وزیراعظم کی ہدایت پر ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل کو 15 ہزار غیر ملکی کارکنوں کی زیر التوا درخواستوں پر فوری کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا...
وزیراعظم کی ہدایت پر ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل کو 15 ہزار غیر ملکی کارکنوں کی زیر التوا درخواستوں پر فوری کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا ہے جہاں غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت موجود ہے، تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور مختلف صنعتوں کی ضروریات بروقت پوری کی جا سکیں۔
یہ اعلان حکومتِ اتحاد کے ترجمان داتک سری فہمی فاضل نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ ان کے مطابق کابینہ نے غیر ملکی کارکنوں کی درخواستوں سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا اور وزارتِ انسانی وسائل کو ہدایت دی کہ پہلے مرحلے میں 15 ہزار درخواستوں کی پراسیسنگ جلد از جلد مکمل کی جائے۔
فہمی فاضل نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کا مقصد ان شعبوں کو درکار افرادی قوت فراہم کرنا ہے جہاں ملازمین کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو تسلسل ملے گا بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مختلف شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت موجود ہے، اس لیے درخواستوں پر غیر ضروری تاخیر سے بچنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت وزارتِ انسانی وسائل کو فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ قانونی طریقہ کار کے مطابق درخواستوں کا فیصلہ کیا جا سکے۔
اس پیش رفت کا تعلق حکومت کے اس حالیہ فیصلے سے بھی ہے جس کے تحت غیر ملکی کارکنوں کے لیے قائم ون اسٹاپ سینٹر کا مکمل انتظام وزارتِ انسانی وسائل کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ یکم جولائی کو کابینہ کے اجلاس میں منظور کیا گیا تھا۔
ون اسٹاپ سینٹر کا مقصد غیر ملکی کارکنوں سے متعلق مختلف سرکاری مراحل کو ایک ہی نظام کے تحت مربوط کرنا ہے تاکہ درخواستوں کی جانچ، منظوری اور انتظامی عمل زیادہ مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا ہوگی اور درخواست گزاروں کو بھی سہولت ملے گی۔
ملائیشیا میں تعمیرات، مینوفیکچرنگ، شجرکاری، زراعت اور خدمات سمیت کئی شعبے غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کرتے ہیں۔ ان شعبوں میں کارکنوں کی کمی پیدا ہونے سے منصوبوں، پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت وقتاً فوقتاً افرادی قوت کی ضروریات کا جائزہ لے کر متعلقہ وزارتوں کو مناسب اقدامات کی ہدایت دیتی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ درخواستوں کی جلد پراسیسنگ کا مقصد صرف ضرورت مند شعبوں کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنا ہے، جبکہ تمام درخواستوں پر موجودہ قوانین، ضوابط اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس عمل کے ذریعے قانونی تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

COMMENTS