صباح میں حکام نے ایسے غیر ملکی سیاحوں کے خلاف امیگریشن کارروائی مزید سخت کر دی ہے جو سوشل وزٹ پاس پر ملائیشیا میں داخل ہونے کے بعد غیر قانون...
صباح میں حکام نے ایسے غیر ملکی سیاحوں کے خلاف امیگریشن کارروائی مزید سخت کر دی ہے جو سوشل وزٹ پاس پر ملائیشیا میں داخل ہونے کے بعد غیر قانونی معاشی سرگرمیوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق خاص طور پر صباح کے علاقے سیمپورنا میں ایسے معاملات سامنے آنے کے بعد نگرانی اور قانون نافذ کرنے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے بتایا کہ حکام نے ایسے غیر ملکی شہریوں کے معاملات کا پتہ لگایا ہے جو سیاح کے طور پر ملک میں داخل ہوئے، لیکن بعد میں کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔
وزیر داخلہ کے مطابق بعض غیر ملکی افراد نے مقامی رہائشیوں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ریزورٹ سے متعلق کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان سرگرمیوں میں ریزورٹ سروسز کی ملکیت یا انتظام چلانے جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی غیر ملکی شہری جس پاس کے ذریعے ملائیشیا میں سیاحت یا مختصر مدت کے لیے داخل ہوا ہو، اسی پاس کو استعمال کرتے ہوئے ایسی معاشی یا کاروباری سرگرمی شروع کر دے جس کی اس پاس کے تحت اجازت نہیں ہوتی۔
سوشل وزٹ پاس بنیادی طور پر مختصر مدت کے دورے اور دیگر منظور شدہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینا امیگریشن قوانین کے تحت کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے اور غیر ملکی سیاحوں کی سرگرمیوں پر نگرانی بڑھائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں توجہ بڑھائی گئی ہے جہاں سیاحت کے ساتھ ساتھ ریزورٹس، رہائش اور دیگر کاروباری سرگرمیاں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
سیمپورنا صباح کا ایک اہم سیاحتی علاقہ ہے جہاں سمندری سیاحت، جزائر، ریزورٹس اور دیگر سیاحتی سرگرمیاں موجود ہیں۔ اس وجہ سے یہ علاقہ غیر ملکی سیاحوں اور سیاحت سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
حکام کی جانب سے سامنے آنے والے معاملات میں بعض غیر ملکی افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاحتی مقصد کے لیے ملنے والے پاس کا استعمال کرتے ہوئے مقامی افراد کے ساتھ مل کر کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ایسے معاملات میں امیگریشن حکام کے لیے یہ جانچنا ضروری ہوتا ہے کہ غیر ملکی شہری ملک میں کس مقصد کے تحت داخل ہوا اور آیا اس کی موجودہ سرگرمیاں اس کے پاس کی شرائط کے مطابق ہیں یا نہیں۔
حکومت کی جانب سے اس کارروائی کا مقصد غیر ملکی سیاحوں کو روکنا نہیں بلکہ ان افراد کے خلاف قانون نافذ کرنا ہے جو اپنے پاس کی مقررہ شرائط سے ہٹ کر سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ قانونی طور پر ملک میں آنے والے سیاحوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے معاملات میں فرق رکھنا بھی اس عمل کا اہم حصہ ہے۔
صباح میں سیاحت مقامی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں ریاست کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں حکام کے لیے ایک طرف سیاحوں کی آمد کو آسان رکھنا اور دوسری طرف امیگریشن اور کاروباری قوانین کی پابندی یقینی بنانا ضروری ہے۔
غیر ملکی شہریوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ملائیشیا میں داخلے کے وقت اپنے پاس کی شرائط کو سمجھیں اور انہی حدود کے اندر رہیں۔ اگر کسی شخص کو کاروباری سرگرمی میں شامل ہونا ہو تو اسے متعلقہ قوانین اور اجازت ناموں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے، کیونکہ صرف سوشل وزٹ پاس کسی غیر ملکی شہری کو ہر قسم کی کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا۔
حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا کے حکام غیر ملکی شہریوں کی جانب سے امیگریشن پاس کے ممکنہ غلط استعمال پر توجہ دے رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں سیاحتی پاس کے تحت داخل ہونے والے افراد بعد میں کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں، حکام تحقیقات اور نفاذ کے اقدامات کر سکتے ہیں۔
وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق حکومت ایسے معاملات کی نگرانی جاری رکھے گی اور جہاں قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو گی وہاں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اس صورتحال میں غیر ملکی سیاحوں، مقامی کاروباری شراکت داروں اور ریزورٹ آپریٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے لیے مقررہ قوانین اور امیگریشن شرائط کی پابندی کریں۔ اس سے نہ صرف قانونی مسائل سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ صباح کے سیاحتی شعبے میں کاروباری سرگرمیوں کو بھی مقررہ قانونی دائرے میں رکھنے میں مدد ملے گی۔

COMMENTS