تازہ ترین خبریں

    مہاتیر محمد کی شریکِ حیات سیتی حسماہ: سات دہائیوں کی رفاقت، خدمت اور خاموش کردار

    ملائیشیا سے آنے والی 28 ستمبر 2026 کی خبر نے ایک ایسے طویل عہد کو اختتام تک پہنچا دیا جس میں ذاتی زندگی، طب، خاندانی ذمہ داری اور ملکی تاریخ...

    ملائیشیا سے آنے والی 28 ستمبر 2026 کی خبر نے ایک ایسے طویل عہد کو اختتام تک پہنچا دیا جس میں ذاتی زندگی، طب، خاندانی ذمہ داری اور ملکی تاریخ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی اہلیہ تون ڈاکٹر سیتی حسماہ محمد علی 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق ان کے بیٹے تان سری مختزانی مہاتیر نے کی۔ وہ نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ، کوالالمپور میں انتقال کر گئیں۔

    ان کی تدفین 28 ستمبر کو پوتراجایا کے پوسارا نگارا میں ریاستی اعزاز کے ساتھ کی گئی، جہاں ڈاکٹر مہاتیر محمد، ان کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد نے آخری رسومات میں شرکت کی۔ ملائیشیا کی حکومت نے ان کی قومی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں ریاستی تدفین کا فیصلہ کیا۔

    ایک سو سالہ زندگی، مگر شناخت صرف "سابق وزیراعظم کی اہلیہ" نہیں

    سیتی حسماہ کی زندگی کو اگر صرف ڈاکٹر مہاتیر محمد کی اہلیہ کے طور پر دیکھا جائے تو ان کی شخصیت کا ایک بڑا حصہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔

    وہ خود ایک ڈاکٹر تھیں، ملائیشیا میں خواتین کے لیے طب کے میدان میں ابتدائی راستہ بنانے والی شخصیات میں شامل تھیں اور سرکاری صحت کے شعبے میں کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔

    وہ 12 جولائی 1926 کو کلانگ، سیلانگور میں پیدا ہوئیں۔ وہ دس بہن بھائیوں میں سے ایک تھیں اور جنگِ عظیم دوم کے بعد طب کی تعلیم کے لیے سنگاپور کے کنگ ایڈورڈ 7 کالج آف میڈیکل میں داخل ہوئیں۔

    سن 1947 میں جب انہوں نے میڈیکل کی تعلیم شروع کی تو وہ اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والی واحد ملائی خاتون طالبہ تھیں۔ انہوں نے 1955 میں طب کی تعلیم مکمل کی اور اسی سال اپنے عملی طبی کیریئر کا آغاز کیا۔

    یہ اس دور کی بات ہے جب ملائیشیا میں خواتین، خصوصاً ملائی خواتین، کے لیے اعلیٰ تعلیم اور طب جیسے شعبوں میں آگے بڑھنا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تھا۔

    اسی لیے سیتی حسماہ کی کہانی کا پہلا اہم پہلو ان کی شادی نہیں بلکہ ان کی اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ جدوجہد ہے۔

    مہاتیر محمد سے ملاقات کہاں ہوئی؟

    ڈاکٹر سیتی حسماہ اور ڈاکٹر مہاتیر محمد کی ملاقات کسی سیاسی محفل میں نہیں بلکہ میڈیکل کالج کے زمانے میں ہوئی۔

    دونوں سنگاپور کے اسی طبی ادارے میں زیرِ تعلیم تھے۔ بعد میں سیتی حسماہ نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب "مائی نیم از حسماہ" میں مہاتیر محمد کو اپنا "ہیرو" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ تعلیم کے دوران، خصوصاً فزکس اور کیمسٹری کے مضامین میں، انہوں نے ان کی مدد کی تھی۔

    یعنی ان کی رفاقت کی بنیاد اس وقت پڑی جب دونوں سیاست کی دنیا سے بہت دور، اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں سوچنے والے نوجوان تھے۔

    یہی بات اس تعلق کو سمجھنے کے لیے اہم ہے: ان کی مشترکہ زندگی کا آغاز وزیراعظم ہاؤس سے نہیں بلکہ کالج، تعلیم اور ایک دوسرے کے ساتھ ذہنی و عملی تعاون سے ہوا۔

    پانچ اگست 1956: شادی کا آغاز

    دونوں نے 5 اگست 1956 کو شادی کی۔

    اس وقت مہاتیر محمد کی عمر تقریباً 31 سال اور سیتی حسماہ کی عمر 30 سال تھی۔ ملائیشیا کے تاریخی ریکارڈز میں بھی شادی کی تاریخ 5 اگست 1956 درج ہے۔

    یوں 2026 میں سیتی حسماہ کے انتقال تک ان کی شادی کو تقریباً 70 سال مکمل ہو چکے تھے۔

    یہ مدت صرف کیلنڈر پر گزرنے والے برس نہیں تھے۔ ان تقریباً سات دہائیوں میں ملائیشیا نے نوآبادیاتی دور کے آخری سالوں سے آزادی، قومی تعمیر، صنعتی ترقی، سیاسی تبدیلیوں اور جدید ریاست کی تشکیل تک ایک طویل سفر طے کیا۔

    اور اس پورے سفر میں سیتی حسماہ مہاتیر محمد کے ساتھ رہیں۔

    شادی کے بعد بھی سیتی حسماہ کی اپنی پیشہ ورانہ شناخت برقرار رہی

    شادی کے بعد سیتی حسماہ نے طب کا شعبہ نہیں چھوڑا۔

    سن 1955 میں ڈاکٹر بننے کے بعد انہوں نے سرکاری صحت کے شعبے میں کام شروع کیا۔ 1956 میں وہ الور اسٹار، کیداہ منتقل ہوئیں، جہاں انہوں نے طبی افسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    بعد میں انہوں نے صحتِ عامہ، خصوصاً ماں اور بچے کی صحت، دیہی علاقوں، خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین سے متعلق مسائل پر کام کیا۔

    سن 1965 میں وہ ملائیشیا میں محکمہ صحتِ مادر و طفل میں طبی افسر مقرر ہونے والی پہلی خاتون بنیں، جبکہ 1974 میں کیداہ میں ریاستی سطح پر میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ آفیسر کے عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون بنیں۔

    یہ تمام کامیابیاں اس وقت حاصل ہوئیں جب ان کے شوہر ابھی ملائیشیا کے وزیراعظم نہیں بنے تھے۔

    یہ نکتہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ شناخت صرف وزیراعظم کی اہلیہ بننے کے بعد پیدا نہیں ہوئی تھی۔

    پھر مہاتیر محمد وزیراعظم بنے

    سن 1981 میں مہاتیر محمد پہلی مرتبہ ملائیشیا کے وزیراعظم بنے۔

    وہ 1981 سے 2003 تک وزیراعظم رہے، پھر 2018 میں دوبارہ وزیراعظم بنے اور 2020 تک اس عہدے پر رہے۔

    یوں سیتی حسماہ دو مختلف ادوار میں ملائیشین وزیراعظم کی اہلیہ رہیں۔

    لیکن ان کی عوامی سرگرمیاں محض سرکاری تقریبات تک محدود نہیں رہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق وہ خواتین اور دیہی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور صحتِ عامہ کے معاملات میں مسلسل سرگرم رہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ ان کا کردار ایک روایتی سیاسی شریکِ حیات سے آگے بڑھ کر عوامی صحت اور سماجی خدمت سے بھی جڑا ہوا نظر آتا ہے۔

    مہاتیر محمد نے اپنی کامیابی میں ان کا کردار کیسے بیان کیا؟

    مہاتیر محمد نے مختلف مواقع پر اپنی اہلیہ کے کردار کو اہم قرار دیا۔

    رائٹرز کی 28 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مہاتیر محمد نے ایک مرتبہ سیتی حسماہ کو اپنی کامیابی کی "ریڑھ کی ہڈی" قرار دیا تھا۔ انہوں نے ان کی تعلیمی جدوجہد اور یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے عزم کو بھی سراہا تھا۔

    یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

    کسی سیاسی رہنما کی کامیابی کا کریڈٹ مکمل طور پر کسی شریکِ حیات کو دینا ایک الگ بحث ہے، لیکن خود مہاتیر محمد کی طرف سے اپنی اہلیہ کے کردار کو اس انداز میں بیان کرنا اس بات کی دستاویزی مثال ضرور ہے کہ وہ انہیں اپنی زندگی میں ایک اہم معاون سمجھتے تھے۔

    ایک گھر، سات بچے اور طویل رفاقت

    مہاتیر محمد اور سیتی حسماہ کے سات بچے تھے۔

    ان کے بچوں میں معروف سماجی کارکن اور مصنفہ مارینا مہاتیر، کاروباری شخصیت مختزانی مہاتیر اور سیاست دان مخریز مہاتیر شامل ہیں۔

    یوں ایک طرف مہاتیر محمد کی سیاسی زندگی مسلسل مصروف اور عوامی رہی، دوسری طرف خاندان کی پرورش اور گھریلو زندگی بھی اس طویل سفر کا حصہ تھی۔

    ان کی ازدواجی زندگی کے بارے میں سیتی حسماہ نے خود بھی بعض مواقع پر بات کی۔ 2018 میں، جب مہاتیر محمد دوبارہ سیاست میں فعال ہو رہے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ ان کا کردار اپنے شوہر کے ساتھ رہنا اور ان کی حمایت کرنا تھا۔

    اسی عرصے میں انہوں نے اپنی طویل شادی کے بارے میں "محبت اور تازہ ہوا" کو مزاحیہ انداز میں اس کے اجزا قرار دیا تھا۔

    ایک دلچسپ پہلو: دونوں کی شخصیتیں ایک جیسی نہیں تھیں

    سیتی حسماہ کے بارے میں رائٹرز اور دیگر معتبر ذرائع میں ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔

    انہیں عموماً نرم گفتگو، سادہ مزاجی اور خوش مزاجی سے جوڑا جاتا تھا، جبکہ مہاتیر محمد کا عوامی سیاسی انداز زیادہ براہِ راست اور سخت سمجھا جاتا رہا ہے۔ رائٹرز نے بھی دونوں کے مزاج میں اس فرق کو نمایاں کیا۔

    یہ فرق شاید ان کی طویل رفاقت کو سمجھنے کا ایک اہم پہلو ہے۔

    ایک کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے ضروری نہیں کہ دونوں افراد ہر معاملے میں ایک جیسے ہوں۔ بعض اوقات مختلف مزاج ایک دوسرے کو توازن فراہم کرتے ہیں۔

    سیتی حسماہ نے اپنے شوہر کی سیاسی شخصیت کو دہرانے کے بجائے اپنی ایک الگ شناخت قائم رکھی۔

    سیتی حسماہ کا اصل ورثہ کیا ہے؟

    ان کی زندگی کو تین بڑے حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے:

    پہلا، تعلیم:
    ایک ایسے دور میں طب کی تعلیم حاصل کرنا جب ملائی خواتین کے لیے یہ راستہ عام نہیں تھا۔

    دوسرا، خدمت:
    سرکاری ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرنا، ماں اور بچے کی صحت، دیہی صحت اور خواتین سے متعلق مسائل پر توجہ دینا۔

    تیسرا، خاندان اور رفاقت:
    مہاتیر محمد کے ساتھ تقریباً 70 سالہ ازدواجی زندگی، سات بچوں کی پرورش اور ایک ایسے سیاسی سفر میں شریک رہنا جس نے ملائیشیا کی تاریخ کے کئی اہم ادوار دیکھے۔

    یونیسیف نے بھی انہیں ملائیشیا کی ابتدائی خواتین ڈاکٹروں میں شمار کرتے ہوئے ان کی صحتِ عامہ اور خواتین و دیہی صحت کے لیے طویل خدمات کو نمایاں کیا تھا۔

    آخری برس: ایک صدی کا سفر مکمل

    سیتی حسماہ نے 12 جولائی 2026 کو اپنی 100ویں سالگرہ مکمل کی۔

    صرف چند ماہ بعد، 28 ستمبر کو ان کا انتقال ہوگیا۔

    ان کے پیچھے ان کے شوہر، سات بچے، خاندان اور ایک ایسی عوامی زندگی رہ گئی جس میں طب، صحت، خاندان اور ملائیشیا کی سیاسی تاریخ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔

    ان کی وفات کے بعد وزیراعظم انور ابراہیم نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ قوم ان کی خدمات اور ان کے "مادری کردار" کو یاد رکھے گی۔ حکومت نے انہیں ریاستی تدفین کا اعزاز بھی دیا۔

    نویدِ سحر کا تجزیہ: ایک عورت جو صرف کسی بڑے نام کے ساتھ نہیں تھی

    سیتی حسماہ کی زندگی سے سب سے مثبت سبق شاید یہی نکلتا ہے کہ کسی انسان کی شناخت صرف اس کے شریکِ حیات کے نام سے نہیں ہونی چاہیے۔

    وہ مہاتیر محمد کی اہلیہ ضرور تھیں، لیکن اس سے پہلے وہ ایک طالبہ تھیں، پھر ڈاکٹر بنیں، سرکاری صحت کے شعبے میں کام کیا، خواتین اور بچوں کی صحت کے لیے خدمات انجام دیں اور بعد میں ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزاری جو کئی دہائیوں تک ملائیشیا کی سیاست کے مرکز میں رہا۔

    ان کی زندگی میں شہرت بھی آئی، اقتدار بھی قریب سے دیکھا گیا، سیاسی اتار چڑھاؤ بھی آیا، مگر ان کی اپنی شناخت ڈاکٹر سیتی حسماہ کے طور پر برقرار رہی۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کو صرف ایک سابق وزیراعظم کی اہلیہ کے انتقال کے طور پر دیکھنا اس پوری کہانی کو بہت چھوٹا کر دینا ہوگا۔

    یہ ایک ایسی خاتون کی داستان بھی ہے جس نے ایک ایسے زمانے میں تعلیم اور طب کا راستہ اختیار کیا جب یہ راستہ آسان نہیں تھا؛ پھر تقریباً سات دہائیوں تک ازدواجی زندگی، خاندان، پیشہ ورانہ خدمت اور عوامی ذمہ داریوں کے مختلف مراحل سے گزری۔

    اور شاید اس پوری داستان کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ ایک طویل زندگی کا اصل اثر صرف عہدوں سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے بھی ناپا جاتا ہے جن کی زندگیوں میں انسان اپنی خدمت، محبت اور موجودگی کے ذریعے جگہ بناتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ مرحومہ ڈاکٹر سیتی حسماہ کی مغفرت فرمائے اور مہاتیر محمد، ان کے بچوں اور اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے۔ آمین۔

    COMMENTS

    Name

    Business,8,Current Affairs,410,Employment News,145,Events and Festivals,3,Global Visa News,2,Immigration Operations,338,Legal Rights,19,Life and Finances,20,Malaysian Culture,2,PR and MM2H,2,Scam Alerts,1,Student Visa,1,Study in Malaysia,1,Top Destinations,2,Tourism Updates,11,Travel Tips,2,UAE,1,Visa Updates,13,
    ltr
    item
    نوید سحر: مہاتیر محمد کی شریکِ حیات سیتی حسماہ: سات دہائیوں کی رفاقت، خدمت اور خاموش کردار
    مہاتیر محمد کی شریکِ حیات سیتی حسماہ: سات دہائیوں کی رفاقت، خدمت اور خاموش کردار
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhsjyIbwQLLW4M8awfI3UeirWdVvUzoGa_7L4X3WI2F8a9DxAJ7TZDsvlRBeVm3tNtZIXO81CqYery-LtJFjQPw5p8_aLGcIUP0hOXD1WzmR4f0NNsQwWjcYNAh7ktriJYPqfhR6fKw3oBrnVUAS2VfG1Hs7w3SPgUsn2WMRT6vx7t4psqwa7mrwo8ZjNM/s320/271617.jpg
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhsjyIbwQLLW4M8awfI3UeirWdVvUzoGa_7L4X3WI2F8a9DxAJ7TZDsvlRBeVm3tNtZIXO81CqYery-LtJFjQPw5p8_aLGcIUP0hOXD1WzmR4f0NNsQwWjcYNAh7ktriJYPqfhR6fKw3oBrnVUAS2VfG1Hs7w3SPgUsn2WMRT6vx7t4psqwa7mrwo8ZjNM/s72-c/271617.jpg
    نوید سحر
    https://urdu.naveedeseher.com/2026/09/Siti-Hasmah-Seven-Decades-of-Love-and-Service.html
    https://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/2026/09/Siti-Hasmah-Seven-Decades-of-Love-and-Service.html
    true
    6715705184017377069
    UTF-8
    Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content
    Share on WhatsApp