پوترا جایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے اپنے ماتحت تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بنیادی سرکاری کاموں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ...
پوترا جایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے اپنے ماتحت تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بنیادی سرکاری کاموں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال شروع کریں تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی، کام کی رفتار اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ وزارت نے گزشتہ تین سال کے دوران ‘اے آئی فار کے ڈی این, کے ڈی این فار اے آئی’ کے تحت مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے پر کام کیا ہے، جبکہ وزارت کے عملے میں اے آئی کو اپنانے اور استعمال کرنے کی تیاری کی سطح اب تقریباً 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ وزارت کے ماتحت ادارے اے آئی کو صرف عمومی ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اسے اپنے بنیادی فرائض اور روزمرہ کاموں کا حصہ بنائیں۔
امیگریشن سمیت تمام اداروں میں اے آئی کے استعمال پر زور
سیف الدین ناسوشن نے واضح کیا کہ ہر ادارے کی قیادت کو اپنے متعلقہ شعبے میں اے آئی کے استعمال کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری لینا ہوگی۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ منصوبہ نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق ہے تو وہاں اے آئی کو اس کے بنیادی کاموں میں استعمال کیا جائے، جبکہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور رائل ملائیشین پولیس بھی اپنے اپنے فرائض کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو اپنائیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق اس کا مقصد سرکاری ملازمین کا کام آسان اور تیز بنانا اور عوام کو زیادہ مؤثر خدمات فراہم کرنا ہے۔
پولیس کی تفتیشی کارروائی میں اے آئی کا استعمال
وزیر داخلہ نے بتایا کہ پی ڈی آر ایم میں اے آئی کے استعمال کی ایک مثال پولیس کی تفتیشی دستاویزات کے ابتدائی مسودے تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے ہر ماہ تقریباً 4 لاکھ پولیس رپورٹس درج کرائی جاتی ہیں۔ ایسے میں اے آئی کی مدد سے تفتیشی کاغذات کا ابتدائی مسودہ تیار کیا جا سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اے آئی کی جانب سے تیار کیا گیا مسودہ براہ راست متعلقہ حکام کو نہیں بھیجا جائے گا۔ اسے تفتیشی افسر کی جانب سے جانچا اور تصدیق کیا جائے گا۔
ان کے مطابق انسپکٹر کے عہدے کا تفتیشی افسر مسودے کی تصدیق کے بعد اسے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر (ڈی پی پی) کے سامنے پیش کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
عوام کے لیے اے آئی ڈیجیٹل ہیومین متعارف
سیف الدین ناسوشن نے وزارت داخلہ کی ایک نئی اے آئی انیشی ایٹیو ‘اے آئی ڈیجیٹل ہیومین’ بھی لانچ کی۔
ان کے مطابق یہ نظام عوام کو وزارت داخلہ سے متعلق معلومات اور سوالات کے جوابات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور مختلف زبانوں میں سوالات پوچھنے کی سہولت دے گا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ عوام مینڈارن، عربی اور جاپانی سمیت مختلف زبانوں میں سوالات پوچھ سکیں گے اور اے آئی ان کا جواب فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔
اس اقدام کا مقصد وزارت داخلہ کے ساتھ عوام کے رابطے کو زیادہ آسان اور صارف دوست بنانا ہے۔
ایئرپورٹس پر غیر ملکیوں کے لیے پولیس رپورٹ کی سہولت
وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ڈی آر ایم کی خدمات میں بھی اے آئی کے استعمال کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق مستقبل میں ایئرپورٹس جیسے اہم مقامات پر اے آئی سے لیس کیوسک قائم کیے جا سکتے ہیں، جہاں غیر ملکی سیاح اپنی زبان میں پولیس رپورٹ درج کرانے میں مدد حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اے آئی کو استعمال کر رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھی اس ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق کے ڈی این اس سے قبل بھی دیوان رکیت کے اجلاسوں کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ کے سوالات کے جوابات کے ابتدائی مسودے تیار کرنے کے لیے اے آئی استعمال کرنے والی پہلی وزارت بن چکی ہے۔ ان جوابات کو بعد میں وزارت کے متعلقہ افسران جانچتے اور تصدیق کرتے ہیں۔
ریلا کے لیے انسداد بدعنوانی اور سیکیورٹی مینوئل بھی لانچ
تقریب کے دوران وزیر داخلہ نے ملائشین والٹیئر کارپس ڈیپارٹمنٹ (ریلا) کے لیے ریلا اینٹی کرپشن سٹریٹیجیز اور ریلا سیکیورٹی اینڈ آپریشنز کنٹرول مینوئل بھی لانچ کیے۔
انہوں نے کہا کہ آر اے سی ایس کا مقصد ریلا کے رضاکار ارکان میں بھی ادارہ جاتی دیانت اور شفافیت کو اہمیت دینا ہے۔
جبکہ ایم کے کے او آر ایک لازمی رہنما کتابچہ ہے جسے تربیت حاصل کرنے والے تمام ریلا ارکان کے لیے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
یہ مینوئل ان حالات میں رہنمائی فراہم کرے گا جب ریلا اہلکار دیگر سیکیورٹی فورسز کی معاونت کر رہے ہوں، جن میں روڈ بلاک، محدود یا ممنوعہ علاقوں کی نگرانی اور سرحدی کنٹرول جیسے فرائض شامل ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق اے آئی کے استعمال کا بنیادی مقصد سرکاری کاموں کو زیادہ مؤثر بنانا اور عوام کو بہتر، تیز اور آسان خدمات فراہم کرنا ہے۔ تاہم اے آئی سے تیار ہونے والے مسودوں اور معلومات کی انسانی جانچ اور تصدیق بھی اہم حصہ رہے گی۔

COMMENTS