ دیگر ممکنہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان شعبوں میں تجارت، غذائی تحفظ، فضائی رابطے اور دیگر اسٹریٹجک شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے ایسے شعبوں کی نشاندہی پر بھی بات کی جہاں تعاون سے ملائیشیا اور پاکستان دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے مطابق دورے کے دوران سامنے آنے والی ان تجاویز کو وزیراعظم انور ابراہیم اور متعلقہ وزارتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ ان پر مزید غور اور آئندہ کے اقدامات طے کیے جا سکیں۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان پہلے سے سفارتی، تجارتی، عوامی اور ثقافتی تعلقات موجود ہیں۔ حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ان تعلقات کو مزید عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے سیکیورٹی، امیگریشن، قانون نافذ کرنے، تجارت، فضائی رابطوں اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں کو زیر بحث لایا گیا۔
سیف الدین نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم قریبی تعلقات مستقبل میں مزید اسٹریٹجک، باہمی فائدہ مند اور عملی تعاون کے ذریعے مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے پاکستان حکومت کی جانب سے اپنے اور ملائیشیا کے وفد کے لیے کیے گئے انتظامات اور استقبال کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعاون جاری رہنا چاہیے۔

COMMENTS