کوالالمپور: ملائیشیا کی شاہی پولیس (پی ڈی آر ایم) نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم روانہ کر دی ہے، جس کی وجہ چند...
کوالالمپور: ملائیشیا کی شاہی پولیس (پی ڈی آر ایم) نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم روانہ کر دی ہے، جس کی وجہ چند ملائیشین شہریوں کی گرفتاری ہے جو مبینہ طور پر آن لائن فراڈ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے سرغنہ سمجھے جاتے ہیں۔
ملائیشیا کے پولیس سربراہ تان سری محمد خالد اسماعیل کے مطابق پاکستان میں گرفتار ہونے والے ملائیشین شہریوں کی حتمی تعداد ابھی واضح نہیں ہو سکی، کیونکہ ابتدائی تحقیقاتی عمل تاحال جاری ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وزارتِ داخلہ نے انہیں اس معاملے سے متعلق آگاہ کیا ہے اور اس نوعیت کے کیس کے لیے مربوط اور مشترکہ کارروائی ضروری ہے، جو نہ صرف اداروں کے درمیان بلکہ حکومتِ ملائیشیا اور حکومتِ پاکستان کی سطح پر بھی درکار ہے۔
پولیس سربراہ کے مطابق پی ڈی آر ایم پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ ارکان کا سراغ لگانے اور اسے مکمل طور پر بے نقاب کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بین الاقوامی میڈیا نے حالیہ دنوں میں پاکستانی حکام کی جانب سے اسلام آباد کے نواحی علاقے گلبرگ گرین میں کی گئی ایک بڑے پیمانے کی کارروائی کی رپورٹ دی۔ اس چھاپے کا نشانہ ایک مبینہ فراڈ کال سینٹر تھا، جہاں سے 258 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار افراد میں 170 ویتنامی، 40 چینی شہریوں کے علاوہ ملائیشیا اور دیگر ایشیائی ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔
اس ضمن میں محمد خالد نے بتایا کہ حالیہ رجحانات کے مطابق آن لائن فراڈ کی سرگرمیوں میں غیر ملکی شہریوں، خصوصاً چینی باشندوں کی شمولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس خطرے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے پی ڈی آر ایم کے کمرشل کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (جے ایس جے کے) کی حالیہ کامیابی کا حوالہ دیا، جس نے ملائیشیا کو فراڈ آپریشنز کا مرکز بنانے کی کوشش ناکام بنائی۔
محمد خالد نے بتایا کہ گزشتہ ماہ جے ایس جے کے نے 182 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا تھا جو ملائیشیا کو آن لائن فراڈ کی سرگرمیوں کا اڈہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، جو اس مسئلے کی سنگینی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل اسکیم رسپانس سینٹر (این ایس آر سی) کو روزانہ 500 سے زائد شکایات موصول ہو رہی ہیں، اور ہر موصولہ رپورٹ پر فوری پولیس کارروائی کی جاتی ہے تاکہ جے ایس جے کے فوری تعاقبی اقدامات کر سکے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں آن لائن فراڈ کے نیٹ ورکس ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکے ہیں، جن میں اکثر بین الاقوامی سطح پر منظم گروہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ساتھ ملا کر کال سینٹرز اور آن لائن اسکیمنگ آپریشنز چلاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان، کمبوڈیا اور میانمار جیسے ممالک میں اس نوعیت کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں غیر ملکی شہری مقامی سہولیات اور کمزور نگرانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فراڈ نیٹ ورکس قائم کرتے ہیں۔ ملائیشیا کی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

COMMENTS