ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کا انکشاف ہوا ہے جو میانمار کے شہریوں سے غیر قانونی راستوں کے ذریعے ملائیشی...
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کا انکشاف ہوا ہے جو میانمار کے شہریوں سے غیر قانونی راستوں کے ذریعے ملائیشیا پہنچانے کے لیے 11 ہزار ملائیشین رنگٹ جبکہ نیپالی شہریوں سے 7 ہزار رنگٹ فی کس وصول کرتا تھا۔ حکام کے مطابق دونوں گروہوں کو کوالالمپور میں مزدوری کی ملازمتوں کا وعدہ کرکے ملک میں داخل کیا جاتا تھا۔
یہ معلومات جنرل آپریشنز فورس کی جنوب مشرقی بریگیڈ کی کارروائی کے دوران سامنے آئیں، جس میں آٹھ غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد میں چار میانمار کے شہری اور چار نیپالی شہری شامل ہیں۔ دونوں کارروائیاں منگل کے روز کوتا بھارو بس ٹرمینل پر کی گئیں۔
جنرل آپریشنز فورس کے جنوب مشرقی بریگیڈ کے کمانڈر سینئر اسسٹنٹ کمشنر احمد رضی حسین نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اسمگلنگ کا یہ نیٹ ورک غیر قانونی راستوں کے ذریعے غیر ملکیوں کو ملائیشیا لانے کے بعد انہیں کوالالمپور بھیجتا تھا، جہاں انہیں مزدور کے طور پر کام دلانے کا وعدہ کیا جاتا تھا۔
پہلی کارروائی صبح 7 بجے کی گئی، جس میں 19 سے 28 سال عمر کے چار میانمار کے شہری گرفتار ہوئے۔ تحقیقات کے مطابق انہیں پہلے کشتی کے ذریعے تھائی لینڈ سے ملائیشیا لایا گیا، جہاں وہ دریائے کلانتن کے کنارے واقع ایک غیر قانونی جیٹی پر اترے۔
حکام کے مطابق ہر میانمار شہری نے اپنے آبائی ملک سے ملائیشیا تک کے سفر کے لیے 11 ہزار رنگٹ ادا کیے تھے۔ بعد ازاں انہیں کوتا بھارو بس ٹرمینل پہنچایا گیا تاکہ وہ وہاں سے کوالالمپور جا کر مزدوری کا کام شروع کر سکیں۔
احمد رضی حسین نے مزید بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے بعد جی او ایف بٹالین 7 کی ٹیم نے اسی مقام پر تین نیپالی مردوں اور ایک نیپالی خاتون کو حراست میں لیا۔ انہیں ایک ہونڈا اکورڈ گاڑی کے ذریعے بس ٹرمینل پر چھوڑا گیا تھا، تاہم گاڑی کا ڈرائیور حکام کو دیکھتے ہی موقع سے فرار ہو گیا۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ نیپالی شہریوں کو کمپونگ نیلایان بارو، تمپات کے ساحلی علاقے سے کشتی کے ذریعے ملائیشیا میں داخل کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں بھی کوتا بھارو بس ٹرمینل پہنچایا گیا تاکہ وہ کوالالمپور روانہ ہو سکیں۔
حکام کے مطابق ہر نیپالی شہری نے اپنے ملک سے ملائیشیا پہنچنے کے لیے 7 ہزار رنگٹ ادا کیے تھے۔ انہیں بھی کوالالمپور میں مزدوری کی ملازمت فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
جانچ پڑتال کے دوران تمام آٹھ افراد کوئی بھی درست سفری دستاویزات پیش نہ کر سکے۔ ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ تمام افراد ملائیشیا میں غیر تسلیم شدہ راستوں کے ذریعے داخل ہوئے۔
کارروائی کے دوران حکام نے مختلف برانڈز کے آٹھ موبائل فون بھی قبضے میں لیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 12 ہزار رنگٹ بتائی گئی ہے۔ ان موبائل فونز کو تحقیقات کے لیے اہم شواہد کے طور پر ضبط کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس مقدمے کی تحقیقات امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت کی جا رہی ہیں۔ گرفتار تمام غیر قانونی تارکین وطن کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے کوتا بھارو ضلعی پولیس ہیڈکوارٹر کے کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا میں غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے تاکہ غیر قانونی داخلے اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جا سکے۔

COMMENTS