اسلام آباد ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والے ایک مسافر کو پاسپورٹ میں مشکوک ملائیشین مہریں ملنے کے بعد آف لوڈ کر دیا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادار...
اسلام آباد ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والے ایک مسافر کو پاسپورٹ میں مشکوک ملائیشین مہریں ملنے کے بعد آف لوڈ کر دیا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق مسافر عمرہ ویزے پر سعودی عرب روانہ ہو رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امیگریشن حکام نے دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران مسافر کے پاسپورٹ کے صفحات ۸ اور ۹ پر موجود کچھ مہروں کو مشکوک قرار دیا، جس کے بعد اسے سعودی عرب جانے والی پرواز سے روک دیا گیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق یہ کارروائی یکم اکتوبر ۲۰۲۶ کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دستاویزات کی جانچ کے دوران کی گئی۔ مسافر کو پرواز ای ڈی ۲۷۰ سے آف لوڈ کرنے کے بعد مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے انسداد انسانی اسمگلنگ و اسمگلنگ مرکز اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
پاسپورٹ میں مشکوک ملائیشین مہریں کیسے سامنے آئیں؟
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق مسافر کے سفری دستاویزات کی معمول کی جانچ کے دوران پاسپورٹ کے صفحات ۸ اور ۹ پر موجود ملائیشین مہروں میں بے ضابطگی کا شبہ پیدا ہوا۔
حکام نے مشکوک مہروں کی موجودگی کے بعد مسافر کو سفر جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ کے مطابق وہ سعودی عرب کے لیے عمرہ ویزے پر سفر کر رہا تھا۔
اس واقعے میں فوری طور پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ پاسپورٹ پر موجود مہریں جعلی تھیں یا انہیں خود مسافر نے استعمال کیا تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ مہروں کے اصل ماخذ اور ان کی تیاری یا استعمال سے متعلق حقائق سامنے آسکیں۔
مسافر کو آف لوڈ کیے جانے کے بعد معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے متعلقہ مرکز کو بھیج دیا گیا ہے، جہاں دستاویزات اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات جاری
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ مشکوک مہریں کہاں سے حاصل کی گئیں اور آیا انہیں تیار کرنے، فراہم کرنے یا استعمال کرنے میں کسی دوسرے شخص یا سہولت کار کا کردار تھا یا نہیں۔
ادارے نے کہا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران جعلی سفری دستاویزات تیار کرنے، فراہم کرنے یا استعمال کرنے میں کسی فرد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس وقت معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے، اس لیے مشکوک مہروں کی موجودگی کو بنیاد بنا کر مسافر کو کسی جرم کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حتمی قانونی حیثیت تحقیقات مکمل ہونے اور متعلقہ شواہد سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔
اسلام آباد ایئرپورٹ کا یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سفر سے قبل مسافروں کے سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کس طرح کی جاتی ہے۔ امیگریشن حکام مسافروں کے پاسپورٹ، ویزا اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ سفر سے قبل کسی ممکنہ بے ضابطگی کی نشاندہی کی جا سکے۔
خاص طور پر ایسے مسافروں کے لیے جو مختلف ممالک کے ویزوں، ورک پرمٹ، سفری مہروں یا دیگر امیگریشن دستاویزات کے ذریعے سفر کرتے ہیں، دستاویزات کی درستگی ایک اہم معاملہ ہے۔ تاہم، موجودہ واقعے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کسی اضافی عمومی ہدایت یا نئی سفری پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارہ اب مشکوک ملائیشین مہروں کے پس منظر، ان کے ماخذ اور ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق معلومات جمع کر رہا ہے۔ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مسافر کو پرواز سے روکنے کے بعد اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے انسداد انسانی اسمگلنگ و اسمگلنگ مرکز کے حوالے کیا گیا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مسافر کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔
اس معاملے میں سب سے اہم پیش رفت وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جاری تحقیقات ہیں، جن کے ذریعے یہ واضح کیا جائے گا کہ پاسپورٹ پر موجود مشکوک مہروں کی نوعیت کیا تھی، وہ کس ذریعے سے پاسپورٹ پر لگیں اور آیا اس معاملے میں کسی دوسرے شخص یا سہولت کار کا کردار موجود تھا۔

COMMENTS