اسلام آباد میں فراڈ کال سینٹر کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا 32 سالہ ملائیشین شہری رہا ہونے کے بعد بحفاظت ملائیشیا واپس پہنچ گیا ...
اسلام آباد میں فراڈ کال سینٹر کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا 32 سالہ ملائیشین شہری رہا ہونے کے بعد بحفاظت ملائیشیا واپس پہنچ گیا ہے۔ ملائیشیا کے کمرشل کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وہ اس خصوصی کارروائی میں گرفتار ہونے والا واحد ملائیشین شہری تھا۔
بکیٹ امان کے کمرشل کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر داتوک روسدی محمد عیسیٰ نے تصدیق کی کہ مذکورہ شخص کو پاکستانی حکام نے رہا کر دیا ہے اور وہ اپنے ملک واپس پہنچ چکا ہے۔
روسدی محمد عیسیٰ نے ہفتے کے روز برنامہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اسے رہا کر دیا گیا ہے اور وہ ملائیشیا واپس آ چکا ہے۔"
انہوں نے بتایا کہ جے ایس جے کے اب 32 سالہ شخص کا بیان ریکارڈ کرے گا تاکہ پاکستان میں ہونے والے واقعے سے متعلق مزید تحقیقات میں مدد مل سکے۔ اس مرحلے پر پولیس اس کے پاکستان میں قیام اور مبینہ فراڈ کال سینٹر سے ممکنہ تعلق سے متعلق معلومات حاصل کرے گی۔
یہ معاملہ اسلام آباد میں ایک مبینہ فراڈ کال سینٹر کے خلاف پاکستانی حکام کی خصوصی کارروائی کے بعد سامنے آیا تھا۔ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 258 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں مذکورہ ملائیشین شہری بھی شامل تھا۔
ملائیشین پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والا 32 سالہ شخص اس کارروائی میں حراست میں لیا جانے والا واحد ملائیشین شہری تھا۔ اس کی گرفتاری کے بعد معاملے کی مزید معلومات حاصل کرنے اور تحقیقات میں تعاون کے لیے ملائیشیا کی جانب سے پولیس افسران کو پاکستان بھیجا گیا تھا۔
اس سے قبل ملائیشیا کے چیف آف پولیس، تان سری محمد خالد اسماعیل نے بتایا تھا کہ ایک پولیس ٹیم پاکستان روانہ کی گئی ہے تاکہ وہاں گرفتار ملائیشین شہری سے متعلق تحقیقات میں مدد کی جا سکے۔ اس ٹیم کا مقصد پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے معاملے کی تفصیلات معلوم کرنا تھا۔
اب شہری کی رہائی کے بعد وہ ملائیشیا واپس پہنچ چکا ہے۔ تاہم جے ایس جے کے کی جانب سے اس کا بیان ریکارڈ کیا جانا باقی ہے، جس کے بعد پاکستانی کارروائی میں اس کی موجودگی اور مبینہ کال سینٹر سے کسی ممکنہ تعلق کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
فراڈ کال سینٹرز عام طور پر ایسی غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک ہوتے ہیں جن میں لوگوں کو فون، آن لائن پلیٹ فارمز یا دیگر ذرائع کے ذریعے دھوکا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے مراکز کے خلاف کارروائی کے دوران مختلف ممالک کے شہری بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیے جا سکتے ہیں، جس کے بعد ان کی قانونی حیثیت اور کسی ممکنہ کردار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
موجودہ معاملے میں دستیاب معلومات کے مطابق ملائیشین شہری کو پاکستانی حکام نے رہا کر دیا ہے اور وہ ملائیشیا واپس پہنچ چکا ہے۔ ملائیشیا کی پولیس اب اس کا بیان ریکارڈ کرکے واقعے سے متعلق مزید حقائق جاننے کی کوشش کرے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہری ان 258 غیر ملکی افراد میں شامل تھا جنہیں اسلام آباد میں کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم دستیاب معلومات میں اس کے خلاف کسی جرم میں ملوث ہونے کی حتمی تصدیق یا کسی عدالت کی جانب سے سزا کی اطلاع نہیں دی گئی۔
ملائیشیا کے حکام کی جانب سے شہری کا بیان ریکارڈ کیے جانے کے بعد تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ فی الحال پولیس کی توجہ اس بات پر ہے کہ واقعے کے تمام متعلقہ حقائق اور شہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں۔

COMMENTS