الور اسٹار: ملائیشیا کے صوبہ کیدہ میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے "اوپ ساپو" کے تحت ایک بڑے آپریشن کے دوران کوالہ کیدہ کے ایک تعمیراتی ...
الور اسٹار: ملائیشیا کے صوبہ کیدہ میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے "اوپ ساپو" کے تحت ایک بڑے آپریشن کے دوران کوالہ کیدہ کے ایک تعمیراتی مقام سے 81 غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات اور عوام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاع کی بنیاد پر کی گئی، جس کا مقصد امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔
محکمہ امیگریشن نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ آپریشن گزشتہ روز صبح 9 بج کر 50 منٹ پر شروع ہوا۔ کارروائی میں انفورسمنٹ ڈویژن کے امیگریشن ایکشن یونٹ کے 19 افسران نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 127 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں ملائیشین شہری اور غیر ملکی دونوں شامل تھے۔
جانچ کے بعد 81 غیر قانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں 73 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں۔ ان میں 42 بنگلہ دیشی، 26 انڈونیشی، 10 میانمار کے شہری، ایک پاکستانی اور دو بھارتی شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تمام گرفتار افراد پر امیگریشن قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں کا شبہ ہے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بعض افراد کے پاس ملائیشیا میں قیام کے لیے درست ویزا، پاس یا ورک پرمٹ موجود نہیں تھا، جبکہ کچھ افراد مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ قیام کر رہے تھے۔ چند افراد پر اپنے جاری کردہ پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان تمام معاملات کی تحقیقات امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت جاری ہیں۔
اسی کارروائی کے دوران تحقیقات میں معاونت کے لیے ایک گواہ کو فارم 29 کے تحت سمن بھی جاری کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کیس سے متعلق مزید معلومات اور شواہد حاصل کرنا ہے تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
گرفتار کیے گئے تمام غیر قانونی تارکینِ وطن کو پہلے محکمہ امیگریشن منتقل کیا گیا، جہاں ان کی دستاویزات اور شناختی معلومات کی تصدیق کی گئی۔ بعد ازاں انہیں مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے امیگریشن ڈپو بھیج دیا گیا۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا کہ ریاست بھر میں ایسے انفورسمنٹ آپریشنز مستقبل میں بھی بلا تعطل جاری رہیں گے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ایسے آجروں اور افراد کے خلاف بھی سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو ملازمت دیتے ہیں یا انہیں پناہ فراہم کرتے ہیں۔
حکام نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کو غیر قانونی تارکینِ وطن یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق معلومات ہوں تو وہ کیدہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کو فون، ای میل یا پبلک کمپلینٹس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اطلاع فراہم کریں۔ حکام کے مطابق عوامی تعاون سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور قانون پر مؤثر عمل درآمد میں مدد ملتی ہے۔
ملائیشیا میں وقتاً فوقتاً مختلف ریاستوں میں امیگریشن آپریشنز کیے جاتے ہیں تاکہ ایسے غیر ملکیوں کی نشاندہی کی جا سکے جو بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہوں، ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کر رہے ہوں یا اپنے ورک پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔ حالیہ "اوپ ساپو" بھی انہی جاری انفورسمنٹ اقدامات کا حصہ ہے، جس کے ذریعے حکومت امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

COMMENTS