کوتا بھارو: ملائیشیا کی ریاست کلانتن کے شہر کوتا بھارو میں سیکیورٹی فورسز نے تارکین وطن کی مبینہ غیر قانونی آمد میں معاونت کی کوشش کے دور...
کوتا بھارو: ملائیشیا کی ریاست کلانتن کے شہر کوتا بھارو میں سیکیورٹی فورسز نے تارکین وطن کی مبینہ غیر قانونی آمد میں معاونت کی کوشش کے دوران پانچ افراد کو حراست میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران ایک مقامی شہری، تین پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔
یہ کارروائی کمپونگ لیمباہ سیرے کے علاقے میں آج علی الصبح کی گئی۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ایک نامعلوم شخص کے دریائے کلانتن میں ڈوبنے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے بچنے کی کوشش میں دریا میں داخل ہوا تھا۔
پانچ افراد زیر حراست
بریگیڈ ٹینگارا پی جی اے کے کمانڈر سینئر اسسٹنٹ کمشنر احمد رضی حسین کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے تقریباً رات 1 بج کر 15 منٹ پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو حراست میں لیا۔
زیر حراست افراد میں:
- ایک ملائیشین شہری
- تین پاکستانی شہری
- ایک بھارتی شہری
شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ان افراد کے تارکین وطن کی مبینہ غیر قانونی آمد سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
ملائیشین شہری نے مبینہ طور پر ’ٹیکونگ دارت‘ کا کردار تسلیم کیا
ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران زیر حراست ملائیشین شہری نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ ’ٹیکونگ دارت‘ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ملائیشیا میں یہ اصطلاح ایسے مقامی سہولت کار کے لیے استعمال ہوتی ہے جو غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کو زمینی راستوں کے ذریعے منتقل یا رہنمائی کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ایک کار اور ایک موٹر سائیکل بھی قبضے میں لے لی۔
ایک شخص کے دریا میں ڈوبنے کا شبہ
حکام کے مطابق زیر حراست مقامی شہری نے ابتدائی پوچھ گچھ میں بتایا کہ ایک اور شخص، جس کی قومیت ابھی معلوم نہیں ہوسکی، سیکیورٹی فورسز سے بچنے کی کوشش کے دوران دریائے کلانتن میں گر گیا اور اس کے ڈوبنے کا شبہ ہے۔
اس شخص کی تلاش کے لیے دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا مزید غیر ملکی تارکین وطن دریا کے آس پاس موجود ہیں یا نہیں۔
اس سلسلے میں مزید کارروائی کے لیے اطلاع آئی پی ڈی کوتا بھارو آپریشنز روم اور میرین پولیس فورس کو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔
تلاش اور تحقیقات جاری
سیکیورٹی حکام کی جانب سے دریا اور اردگرد کے علاقے میں تلاش کا عمل جاری رکھنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم، زیر حراست افراد کے خلاف کسی حتمی عدالتی فیصلے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
اس لیے ان افراد کے خلاف عائد شبہات کو تحقیقات کے مرحلے میں دیکھا جا رہا ہے اور حراست کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

COMMENTS