سیلانگور حکومت نے مقامی حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں جو غیر ملکیوں کو کاروباری لائسنس یا کاروباری جگہیں ف...
سیلانگور حکومت نے مقامی حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں جو غیر ملکیوں کو کاروباری لائسنس یا کاروباری جگہیں فروخت یا کرائے پر دیتے ہیں، یا کسی بھی صورت میں مقامی قوانین کی خلاف ورزی میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق قانون نافذ کرنے کی کارروائیاں صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان مقامی افراد کے خلاف بھی ہونی چاہئیں جو ایسی سرگرمیوں کو ممکن بناتے ہیں۔
سیلانگور کے وزیر اعلیٰ داتوک سری امیرالدین شاری نے ریاستی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کہا کہ ملائیشیا میں روہنگیا برادری سے متعلق بعض مسائل اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں جب کچھ مقامی افراد غیر ملکیوں کو کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات عوامی تشویش میں اضافہ کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ غیر ملکیوں سے ہمدردی کے نام پر ان سے خریداری کرتے ہیں، انہیں اپنی دکانیں یا کاروباری جگہیں کرائے پر دیتے ہیں یا اپنے نام پر جاری کاروباری لائسنس ان کے استعمال کے لیے فراہم کر دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مقامی حکومتوں کو ہدایت دی کہ ایسے افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں بلیک لسٹ بھی کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی خلاف ورزیوں کی روک تھام ہو سکے۔
یہ بیان انہوں نے دوسون توا کے رکن اسمبلی داتک جوہان عبدالعزیز کے سوال کے جواب میں دیا، جنہوں نے دریافت کیا تھا کہ آیا غیر قانونی افراد کو کاروباری لائسنس یا جگہ کرائے پر دینے والے مالکان پر عائد موجودہ جرمانے کافی ہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد 250,000 رنگٹ تک کے جرمانے ادا کرنے کے باوجود دوبارہ یہی خلاف ورزیاں کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سزائیں ہر صورت میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔
امیرالدین شاری نے کہا کہ ان کے اپنے حلقے میں متعدد مشترکہ کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جہاں بغیر لائسنس کاروبار کرنے والوں کے خلاف اقدامات کیے گئے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران اکثر کچھ مقامی افراد ان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کا دفاع کرتے ہیں یا انہیں تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض پناہ گزین اپنی بقا اور روزگار کی ضرورت کے باعث ایسے کاموں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جنہیں عام طور پر 3 ڈی جابز یعنی مشکل، خطرناک اور محنت طلب کام کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والے مقامی افراد کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ امیگریشن سے متعلق معاملات وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم سیلنگور کی مقامی حکومتیں اپنے علاقوں میں غیر ملکیوں کی ملکیت والے کاروبار کی اجازت نہیں دیتیں اور وہ اپنے اختیارات کے مطابق موجودہ بلدیاتی قوانین پر عمل درآمد جاری رکھیں گی۔
انہوں نے ہولو لنگت ضلع سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن کے مطابق اس ضلع کے مختلف علاقوں میں 9,515 روہنگیا پناہ گزین کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد شہری علاقوں، خصوصاً امپانگ، کاجانگ اور چیراس میں ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں جیسے ہولو لنگت اور برانانگ میں بعض مقامات پر صرف 20 سے 30 افراد موجود ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں تعداد کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر کمپونگ سنگائی سیکامات میں تقریباً 400 روہنگیا موجود ہیں، تامن کانتان پرمائی میں تقریباً 50 افراد رہتے ہیں، جبکہ چیراس کے بعض علاقوں میں 200 سے 300 افراد کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسی طرح امپانگ کے تاسک تمباہن میں تقریباً 2,000 اور پاندان میواہ میں تقریباً 1,500 روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں۔ اس کے علاوہ تامن بندر بارو امپانگ اور کوساس میں بھی تقریباً 300، 300 افراد رہائش پذیر ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق ہولو لنگت ڈسٹرکٹ سیکیورٹی کمیٹی کے ذریعے ڈسٹرکٹ اینڈ لینڈ آفس، مقامی حکومتوں، پولیس، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے مسلسل نگرانی، آبادی کے ریکارڈ کی تازہ کاری، مشترکہ آپریشنز اور معلومات کے تبادلے کا عمل جاری ہے تاکہ قانون پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS