پتالنگ جایا: ملائیشیا کے امیگریشن ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے واضح کیا ہے کہ سوشل وزٹ پاس پر ملائیشیا آنے والے غیر ملکیوں کو امیگری...
پتالنگ جایا: ملائیشیا کے امیگریشن ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے واضح کیا ہے کہ سوشل وزٹ پاس پر ملائیشیا آنے والے غیر ملکیوں کو امیگریشن قوانین کی پابندی کرنا ہوگی اور وہ اس پاس کی بنیاد پر ملازمت یا کسی بھی نوعیت کا کاروبار نہیں کر سکتے۔
زکریا شعبان کے مطابق غیر ملکی کے پاس موجود ویزا یا پاس کی نوعیت کچھ بھی ہو، ملائیشیا میں داخلے اور قیام کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل وزٹ پاس پر آنے والے افراد کو ملازمت اختیار کرنے یا چھوٹے یا بڑے کسی بھی کاروباری کام میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں سوشل وزٹ پاس پر آنے والے بعض غیر ملکیوں کی جانب سے مبینہ طور پر غیر مجاز ملازمت اور کاروباری سرگرمیوں کے معاملات زیرِ بحث ہیں۔
سزا، بلیک لسٹ اور ملک بدری
زکریا شعبان نے بتایا کہ اگر کسی غیر ملکی کو امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے ریگولیشن 39(بی) کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے تو اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق عدالت سے جرم ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ فرد کو زیادہ سے زیادہ 1,000 رنگٹ جرمانہ اور/یا چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ایسے فرد کو بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے اور اسے اس کے آبائی ملک واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
زکریا شعبان نے کہا کہ ملائیشیا ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف بلیک لسٹنگ اور ملک بدری سمیت قانونی اقدامات کا اختیار رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں داخل ہونے کے لیے مقررہ شرائط واضح ہیں اور سوشل وزٹ پاس کو ملازمت یا کاروبار کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
غیر ملکی کاروبار کے لیے قانونی راستوں پر بھی زور
دوسری جانب نارتھ ساؤتھ انیشی ایٹیو (این ایس آئی) نامی مائگرینٹ رائٹس تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے غیر ملکیوں کے لیے قانونی راستے پیدا کیے جائیں جو ملائیشیا میں چھوٹے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔
این ایس آئی کے ڈائریکٹر ایڈرین پریرا نے کہا کہ حکومت کو ایسے اہل غیر ملکیوں کے لیے مخصوص ویزا یا قانونی اجازت کے راستے پر غور کرنا چاہیے تاکہ وہ غیر قانونی طریقوں کے بجائے باقاعدہ نظام کے تحت کاروبار کر سکیں۔
ان کے مطابق بعض غیر ملکیوں کے چھوٹے کاروبار مقامی افراد کے لیے دستیاب کاروباری مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، تاہم اس معاملے میں معلومات کو غلط انداز میں پیش کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
پریرا نے کہا کہ کچھ غیر ملکی کاروباری مواقع تلاش کرتے ہوئے مشترکہ کاروباری شراکت داری میں بھی شامل ہوتے ہیں اور حکومت کو قانونی اور منظم طریقہ کار کے ذریعے اس سرگرمی کو ریگولیٹ کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی افراد اپنی کمیونٹی کی مخصوص ضروریات کے لیے بنگلہ دیشی صارفین کو مصنوعات یا خدمات فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ نیپالی افراد بھی اپنی کمیونٹی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
قانونی کاروباری مواقع فراہم کرنے کی تجویز
این ایس آئی کے ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ حکومت ایسے کاروباروں کے لیے خصوصی یا مناسب ویزا نظام متعارف کرانے پر غور کرے، جس کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو باقاعدہ، قابلِ نگرانی اور ٹیکس نظام کے تحت لایا جا سکے۔
ان کے مطابق قانونی راستے فراہم کرنے سے غیر رسمی یا غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے امکانات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم امیگریشن حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت سوشل وزٹ پاس پر داخل ہونے والے غیر ملکیوں کو ملازمت یا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اس لیے سوشل وزٹ پاس رکھنے والے افراد کے لیے یہ فرق اہم ہے کہ کسی ملک میں داخلے کی اجازت ملنا خود بخود وہاں ملازمت یا کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا۔ ملازمت یا کاروبار کے لیے متعلقہ قانونی پاس، ویزا یا اجازت نامے کی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتی ہیں۔
قانونی کارروائی کے حوالے سے بھی یہ واضح رہے کہ کسی شخص کا حراست میں لیا جانا یا اس کے خلاف تحقیقات ہونا خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ مذکورہ سزا عدالت سے جرم ثابت ہونے کی صورت میں لاگو ہوتی ہے۔

COMMENTS