کوالالمپور: ملائیشیا کے سابق وزیر خزانہ اور باگن کے رکن پارلیمنٹ لم گوان اینگ نے کہا ہے کہ اگر ملک میں کم از کم اجرت میں مزید اضافہ کیا ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے سابق وزیر خزانہ اور باگن کے رکن پارلیمنٹ لم گوان اینگ نے کہا ہے کہ اگر ملک میں کم از کم اجرت میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا اطلاق غیر ملکی کارکنوں پر نہیں ہونا چاہیے۔
مقامی میڈیا کے مطابق لم گوان اینگ، جو ڈی اے پی کے مشیر بھی ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی آجروں اور غیر ملکی کارکنوں کے درمیان پہلے سے طے شدہ ملازمت کے معاہدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ملکی کارکنوں کو مستقبل میں ہونے والے کم از کم اجرت کے اضافے کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے۔
غیر ملکی کارکنوں کی اجرت پر مطالبہ
لم گوان اینگ نے کہا کہ کم از کم اجرت میں کسی بھی اضافے کے معاملے میں مقامی شہریوں اور مقامی کاروباروں کے مفادات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے خاص طور پر مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو درپیش اخراجات اور مسابقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی کارکنوں کو کم از کم اجرت میں اضافے سے مستثنیٰ کیا جانا چاہیے۔
یہ لم گوان اینگ کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ موجودہ سرکاری کم از کم اجرت کے قواعد اس وقت غیر ملکی کارکنوں کو بھی، بعض مستثنیٰ زمروں کے علاوہ، شامل کرتے ہیں۔ 2025 کے 1,700 رنگٹ کم از کم اجرت آرڈر کے بارے میں سرکاری وضاحت کے مطابق نجی شعبے کے غیر ملکی کارکن بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں، جبکہ گھریلو کارکن اور بعض اپرینٹیس شپ کنٹریکٹس مستثنیٰ ہیں۔
کے ڈبلیو ایس پی کی 2 فیصد شراکت ختم کرنے کا مطالبہ
لم گوان اینگ نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے کمپولان وانگ سیمپنان پیکرجا (کے ڈبلیو ایس پی) کی 2 فیصد شراکت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
موجودہ کے ڈبلیو ایس پی قواعد کے مطابق یکم اکتوبر 2025 سے بیشتر غیر ملائیشین شہری کارکنوں کے لیے 2 فیصد ملازم اور 2 فیصد آجر کی شراکت لازمی ہے۔ یہ نظام ایسے اہل غیر ملکی کارکنوں پر لاگو ہوتا ہے جو ملائیشیا میں قانونی طور پر کام کر رہے ہوں، جبکہ غیر ملکی گھریلو کارکن اس لازمی کوریج سے مستثنیٰ ہیں۔
کے ڈبلیو ایس پی کے مطابق اس پالیسی کا مقصد قومیت سے قطع نظر ملائیشیا میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے سماجی تحفظ کی کوریج کو وسیع کرنا ہے۔
لم گوان اینگ کا کہنا ہے کہ یہ 2 فیصد شراکت مقامی آجروں اور پی ایم کے ایس کے لیے اضافی لاگت کا باعث بنتی ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ یہ ان کا مؤقف ہے، نہ کہ موجودہ حکومتی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان۔
کم از کم اجرت میں ممکنہ مزید اضافہ
خبر کے مطابق وزیراعظم داتوک سری انور ابرہیم پہلے کہہ چکے ہیں کہ موجودہ 1,700 رنگٹ کم از کم اجرت میں اضافے کا امکان ہے اور اس حوالے سے تفصیلات بجٹ 2027 میں 9 اکتوبر کو پیش کی جا سکتی ہیں۔
مقامی میڈیا میں چھپنے والی 26 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق حکومت بجٹ 2027 میں منصفانہ اجرت اور اجرت میں اضافے سے متعلق مزید اقدامات کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اس لیے موجودہ مرحلے پر غیر ملکی کارکنوں کے لیے کسی نئی کم از کم اجرت کا حتمی ریٹ یا ان کے اخراج سے متعلق کوئی نیا فیصلہ اس خبر میں سامنے نہیں آیا۔ لم گوان اینگ نے صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر اجرت میں اضافہ کیا جائے تو غیر ملکی کارکنوں کو اس اضافے سے خارج رکھا جائے۔

COMMENTS