لابوان: ملائیشیا کے وفاقی علاقے لابوان میں امیگریشن حکام نے مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے 20 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ کارر...
لابوان: ملائیشیا کے وفاقی علاقے لابوان میں امیگریشن حکام نے مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے 20 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 215 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن وفاقی علاقہ لابوان کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں انڈونیشیا اور فلپائن کے شہری شامل ہیں۔ زیرحراست افراد میں 10 انڈونیشین مرد، فلپائن کے 5 مرد، 3 خواتین اور 2 کم عمر فلپائنی لڑکے شامل ہیں۔
امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ
حکام کے مطابق تمام 20 زیرحراست افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت خلاف ورزیوں کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دفعہ 6(1)(سی) کے تحت غیر ملکی شہریوں کے لیے ملائیشیا میں داخلے اور قیام کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ گرفتار افراد کے معاملے میں مزید تحقیقات کے ذریعے ان کی امیگریشن حیثیت اور دیگر متعلقہ معاملات کا تعین کیا جائے گا۔
گرفتار افراد پولیس اور امیگریشن ڈپو منتقل
حکام کے مطابق زیرحراست افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے لابوان ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر اور لابوان امیگریشن ڈپو منتقل کردیا گیا ہے۔
یہ کارروائی 10 اور 11 ستمبر کو مختلف اوقات میں کی گئی۔ حکام کے مطابق 10 ستمبر کو شام 3 بج کر 30 منٹ سے شام 6 بجے تک جبکہ 11 ستمبر کو رات 12 بج کر 30 منٹ سے صبح 3 بج کر 30 منٹ تک کارروائی جاری رہی۔
تین مختلف آپریشنز میں 41 اہلکار شریک
لابوان امیگریشن کے مطابق کارروائی آپ ماہیر، آپ کیوتپ اور آپ برسیپادو کے تحت کی گئی۔ آپریشن میں ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن، نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور رضاکار تنظیم ریلا کے مجموعی طور پر 41 اہلکاروں نے حصہ لیا۔
ان کارروائیوں کے دوران مختلف مقامات پر موجود افراد کی شناخت اور امیگریشن دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ مجموعی طور پر 215 افراد کی جانچ کے بعد 20 غیر ملکی شہریوں کو مزید تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا۔
غیر قانونی تارکین وطن اور امیگریشن سہولیات کے غلط استعمال کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعلان
محکمہ امیگریشن نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف نفاذِ قانون مزید مضبوط کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ امیگریشن پاس کے غلط استعمال اور امیگریشن سہولیات کے ناجائز استعمال کی روک تھام پر بھی توجہ جاری رکھی جائے گی۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا کہ کارروائی صرف غیر ملکی شہریوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ایسے افراد اور فریقوں کے خلاف بھی اقدامات کیے جائیں گے جو غیر ملکی شہریوں کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملازمت فراہم کرتے، انہیں چھپاتے یا کسی بھی طرح مدد کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کا مقصد ملک میں قانونی داخلے، قیام اور غیر ملکی شہریوں کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط کو یقینی بنانا ہے۔
واضح رہے کہ کسی شخص کی گرفتاری یا حراست تفتیشی عمل کا حصہ ہوتی ہے اور حتمی قانونی حیثیت متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے نتیجے میں طے ہوتی ہے۔

COMMENTS