پورٹ ڈکسن: ملائیشیا کی میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی نے پورٹ ڈکسن کی سمندری حدود میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی راستے سے ملک میں داخل ہونے ک...
پورٹ ڈکسن: ملائیشیا کی میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی نے پورٹ ڈکسن کی سمندری حدود میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی راستے سے ملک میں داخل ہونے کی مبینہ کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران ایک کشتی سے 33 انڈونیشین شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں ایک کشتی کا ٹیکونگ یعنی کشتی چلانے والا شخص بھی شامل ہے۔
میری ٹائم ملائیشیا کے مطابق یہ کارروائی جمعہ کی رات پورٹ ڈکسن کے سمندری علاقے میں کی گئی۔ آپریشن میری ٹائم کے ملاکا اور نیگیری سمبیلان کے ہیڈکوارٹرز کی جانب سے کیا گیا، جبکہ کارروائی کے دوران آپ بینتینگ اور آپ تیریس کے تحت معمول کی گشت بھی جاری تھی۔
کشتی نے رکنے کا حکم نظرانداز کیا
میری ٹائم ملاکا اور نیگیری سمبیلان کے ڈائریکٹر کپتان میری ٹائم صالح الدین ذکریا کے مطابق حکام نے رات تقریباً 9 بج کر 30 منٹ پر گشت کے دوران ایک مشتبہ کشتی کو دیکھا اور اسے معائنے کے لیے رکنے کا حکم دیا۔
تاہم حکام کے مطابق کشتی کے عملے نے رکنے کے بجائے رفتار تیز کر دی اور سمندری حدود سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ میری ٹائم اہلکاروں نے کشتی کا تعاقب کیا اور کچھ دیر بعد اسے روکنے میں کامیاب ہوگئے۔
کارروائی کے بعد کشتی کی تلاشی اور ابتدائی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 33 افراد موجود پائے گئے۔
اکیس مرد اور 12 خواتین گرفتار
حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے تمام 33 افراد انڈونیشیا کے شہری ہیں۔ ان میں 21 مرد اور 12 خواتین شامل ہیں، جبکہ ان کی عمریں 13 سے 58 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
ابتدائی جانچ کے دوران حکام کو معلوم ہوا کہ زیرحراست افراد ملائیشیا کی سمندری حدود میں موجودگی کے لیے درست سفری دستاویزات پیش نہیں کرسکے۔
میری ٹائم ملائیشیا کے مطابق ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کسی ایسے سمندری راستے کے ذریعے ملائیشیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جو باقاعدہ طور پر آمدورفت کے لیے مقرر یا نوٹیفائیڈ نہیں ہے۔
غیر قانونی سمندری راستہ استعمال کرنے کا شبہ
حکام نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی شبہ سامنے آیا ہے کہ چھوٹی کشتی کے ذریعے ایسے سمندری راستے کا انتخاب کیا گیا جو نگرانی سے بچنے کے لیے نسبتاً مشکل سمجھا جاتا ہے۔
میری ٹائم ملائیشیا کے مطابق اس طرح کی کشتیوں کا استعمال مبینہ طور پر حکام کی نظروں سے بچتے ہوئے غیر قانونی طور پر افراد کو ملک میں داخل کرانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
تاہم حتمی طور پر اس واقعے میں افراد کے داخلے کا مقصد، کشتی کے انتظامات اور دیگر متعلقہ معاملات کا تعین مزید تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔
گرفتار افراد کو میری ٹائم جیٹی منتقل کردیا گیا
کارروائی مکمل ہونے کے بعد تمام زیرحراست افراد کو میری ٹائم ملاکا اور نیگیری سمبیلان کے ہیڈکوارٹرز کی جیٹی منتقل کیا گیا، جہاں ان کے خلاف مزید کارروائی اور تفتیش کی جا رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات ملائیشیا کے امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور انسداد انسانی اسمگلنگ و تارکین وطن کی اسمگلنگ ایکٹ 2007 کے تحت کی جا رہی ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ کسی شخص کے خلاف تحقیقات یا حراست خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتی۔ قانونی کارروائی کے دوران متعلقہ حکام شواہد اور تفتیش کی بنیاد پر مزید فیصلہ کریں گے۔
سمندری سرحدوں کی نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان
میری ٹائم ملائیشیا نے کہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کو متاثر کرنے والی تارکین وطن کی اسمگلنگ یا غیر قانونی داخلے کی سرگرمیوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔
ادارے کے مطابق ان علاقوں میں مسلسل نگرانی اور گشت مزید بڑھایا جائے گا جہاں غیر قانونی طور پر سمندری راستے سے ملائیشیا میں داخل ہونے کا امکان موجود ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک کی سمندری سرحدوں پر غیر قانونی داخلے کی کوششوں کا بروقت پتا لگانا اور ایسی سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ کارروائی ملائیشیا میں غیر قانونی امیگریشن اور سمندری راستوں سے غیر قانونی داخلے کے خلاف جاری نگرانی کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں غیر قانونی نقل و حرکت کے لیے سمندری راستے استعمال کیے جانے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

COMMENTS