پاکستان اور ملائیشیا نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور...
پاکستان اور ملائیشیا نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط، سکیورٹی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بات ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل کے پاکستان کے دورے کے دوران سامنے آئی۔ ملائیشین وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں پاکستانی قیادت اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجارت اور سرمایہ کاری پر توجہ
پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے ملائیشیا کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مذہب، ثقافت، باہمی احترام اور عوامی روابط کی مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔
ملاقات کے دوران دوطرفہ تجارت بڑھانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کے لیے زیادہ وسیع رسائی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے جن مصنوعات کی ملائیشیا کی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر بات کی گئی، ان میں چاول، آلو، گندم اور مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات شامل ہیں۔
اس حوالے سے تجارتی روابط میں اضافے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔
سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سکیورٹی تعاون بھی ملاقاتوں کا اہم حصہ رہا۔ صدر آصف علی زرداری نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، منشیات کی روک تھام اور انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں مضبوط بنانے پر زور دیا۔
اس سے قبل ملائیشیا کے وزیر داخلہ اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ملاقات میں بھی انسداد دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن اور سائبر کرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
دونوں ممالک نے ان شعبوں میں معلومات کے تبادلے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی بات کی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور تجربات کے تبادلے کو بھی تعاون کے اہم شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون بڑھانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت
پاکستان اور ملائیشیا نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی تارکین وطن کے معاملات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
دونوں ممالک کے لیے غیر قانونی نقل و حرکت اور انسانی اسمگلنگ ایک اہم قانون نافذ کرنے کا معاملہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان کاروباری، سفری اور روزگار کے روابط موجود ہیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ نے اس حوالے سے کہا کہ ملائیشیا کے ساتھ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں تعاون کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان 14 پروازیں ہفتہ وار
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے صدر آصف علی زرداری کو بتایا کہ اس وقت پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان ہفتے میں 14 پروازیں چل رہی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ زیادہ فضائی روابط سے کاروباری افراد، سیاحوں، طلبہ اور دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے دیگر افراد کے لیے آمدورفت آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح کے روابط بڑھانے کی کوششوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ویزا سہولت اور پاکستانی کارکنوں کے لیے مواقع
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان ملاقاتوں میں سیاحت اور ویزا سہولت پر بھی بات چیت ہوئی۔ پاکستان کی طرف سے ملائیشیا کو پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم سفری اور روزگار کی منزل قرار دیا گیا۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کے کوٹے میں اضافہ ہونے سے مزید پاکستانی شہری قانونی طریقے سے ملائیشیا میں ملازمت حاصل کر سکیں گے۔
یہ معاملہ پاکستان سے ملائیشیا جانے والے کارکنوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ قانونی ورک پرمٹ اور باقاعدہ بھرتی کے طریقہ کار کے ذریعے روزگار کے مواقع حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان ویزا سہولت بہتر بنانے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان سفر اور رابطوں کو بڑھانا ہے۔
قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط
پاکستان اور ملائیشیا نے سکیورٹی اور قانونی تعاون کے سلسلے میں انٹرنیشنل ٹرانسفر آف پریزنرز ٹریٹی پر بھی دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدہ ایسے پاکستانی اور ملائیشین قیدیوں کی منتقلی کا راستہ فراہم کرتا ہے جو دوسرے ملک میں اپنی سزا کاٹ رہے ہوں۔ اس معاہدے کے تحت مخصوص قانونی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ملائیشیا میں سزا کاٹنے والے پاکستانی قیدیوں کو باقی سزا اپنے ملک میں مکمل کرنے کے لیے منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں قید ملائیشین شہریوں کے لیے بھی اسی نوعیت کی منتقلی ممکن ہوگی۔
اس نظام کا مقصد قیدیوں کو اپنے ملک کے قانونی، سماجی اور ثقافتی ماحول سے زیادہ مطابقت رکھنے والے بحالی پروگراموں تک رسائی فراہم کرنا بھی ہے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود قانونی اور سکیورٹی تعاون میں ایک نیا قانونی فریم ورک شامل کرتا ہے۔
تعلقات میں مزید تعاون کی گنجائش
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان حالیہ رابطوں میں واضح طور پر کئی شعبوں کو باہمی تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔ ان میں تجارت، سرمایہ کاری، سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تعاون، منشیات کے خلاف کارروائی، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام، ویزا سہولت، فضائی رابطے اور عوامی سطح کے تعلقات شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ثقافتی روابط بھی موجود ہیں۔ حالیہ ملاقاتوں میں ان روابط کو تجارت، سفر، سکیورٹی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے مزید آگے بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔

COMMENTS