ملائیشیا میں گندی، خطرناک اور مشکل سمجھی جانے والی ملازمتوں، جنہیں عام طور پر 3ڈی جابز (ڈرٹی, ڈینجرس اینڈ ڈیفیکلٹ) کہا جاتا ہے، کے لیے مقا...
ملائیشیا میں گندی، خطرناک اور مشکل سمجھی جانے والی ملازمتوں، جنہیں عام طور پر 3ڈی جابز (ڈرٹی, ڈینجرس اینڈ ڈیفیکلٹ) کہا جاتا ہے، کے لیے مقامی افراد کی جانب سے درخواستوں کی تعداد انتہائی کم سامنے آئی ہے۔ ملک بھر میں دسیوں ہزار خالی آسامیوں کے باوجود مائی فیوچر جابز پورٹل پر صرف 352 ملائیشین شہریوں نے ان ملازمتوں کے لیے درخواست دی۔
انسانی وسائل کے وزیر داتوک سری آر رامانن کے مطابق حکومت کی پالیسی کے تحت 3ڈی ملازمتوں میں پہلے ملائیشین شہریوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ ملازمتیں مائی فیوچر جابز پر پیش کی جاتی ہیں اور مقامی شہری انہیں قبول کرنے کے لیے آگے نہیں آتے، تو اس کے بعد ہی غیر ملکی کارکنوں، پناہ گزینوں یا دیگر افراد کے لیے بھرتی کا راستہ کھولا جاتا ہے۔
وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مقامی درخواستوں کی تعداد اب بھی بہت کم ہے، جبکہ 3ڈی شعبے میں کارکنوں کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
تھری ڈی ملازمتوں سے مراد عام طور پر ایسے کام ہیں جو جسمانی طور پر مشکل، خطرناک یا ایسے ماحول میں انجام دیے جاتے ہیں جہاں کام کے حالات نسبتاً سخت ہوتے ہیں۔ تعمیرات، صفائی، مینوفیکچرنگ، زرعی کام اور بعض دیگر شعبے ایسی ملازمتوں کی مثالیں فراہم کرتے ہیں۔ ان شعبوں میں مسلسل افرادی قوت کی ضرورت کے باوجود مقامی کارکنوں کی دلچسپی کم رہنے کا مسئلہ ملائیشیا میں پہلے بھی زیر بحث رہا ہے۔
رامانن کے بیان کے مطابق حکومت کا موجودہ طریقہ کار یہ ہے کہ کسی شعبے میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے پہلے مقامی افرادی قوت کو مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے ملازمتوں کو مائی فیوچر جابز جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے مقامی شہریوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ اگر مناسب تعداد میں مقامی درخواست دہندگان دستیاب نہ ہوں تو پھر غیر ملکی کارکنوں سمیت دیگر گروپس سے افرادی قوت حاصل کرنے پر غور کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں مختلف صنعتوں کو کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے۔ خاص طور پر ایسے کام جنہیں 3ڈی کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے، ان میں ملازمین کی دستیابی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کاروباری اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ مطلوبہ تعداد میں کارکن دستیاب ہوں تاکہ روزمرہ آپریشنز اور مختلف منصوبے جاری رہ سکیں۔
دوسری جانب ملائشین ہیومینٹیرین آرگنائزیشن (ایم ایچ او) نے 3ڈی شعبے کے لیے 15,000 غیر ملکی کارکنوں کی درخواستوں کو تیز کرنے کے منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے وزیراعظم کے دفتر میں ایک احتجاجی یادداشت بھی جمع کرائی ہے۔
ایم ایچ او کے سیکریٹری جنرل داتوک ہشام الدین ہاشم نے تجویز دی کہ ان ملازمتوں میں ملائیشیا کی بے وطن کمیونٹی کے افراد کو بھی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایسے بہت سے افراد کئی نسلوں سے ملائیشیا میں مقیم ہیں اور انہیں ملک کی افرادی قوت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ہشام الدین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ایک طرف 3ڈی شعبے میں موجود افرادی قوت کی کمی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ دوسری جانب بے وطن افراد کو ملک میں کام کرنے اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع مل سکتا ہے۔
تاہم، حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ قومی لیبر پالیسیوں میں ملک اور اس کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح حاصل رہے گی۔ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق فیصلے بھی اسی وسیع پالیسی فریم ورک کے تحت کیے جاتے ہیں۔
352 درخواستوں کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ یہ مقامی افرادی قوت اور 3ڈی شعبے میں موجود ملازمتوں کی طلب کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر مقامی شہری مطلوبہ تعداد میں ان ملازمتوں کے لیے درخواست نہیں دیتے تو آجروں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ذرائع سے کارکن حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اس صورتحال میں حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ مقامی شہریوں کو ان ملازمتوں کی طرف راغب کیا جائے اور انہیں روزگار کے ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جو ان کی ضروریات اور توقعات کے مطابق ہوں۔ ساتھ ہی ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے مناسب شرائط، تحفظ اور دیگر سہولیات بھی افرادی قوت کی دستیابی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر دستیاب معلومات کے مطابق ملائیشیا میں 3ڈی ملازمتوں کے لیے مقامی درخواست دہندگان کی تعداد بہت کم ہے، جبکہ ان شعبوں میں کارکنوں کی ضرورت موجود ہے۔ حکومت پہلے مقامی شہریوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ مقامی درخواست دہندگان کی کمی کی صورت میں غیر ملکی کارکنوں سمیت دیگر افراد کو بھرتی کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

COMMENTS