ملائیشیا کی ریاست صباح میں جلد ایسے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹم کی آزمائش کی جائے گی جو روایتی موبائل ٹاور یا فائبر انفراسٹرکچر کے بجائے براہِ راس...
ملائیشیا کی ریاست صباح میں جلد ایسے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹم کی آزمائش کی جائے گی جو روایتی موبائل ٹاور یا فائبر انفراسٹرکچر کے بجائے براہِ راست موبائل فونز کو انٹرنیٹ سے منسلک کر سکے گا۔ اس ٹیکنالوجی کو دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بہتر بنانے کے لیے آزمایا جائے گا، جہاں روایتی ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر قائم کرنا مشکل یا وقت طلب ہوتا ہے۔
وزیر مواصلات داتوک سری فہمی فضیل کے مطابق صباح میں کئی مقامات کو اس ٹیکنالوجی کی آزمائش کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ یہ تجربہ نیشنل ڈیجیٹل نیٹورک پلان(جندیلا) فیز 2 کے تحت ہونے والی پروف آف کونسیپٹ سرگرمی کا حصہ ہوگا۔
فہمی فضیل نے بتایا کہ ٹیسٹ کے لیے صرف صباح ہی نہیں بلکہ صباح، سراواک اور جزیرہ نما ملائیشیا میں مناسب مقامات تلاش کیے جائیں گے۔ ان علاقوں کا انتخاب اس مقصد سے کیا جائے گا کہ براہِ راست موبائل فون سے سیٹلائٹ کنکشن فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی عملی طور پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
موبائل فون کو براہِ راست سیٹلائٹ سے کنکشن
ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس سیٹلائٹ انٹرنیٹ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں زمین پر موجود روایتی موبائل ٹاور کے بجائے سیٹلائٹ سے براہِ راست موبائل ڈیوائس تک کنکشن فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم مقصد ایسے علاقوں میں رابطے کی سہولت فراہم کرنا ہے جہاں موبائل ٹاور تعمیر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دور دراز پہاڑی علاقوں، جزائر اور کم آبادی والے علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے زیادہ وقت، وسائل اور لاجسٹک انتظامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
حکومت کے مطابق اسی وجہ سے ہر علاقے کے لیے صرف ٹاورز کی تعمیر پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل ٹیکنالوجیز بھی استعمال کی جائیں گی۔
جندیلا فیز 2 میں 300 سے زیادہ مقامات
وزیر مواصلات کے مطابق جندیلا فیز 2 جلد شروع ہونے کی توقع ہے اور اس مرحلے میں ملک بھر کے 300 سے زیادہ مقامات شامل ہوں گے۔
ان مقامات میں صباح اور سراواک کے علاقے بھی شامل ہیں۔ تاہم تمام مقامات پر ایک جیسا انفراسٹرکچر نہیں لگایا جائے گا۔ کچھ علاقوں میں نئے ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ دیگر مقامات پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ یا ایسی متبادل ٹیکنالوجیز استعمال کی جائیں گی جن کے لیے ٹاور تعمیر کرنا ضروری نہیں ہوگا۔
فہمی فضیل کے مطابق دور دراز آبادیوں کے لیے مختلف طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کی تعمیر میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں اور اس دوران مختلف لاجسٹک مشکلات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
اس لیے ایسے علاقوں میں جہاں ٹاور لگانا فوری یا عملی طور پر آسان نہیں، سیٹلائٹ پر مبنی رابطہ ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
صباح کے لیے نیا سب میرین کیبل منصوبہ
صباح کی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے لیے حکومت صرف سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ بڑے پیمانے پر سب میرین کیبل منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
وزیر مواصلات نے مدانی سب میرین کیبل کونیکشن منصوبے کو صباح کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم قرار دیا۔ اس منصوبے کے ذریعے صباح اور سراواک کے مختلف علاقوں کو تیز اور زیادہ مستحکم انٹرنیٹ کنکشن فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت سیدیلی، کوچنگ اور میری کو سراواک میں جبکہ تنجونگ آرو، سنداکان اور تواؤ کو صباح میں سب میرین کیبل نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔
فہمی فضیل کے مطابق سب میرین کیبل موجودہ لینڈنگ پوائنٹ تنجونگ آرو، کوتا کنابالو کے قریب سے صباح کے ساحلی علاقے کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے تواؤ تک جائے گی۔
یہ منصوبہ ریاست کے مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی ان علاقوں کے لیے ایک متبادل حل فراہم کر سکتی ہے جہاں روایتی انفراسٹرکچر کی تعمیر مشکل ہے۔
حکومت ڈیجیٹل منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائے گی
فہمی فضیل نے کہا کہ وزارت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صباح میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے منصوبے مقررہ وقت اور طے شدہ اخراجات کے مطابق مکمل کیے جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت عوام میں ڈیجیٹل خواندگی بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ کے استعمال اور آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں بہتر سمجھ بوجھ اس لیے اہم ہے کیونکہ انٹرنیٹ صارفین کو مختلف خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
ان خطرات میں آن لائن فراڈ، سائبر کرائم اور نقصان دہ مواد کا پھیلاؤ شامل ہے۔
پانچ سے چھ ہفتوں میں 2,000 سے زیادہ جعلی اکاؤنٹس
وزیر مواصلات کے مطابق ملائیشیا کے کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) نے گزشتہ پانچ سے چھ ہفتوں کے دوران ملک بھر میں 2,000 سے زیادہ جعلی اکاؤنٹس کا پتہ لگایا ہے۔
ان میں سے بعض اکاؤنٹس مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے، 3R سے متعلق مواد، آن لائن فراڈ اور آن لائن جوئے کی تشہیر کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
فہمی فضیل نے کہا کہ صباح بھی اس قسم کی سرگرمیوں سے متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے ایم سی ایم سی جعلی اکاؤنٹس کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گا۔
ڈیجیٹل توسیع کے ساتھ آن لائن سکیورٹی پر بھی توجہ
صباح میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی آزمائش اور سب میرین کیبل منصوبہ ریاست میں ڈیجیٹل رابطے کو بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد ایسے علاقوں تک بہتر انٹرنیٹ رسائی پہنچانا ہے جہاں موجودہ انفراسٹرکچر محدود ہے یا جہاں نئے ٹاورز کی تعمیر میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
تاہم حکومت کے مطابق بہتر انٹرنیٹ رسائی کے ساتھ ڈیجیٹل خواندگی اور آن لائن سکیورٹی بھی اہم ہے۔ جعلی اکاؤنٹس، فراڈ اور نقصان دہ آن لائن مواد سے متعلق بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث صارفین کے لیے محفوظ انٹرنیٹ استعمال کی سمجھ بھی ضروری قرار دی جا رہی ہے۔
جندیلا فیز 2 کے تحت 300 سے زیادہ مقامات پر مختلف ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں بعض علاقوں میں روایتی موبائل ٹاورز جبکہ دیگر جگہوں پر سیٹلائٹ اور دوسری متبادل ٹیکنالوجیز شامل ہوں گی۔
صباح میں ہونے والی ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی آزمائش سے یہ جانچنے میں مدد ملے گی کہ آیا یہ ٹیکنالوجی ان علاقوں میں مؤثر طریقے سے موبائل فونز کو انٹرنیٹ سے منسلک کر سکتی ہے جہاں روایتی ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر قائم کرنا مشکل ہے۔

COMMENTS