ملائیشیا کے سیلانگور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے سبانگ جایا کے سری نیپاہ اپارٹمنٹ میں کارروائی کرتے ہوئے مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں کے الزام میں ...
ملائیشیا کے سیلانگور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے سبانگ جایا کے سری نیپاہ اپارٹمنٹ میں کارروائی کرتے ہوئے مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں کے الزام میں 34 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی علاقے میں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی، مبینہ حد سے زیادہ رہائش اور رہائشیوں کی جانب سے شور شرابے، لڑائی جھگڑوں اور دیگر عوامی خلل کی شکایات کے بعد کی گئی۔
امیگریشن حکام کے مطابق کارروائی آج نصف شب کے بعد شروع ہوئی۔ حکام نے پہلے سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اپارٹمنٹ کمپلیکس کو کارروائی کے لیے منتخب کیا تھا، جہاں مبینہ طور پر غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد موجود تھی۔
چھاپے کے دوران مجموعی طور پر 280 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ کارروائی کے نتیجے میں مختلف امیگریشن قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر 34 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
گرفتار افراد کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ان میں 23 مرد اور 11 خواتین شامل ہیں۔ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق انڈونیشیا، بھارت، میانمار، نیپال اور تھائی لینڈ سے بتایا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران مختلف نوعیت کی امیگریشن خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ ان میں درست شناختی دستاویزات پیش کرنے میں ناکامی، امیگریشن پاس کی شرائط کی خلاف ورزی، مقررہ مدت سے زیادہ قیام اور غیر تسلیم شدہ کارڈز رکھنے کے معاملات شامل ہیں۔
گرفتار کیے گئے تمام افراد کو مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے سیمینیہ امیگریشن ڈیٹینشن ڈیپو منتقل کیا جائے گا۔ وہاں حکام ان کے سفری دستاویزات، ملک میں قیام کی قانونی حیثیت اور دیگر متعلقہ معاملات کی جانچ کریں گے۔
رہائشیوں کی جانب سے شکایات
امیگریشن کارروائی سے قبل سری نیپاہ اپارٹمنٹ کے بعض رہائشیوں نے کمپلیکس میں غیر ملکی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں شکایات کی تھیں۔ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ بعض یونٹس میں مبینہ طور پر بہت زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں، جس کے باعث اپارٹمنٹ میں بھیڑ اور مختلف مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
ایک رہائشی، جس نے اپنا نام صفیان بتایا، کے مطابق بعض مواقع پر شراب نوشی، لڑائی جھگڑے اور شور کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر جب لوگوں کے درمیان بحث یا جھگڑا ہوتا ہے تو شور کی وجہ سے دیگر رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صفیان کے مطابق بعض غیر ملکی افراد عمارت کے مشترکہ مقامات، لفٹوں اور آس پاس کے علاقوں میں بھی اکثر موجود رہتے ہیں، جس سے بچوں والے خاندانوں سمیت بعض رہائشیوں کو بے آرامی محسوس ہوتی ہے۔
ایک اور رہائشی خاتون، جنہیں سیتی کے نام سے شناخت کیا گیا، نے بتایا کہ رات کے وقت ہونے والے بعض جھگڑوں اور شور کی وجہ سے رہائشیوں کے لیے سکون سے سونا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق بعض رہائشیوں نے لوگوں کو شور کم کرنے کے لیے کہنے کی کوشش بھی کی، لیکن شکایات کے باوجود صورتحال برقرار رہی۔
قریبی کاروباری سرگرمیوں پر بھی شکایات
رہائشیوں نے اپارٹمنٹ کے قریب کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اپنی شکایات بیان کیں۔ سیتی کے مطابق قریب واقع اتوار کے بازار میں غیر ملکی تاجروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جہاں سیکنڈ ہینڈ کپڑے اور پان کے پتے فروخت کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قریبی دکانوں کی کچھ کاروباری سرگرمیاں بھی غیر ملکی افراد کی جانب سے چلائی جا رہی ہیں۔ تاہم یہ رہائشیوں کے دعوے ہیں اور امیگریشن کارروائی میں حراست میں لیے گئے 34 افراد کے خلاف عائد مخصوص الزامات ان شکایات سے الگ ہیں۔
کارروائی کی وجہ کیا بنی؟
سیلانگور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے رہائشیوں کی شکایات اور علاقے میں غیر قانونی تارکین وطن کی زیادہ تعداد سے متعلق حاصل ہونے والی معلومات کے بعد مربوط کارروائی شروع کی۔
اس طرح کی کارروائیوں میں امیگریشن حکام عام طور پر غیر ملکی شہریوں کے سفری دستاویزات، ویزا یا پاس کی حیثیت اور ملک میں قیام کی قانونی اجازت کی جانچ کرتے ہیں۔ اس کارروائی میں بھی حکام نے 280 افراد کی جانچ کی، جس کے بعد 34 افراد کو مزید تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ کارروائی میں گرفتار ہونے والے تمام افراد کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ حتمی قانونی کارروائی تحقیقات اور متعلقہ حکام کی جانب سے شواہد کے جائزے کے بعد کی جائے گی۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں اور دیگر غیر ملکی شہریوں کے لیے درست سفری دستاویزات اور قانونی امیگریشن حیثیت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ پاس کی شرائط کی خلاف ورزی، مقررہ مدت سے زیادہ قیام یا مطلوبہ دستاویزات پیش نہ کرنا امیگریشن کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
سری نیپاہ اپارٹمنٹ میں ہونے والی تازہ کارروائی میں حکام نے مجموعی طور پر 280 افراد کی جانچ کی، جن میں سے 34 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد میں پانچ مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں، جبکہ ان کی مزید جانچ سیمینیہ امیگریشن ڈیٹینشن ڈیپو میں کی جائے گی۔
یہ کارروائی سیلانگور میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف جاری نگرانی اور نفاذِ قانون کی ایک تازہ مثال ہے۔ حکام کی جانب سے کارروائی کے دوران رہائشیوں کی شکایات، انٹیلی جنس معلومات اور موقع پر موجود افراد کی دستاویزات کی جانچ کو بنیاد بنایا گیا۔

COMMENTS