ملائیشیا کی ریاست پہانگ کے حکمران سلطان عبداللہ رعایت الدین المصطفیٰ باللہ شاہ نے انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریاست میں غیر ق...
ملائیشیا کی ریاست پہانگ کے حکمران سلطان عبداللہ رعایت الدین المصطفیٰ باللہ شاہ نے انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریاست میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی تارکینِ وطن کی بستیوں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں مسمار کیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر سرکاری زمینوں پر قائم کی جانے والی غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
یہ اہم ہدایات سلطان پہانگ نے کوانتان کے قصرِ عبدالعزیز میں اپنی 67ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جاری کیں۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ریاست میں غیر ملکی تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی غیر قانونی بستیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کچھ عناصر ملک کی رواداری اور سہولیات کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بلا اجازت مختلف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے وہ مقامی شہریوں کے برابر حقوق رکھتے ہوں۔
سلطان عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ریاست کے بعض علاقوں میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مقامی شہری اپنے ہی علاقوں میں اجنبی محسوس کرنے لگے ہیں۔ کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے مکمل طور پر غیر ملکی لیبر پر انحصار کر رہے ہیں، جبکہ غیر قانونی بستیاں بغیر کسی کنٹرول کے پھیل رہی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاملے کو محض امیگریشن کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ قومی سلامتی، ملکی خودمختاری اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔
سلطان پہانگ نے مزید کہا کہ ملائیشیا اور ریاست پہانگ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور یہاں کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے یا مرضی کے مطابق رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جو بھی شخص ملک میں آتا ہے، اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ایک خودمختار ریاست کا مہمان ہے۔ انہوں نے ایک جامع تمثیل دیتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا اور بااخلاق مہمان ہمیشہ میزبان کا احترام کرتا ہے، قواعد و ضوابط کی پابندی کرتا ہے اور کبھی بھی گھر کے مالک کے حقوق پر سوال نہیں اٹھاتا۔
سلطان عبداللہ نے وفاقی حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک کی سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنائے۔ انہوں نے غیر ملکیوں کے اندراج کے عمل کو سخت کرنے، غیر قانونی تارکینِ وطن کی جلد از جلد ان کے اپنے ممالک میں واپسی اور اس عمل میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سلطان کے مطابق، غیر قانونی آمد کو سمندری اور زمینی سرحدوں یعنی اینٹری پوائنٹس پر ہی روکنا سب سے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے، کیونکہ ایک بار اندر داخل ہو کر بستی قائم ہو جانے کے بعد صورتِ حال سے نمٹنا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
خطاب کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ ملائیشیا ان تمام لوگوں کا خیرمقدم کرتا ہے جو قانونی طریقہ کار کے تحت کام کرنے، سرمایہ کاری کرنے، تعلیم حاصل کرنے یا معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے آتے ہیں۔ تاہم، ملک کی کھلے دل سے خیرمقدم کرنے کی پالیسی کو ملکی خودمختاری کی کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے اور نہ ہی انسانی ہمدردی کے جذبے کا غلط فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
سلطان پہانگ نے ریاست کے مختلف حصوں اور خاص طور پر روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس صورتِ حال سے نہ صرف عام شہریوں میں بے چینی پھیل رہی ہے بلکہ یہ عوام کے امن و امان، سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

COMMENTS