ملائیشیا کی ریاست کلانتن کے ضلع پاسر ماس میں سیشنز کورٹ نے 29 غیر قانونی تارکین وطن کو غیر قانونی داخلے، مقررہ مدت سے زائد قیام اور امیگریشن...
ملائیشیا کی ریاست کلانتن کے ضلع پاسر ماس میں سیشنز کورٹ نے 29 غیر قانونی تارکین وطن کو غیر قانونی داخلے، مقررہ مدت سے زائد قیام اور امیگریشن پاس کے غلط استعمال کے مقدمات میں جرم قبول کرنے کے بعد 1,000 رنگٹ سے 10,000 رنگٹ تک جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
یہ تمام ملزمان، جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں، سیشنز جج ذوالکفلی عبداللہ کی عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کیا۔ عدالت نے جرم کی نوعیت کے مطابق مختلف مقدار میں جرمانے عائد کیے، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں قید کی سزا بھی مقرر کی گئی۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ملزمان پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ ان میں سیکشن 6(1)(سی) کے تحت بغیر درست سفری دستاویزات کے ملائیشیا میں داخل ہونے اور قیام کرنے کا الزام، سیکشن 15(1)(سی) کے تحت ویزا یا اجازت شدہ مدت ختم ہونے کے باوجود ملک میں رہنے کا الزام، جبکہ امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے ریگولیشن 39(بی) کے تحت امیگریشن پاس کے غلط استعمال کا الزام شامل تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مجموعی 29 ملزمان میں سے 15 افراد پر سیکشن 6(1)(سی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت نے ان میں سے ہر ایک کو 6,000 رنگٹ جرمانہ کیا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دو ماہ قید کی سزا مقرر کی گئی۔
اسی طرح 13 افراد پر سیکشن 15(1)(سی) کے تحت زائد المیعاد قیام کا الزام ثابت ہونے پر ہر ایک کو 10,000 رنگٹ جرمانہ کیا گیا۔ اگر جرمانہ ادا نہ کیا جائے تو انہیں تین ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
ایک ملزم پر ریگولیشن 39(بی) کے تحت امیگریشن پاس کے غلط استعمال کا الزام ثابت ہوا، جس پر عدالت نے 1,000 رنگٹ جرمانہ عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے ایک ماہ قید کی سزا مقرر کی گئی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ تمام غیر قانونی تارکین وطن بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔
سماعت کے دوران بعض ملزمان نے عدالتی مترجم کے ذریعے نرم رویہ اختیار کرنے اور سزا میں رعایت کی درخواست بھی کی، تاہم عدالت نے قانون کے مطابق فیصلہ سنایا۔
استغاثہ کی نمائندگی سیتی خدیجہ خیرالدین نے کی، جبکہ تمام ملزمان بغیر کسی وکیل کے عدالت میں پیش ہوئے۔
امیگریشن حکام کے مطابق ان افراد کو 22، 23 اور 24 جولائی کے دوران کوٹا بھارو اور باچوک میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی مختلف کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مقدمات عدالت میں پیش کیے گئے۔
ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے تحت غیر قانونی داخلہ، زائد المیعاد قیام اور امیگریشن دستاویزات کا غلط استعمال قابل سزا جرائم ہیں۔ متعلقہ ادارے وقتاً فوقتاً ملک کے مختلف علاقوں میں نفاذی کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف قانونی اقدامات کیے جا سکیں۔

COMMENTS