ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک پاکستانی شہری کو مبینہ طور پر سرکاری گاڑیوں پر استعمال ہونے والا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا لوگو اور وارنن...
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک پاکستانی شہری کو مبینہ طور پر سرکاری گاڑیوں پر استعمال ہونے والا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا لوگو اور وارننگ لائٹس اپنی گاڑی پر استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر عمل میں لائی گئی۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل زکریا شعبان کے مطابق پاکستانی شہری کو ایک خصوصی آپریشن کے دوران گزشتہ روز شام 4 بج کر 30 منٹ پر سیٹاپک کے پی وی3 پلاٹینم ہل کنڈومینیم سے گرفتار کیا گیا۔ حکام نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی تھیں، جس میں ایک گاڑی پر امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا سرکاری لوگو اور وارننگ لائٹس استعمال ہوتی دکھائی گئی تھیں۔
زکریا شعبان نے بتایا کہ ویڈیو میں ایک غیر ملکی شہری کو ایسی گاڑی استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا جس پر امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا لوگو موجود تھا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے کے بعد حکام نے اس شخص کی شناخت اور گاڑی کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کیں۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو دراصل اپریل 2025 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم اسے حال ہی میں اس شخص کی اہلیہ نے 7 اگست کو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر اپ لوڈ کیا تھا۔ حکام کے مطابق اس وقت پاکستانی شہری کی اہلیہ انڈونیشیا میں موجود تھیں اور ویڈیو بھی وہیں سے اپ لوڈ کی گئی۔
کارروائی کے دوران امیگریشن حکام نے اسی مقام سے ایک انڈونیشین خاتون کو بھی گرفتار کیا جو ملک میں مقررہ مدت سے زیادہ قیام کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ دو انڈونیشین پاسپورٹس بھی برآمد کیے گئے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ دیگر افراد سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستانی شہری کے قبضے میں تھے۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق پاکستانی شہری کے خلاف پاسپورٹس ایکٹ 1966 کی دفعہ 12(1)(ایف) اور امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب گرفتار کی گئی انڈونیشین خاتون کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 15(1)(سی) کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
گرفتاریوں کے بعد آپریشن ٹیم نے ویڈیو میں نظر آنے والی گاڑی کی تلاش بھی شروع کی۔ حکام نے ایک ٹویوٹا ہائی لکس کو کوالالمپور کے جالن کوچنگ میں واقع ایک کار واش سے ٹریس کیا، جس کے بارے میں شبہ تھا کہ یہی وہ گاڑی ہے جو وائرل ویڈیو میں دکھائی گئی تھی۔
امیگریشن حکام نے گاڑی کے مالک کو بھی گرفتار کر لیا، جو خود ایک پاکستانی شہری ہے۔ اس کارروائی کے دوران مزید آٹھ غیر ملکی کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان آٹھ افراد میں چار بنگلہ دیشی، تین پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔
گاڑی کے مالک کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 55بی کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جبکہ گرفتار کیے گئے آٹھ غیر ملکی کارکنوں کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اسی قانون کی دفعہ 6(1)(سی) کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، کیونکہ ان کے پاس درست سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
زکریا شعبان کے مطابق گاڑی کے مالک نے ابتدائی تحقیقات کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے گاڑی پر امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا لوگو اور سمت کی نشاندہی کرنے والی وارننگ لائٹس ذاتی استعمال کے لیے لگائی تھیں۔ اس نے حکام کو بتایا کہ گاڑی کو کسی سرکاری مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا تھا۔
گاڑی کے مالک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ گاڑی پر سرکاری امیگریشن لوگو اور وارننگ لائٹس لگانا ایک جرم یا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے مطابق وائرل ویڈیو سامنے آنے سے پہلے ہی گاڑی سے لوگو اور وارننگ لائٹس ہٹا دی گئی تھیں۔
یہ کارروائی ملائیشیا میں امیگریشن حکام کی جانب سے غیر ملکی شہریوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری نگرانی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ اس واقعے میں ایک ہی کارروائی کے دوران مختلف نوعیت کے مبینہ امیگریشن جرائم کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں سرکاری علامت کے مبینہ غیر مجاز استعمال، زائد مدت قیام اور درست سفری دستاویزات کے بغیر ملک میں موجودگی شامل ہیں۔
اس کیس میں حکام کی کارروائی سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو سے شروع ہوئی، جس کے بعد مختصر وقت میں متعلقہ افراد اور گاڑی تک رسائی حاصل کی گئی۔ امیگریشن حکام نے ویڈیو میں موجود معلومات کو استعمال کرتے ہوئے پہلے مشتبہ پاکستانی شہری کو گرفتار کیا اور بعد میں ٹویوٹا ہائی لکس تک پہنچ کر اس کے مالک اور دیگر غیر ملکی کارکنوں کو حراست میں لیا۔
اب گرفتار افراد کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ حتمی قانونی کارروائی اور کیس کے اگلے مرحلے کا انحصار تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد اور متعلقہ حکام کے فیصلوں پر ہوگا۔

COMMENTS