بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانیوں کو جعلی جاب آفرز، غیر قانونی ایجنٹس اور فرضی بھرتی کے دعووں سے بچنے کے لیے ملازمت سے متع...
بیرون ملک ملازمت حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانیوں کو جعلی جاب آفرز، غیر قانونی ایجنٹس اور فرضی بھرتی کے دعووں سے بچنے کے لیے ملازمت سے متعلق تمام معلومات کی باقاعدہ تصدیق کرنی چاہیے۔ کسی بھی غیر ملکی ملازمت کے لیے رقم ادا کرنے یا اصل دستاویزات کسی کے حوالے کرنے سے پہلے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر (او ای پی)، جاب کی منظوری اور دیگر سرکاری تقاضوں کو چیک کرنا اہم ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کو سب سے پہلے بھرتی کرنے والے ادارے، ملازمت کی پیشکش اور متعلقہ سرکاری کلیئرنس کی تصدیق کرنی چاہیے۔
او ای پی کا لائسنس پہلے چیک کریں
اگر کوئی شخص یا ادارہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر (او ای پی) کے ذریعے بیرون ملک ملازمت فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو امیدوار کو اس کا مکمل کاروباری نام اور لائسنس نمبر ضرور حاصل کرنا چاہیے۔
اس کے بعد بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) کی ویب سائٹ پر اس لائسنس کی موجودہ حیثیت چیک کی جا سکتی ہے۔
ایسے او ای پی سے معاملہ نہیں کرنا چاہیے جس کا لائسنس معطل، منسوخ، سرنڈر یا ایکسپائر ہو چکا ہو۔
صرف لائسنس نمبر دیکھنا کافی نہیں بلکہ امیدوار کو او ای پی کے منظور شدہ دفتر کا پتہ اور سرکاری رابطہ نمبرز بھی دستیاب معلومات کے مطابق چیک کرنے چاہئیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے کام کرنے والے ایسے غیر قانونی سب ایجنٹس یا افراد سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو کسی رجسٹرڈ او ای پی کی واضح دستاویزات فراہم نہ کریں۔
جاب کا پرمیشن نمبر ضرور معلوم کریں
کسی او ای پی کا لائسنس درست ہونا ہی کافی نہیں۔ بیرون ملک ملازمت کی منظور شدہ ڈیمانڈ یا جاب کے لیے متعلقہ پرمیشن نمبر کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
اس نمبر کے ذریعے امیدوار ملازمت کی اہم تفصیلات کا موازنہ کر سکتا ہے، جن میں:
- منزل کا ملک
- کمپنی یا آجر کا نام
- کام کی اصل جگہ
- ملازمت کا عہدہ
- منظور شدہ آسامیوں کی تعداد
- تنخواہ اور کرنسی
- معاہدے کی مدت
- کام کے اوقات
- رہائش، کھانا اور ٹرانسپورٹ کی سہولت
- میڈیکل انشورنس
- دیگر قانونی شرائط اور اخراجات
شامل ہو سکتے ہیں۔
اگر کسی اشتہار میں پرمیشن نمبر موجود نہ ہو یا اشتہار میں دی گئی معلومات بی ای او ای کے ریکارڈ سے مختلف ہوں تو رقم ادا کرنے یا اصل دستاویزات دینے سے پہلے معاملے کی مزید تصدیق ضروری ہے۔
پروٹیکٹر رجسٹریشن بھی اہم
بیرون ملک ملازمت یا ورک ویزا پر جانے والے پاکستانیوں کے لیے پروٹیکٹر رجسٹریشن کا عمل بھی اہم سرکاری تقاضا ہے۔ یہ عمل ای-پروٹیکٹر کے ذریعے آن لائن یا متعلقہ پروٹیکٹوریٹ آف امیگرینٹس کے دفتر کے ذریعے مکمل کیا جا سکتا ہے۔
اس رجسٹریشن کے نتیجے میں ملازمت کا معاہدہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے جبکہ بیرون ملک ملازمت کے دوران پیدا ہونے والے بعض مسائل کی صورت میں سرکاری قانونی اور فلاحی نظام تک رسائی میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملازمت یا ورک ویزا پر بیرون ملک جانے والے افراد کے لیے پروٹیکٹر رجسٹریشن ضروری ہے۔
بیرون ملک جاب فراڈ کی نمایاں نشانیاں
ملازمت کے امیدوار کو اس وقت خاص احتیاط کرنی چاہیے جب کوئی ایجنٹ یا ریکروٹر:
- او ای پی لائسنس نمبر دینے سے انکار کرے۔
- پرمیشن نمبر فراہم نہ کرے۔
- ٹورسٹ یا وزٹ ویزا پر ملازمت کا وعدہ کرے۔
- سرکاری رسید کے بغیر ایڈوانس رقم طلب کرے۔
- غیر معمولی طور پر زیادہ تنخواہ یا فوری ویزا کی ضمانت دے۔
- امیدوار کا اصل پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرے۔
- خالی فارم، خالی کاغذ یا نامکمل معاہدے پر دستخط کروانے کی کوشش کرے۔
ایسی صورتحال میں صرف زبانی وعدے پر اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔
رقم اور اصل دستاویزات دینے سے پہلے تصدیق کریں
بیرون ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کے لیے بنیادی احتیاط یہ ہے کہ پہلے او ای پی لائسنس چیک کیا جائے، اس کے بعد پرمیشن نمبر کے ذریعے ملازمت کی تفصیلات کی تصدیق کی جائے اور بیرون ملک روانگی سے قبل ضروری پروٹیکٹر رجسٹریشن مکمل کیا جائے۔
خاص طور پر سوشل میڈیا، واٹس ایپ یا ذاتی رابطے کے ذریعے ملنے والی جاب آفر کو صرف اشتہار، ویڈیو، کمپنی کا لوگو یا ایجنٹ کے زبانی دعوے کی بنیاد پر حقیقی نہیں سمجھنا چاہیے۔
ملازمت کی پیشکش میں موجود کمپنی، تنخواہ، ویزا، کام کی جگہ، معاہدے اور بھرتی کے قانونی طریقہ کار کو سرکاری ریکارڈ سے ملانا ہی امیدوار کو ممکنہ فراڈ سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اہم بات: کسی غیر ملکی جاب کے لیے رقم ادا کرنے سے پہلے متعلقہ او ای پی اور جاب پرمیشن کی سرکاری حیثیت خود بھی چیک کریں اور تمام ادائیگیوں کی باقاعدہ رسید اور دستاویزی ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

COMMENTS