پتراجایا: ملائیشیا کی جانب سے آئندہ چھ ماہ کے دوران 2 لاکھ بنگلہ دیشی کارکنوں کو بھرتی کرنے سے متعلق ایک بنگلہ دیشی وزیر کے دعوے کو بنگلہ د...
پتراجایا: ملائیشیا کی جانب سے آئندہ چھ ماہ کے دوران 2 لاکھ بنگلہ دیشی کارکنوں کو بھرتی کرنے سے متعلق ایک بنگلہ دیشی وزیر کے دعوے کو بنگلہ دیشی حکومت کا باضابطہ مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملائیشیا کے حکومتی ترجمان داتوک سری فہمی فاضل نے یہ وضاحت کی ہے۔
فہمی فاضل نے کہا کہ انسانی وسائل کے وزیر داتوک سری آر رامانن نے انہیں بتایا ہے کہ 2 لاکھ کارکنوں کی بھرتی سے متعلق بیان بنگلہ دیش کے ایک جونیئر وزیر کی جانب سے دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس بیان کو بنگلہ دیشی حکومت کے باضابطہ فیصلے یا اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے پتراجایا میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بنگلہ دیشی حکومت کا سرکاری فیصلہ نہیں ہے اور انسانی وسائل کے وزیر نے بھی انہیں یہی معلومات فراہم کی ہیں۔
فہمی فاضل کے مطابق اس لیے 2 لاکھ بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی کے دعوے کو فی الحال باضابطہ حکومتی پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
دو لاکھ کارکنوں سے متعلق دعویٰ کیا تھا؟
اس سے ایک روز قبل بنگلہ دیش کے لوکل گورنمنٹ، رورل ڈیولپمنٹ اینڈ کوآپریٹوز کے جونیئر وزیر میر شاہ عالم نے کہا تھا کہ ملائیشیا آئندہ چھ ماہ کے دوران تقریباً 2 لاکھ بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی کا عمل شروع کرے گا۔
میر شاہ عالم کے مطابق کارکنوں کی بھرتی مرحلہ وار کی جائے گی اور یہ عمل ستمبر کے آخر میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کارکنوں کو ان کمپنیوں کے ذریعے ملائیشیا بھیجا جائے گا جنہیں ملائیشیا کی متعلقہ حکام نے منظوری دی ہے۔
ان کے بیان کے مطابق 2 لاکھ کارکنوں کی بھرتی کا عمل شروع ہونے کے بعد اسے تقریباً چھ ماہ میں مکمل کرنے کا منصوبہ تھا۔
تاہم اب ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آئی ہے کہ بنگلہ دیشی وزیر کا بیان بنگلہ دیشی حکومت کا باضابطہ فیصلہ نہیں ہے۔
دس ہزار کارکنوں کی مفت بھرتی کا دعویٰ بھی زیر بحث
اس سے قبل سامنے آنے والی معلومات میں بنگلہ دیشی جونیئر وزیر میر شاہ عالم نے یہ بھی کہا تھا کہ ملائیشیا مزید 10 ہزار بنگلہ دیشی کارکنوں کو صفر لاگت پر لینے پر بھی آمادہ ہے۔
صفر لاگت سے مراد یہ تھی کہ ان کارکنوں کو بھرتی سے متعلق اخراجات خود برداشت نہیں کرنا ہوں گے۔
میر شاہ عالم نے کہا تھا کہ ان کارکنوں کی بھرتی بھی ستمبر کے آخر میں مرحلہ وار شروع ہونے کی توقع ہے۔
تاہم 2 لاکھ کارکنوں سے متعلق مجموعی دعوے کی طرح اس حوالے سے بھی موجودہ خبر میں ملائیشیا کی جانب سے کوئی ایسا باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ تعداد حتمی طور پر منظور شدہ قرار دی جا سکے۔
اس لیے بنگلہ دیشی کارکنوں، بھرتی ایجنسیوں اور ممکنہ امیدواروں کے لیے یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ کسی وزیر کا بیان اور دونوں حکومتوں کا باضابطہ معاہدہ یا اعلان ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔
بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے پس منظر
ملائیشیا میں بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے اہم موضوع رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ملائیشیا کے وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم سے بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے پر غور کرنے کی درخواست کی تھی۔
ملائیشیا نے 2024 میں بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی محدود کر دی تھی۔ اس فیصلے کے پس منظر میں غیر ملکی کارکنوں کے استحصال سے متعلق رپورٹس بھی شامل تھیں۔
ان رپورٹس میں قرض کے بوجھ، جبری مشقت اور ایسے کارکنوں کے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا جو ان ملازمتوں کے بغیر ملائیشیا پہنچ گئے تھے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔
اس صورتحال کے بعد بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان اہم موضوع بنا ہوا ہے۔
ملائیشیا کی غیر ملکی افرادی قوت سے متعلق پالیسی
دو لاکھ کارکنوں کی ممکنہ بھرتی کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا اپنی معیشت میں غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پر بھی کام کر رہا ہے۔
حکومت نے 2030 تک ملک کی مجموعی افرادی قوت میں غیر ملکی کارکنوں کا تناسب تقریباً 10 فیصد تک محدود کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس پالیسی کے تناظر میں کسی بھی بڑے پیمانے پر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے حکومت کی جانب سے واضح قواعد، منظوری اور باضابطہ طریقہ کار اہم ہوگا۔
بنگلہ دیشی کارکنوں کی ممکنہ واپسی سے متعلق بات چیت میں بھی بھرتی کے شفاف طریقہ کار، کارکنوں کے حقوق اور غیر ضروری اخراجات سے تحفظ جیسے معاملات اہم رہیں گے۔
حتمی سرکاری وضاحت کا انتظار
فہمی فاضل کے بیان کے بعد 2 لاکھ بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق خبر کی حیثیت واضح ہوگئی ہے کہ اسے فی الحال باضابطہ حکومتی اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔
ملائیشیا کے انسانی وسائل کے وزیر آر رامانن کی جانب سے مزید وضاحت طلب کی گئی ہے، جس کے بعد یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی کے حوالے سے اصل پیش رفت کیا ہے۔
جب تک متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باقاعدہ اعلان، معاہدہ یا منظوری سامنے نہیں آتی، اس لیے 2 لاکھ کارکنوں کی تعداد اور ستمبر کے آخر میں بھرتی شروع ہونے کے دعوے کو حتمی فیصلہ سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔
ممکنہ کارکنوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ بھرتی کے کسی بھی عمل میں صرف سرکاری طور پر منظور شدہ معلومات اور قانونی ذرائع پر انحصار کریں، خاص طور پر ایسے معاملے میں جہاں ماضی میں غیر قانونی بھرتی، زیادہ اخراجات اور ملازمت کے وعدوں سے متعلق مسائل سامنے آ چکے ہیں۔

COMMENTS