کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کاجنگ اور پتراجایا کے درمیان غیرملکی کارکنوں کو مبینہ طور پر غیرقانونی طریقے سے آمدورفت کی سہ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کاجنگ اور پتراجایا کے درمیان غیرملکی کارکنوں کو مبینہ طور پر غیرقانونی طریقے سے آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے والی ٹرانسپورٹ سروس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 60 افراد کو حراست میں لے لیا۔
یہ کارروائی 21 ستمبر کو سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک تقریباً تین گھنٹے جاری رہی، جس میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے انفورسمنٹ ڈیویژن اور سپیشل ٹیکٹیکل ٹیم کے 35 اہلکاروں نے حصہ لیا۔
سات وینز کی تلاشی، 6 غیرملکی ڈرائیور گرفتار
مقامی میڈیا کے مطابق کارروائی کے دوران امیگریشن حکام نے مجموعی طور پر 7 وینز کو روکا۔
تلاشی کے دوران معلوم ہوا کہ ان میں سے 6 وینز غیرملکی شہری چلا رہے تھے۔ ان ڈرائیوروں میں 5 بنگلہ دیشی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔
امیگریشن حکام کے مطابق ان چھ غیرملکی ڈرائیوروں کے پاس درست سفری دستاویزات یا متعلقہ پاس موجود نہیں تھے۔ مزید یہ کہ کسی بھی ڈرائیور کے پاس درست اور مکمل ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں تھا۔ بعض افراد مبینہ طور پر پروبیشنری لائسنسز استعمال کر رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ ان ڈرائیوروں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ملائیشین وین مالکان نے ماہانہ 1,600 رنگٹ سے 1,800 رنگٹ تک تنخواہ پر ملازم رکھا ہوا تھا۔
کارروائی کے دوران ایک ملائیشین شہری کو بھی گرفتار کیا گیا جو ایک وین چلا رہا تھا اور اسی وین کا مالک بھی تھا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق چھ غیرملکی ڈرائیوروں اور اس ملائیشین مالک کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی سیکشن ای55 کے تحت تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا۔
ترپن مزید غیرملکی مسافر بھی حراست میں
وینز میں سفر کرنے والے مسافروں کی جانچ کے بعد امیگریشن حکام نے مزید 53 ایسے غیرملکی شہریوں کو حراست میں لیا جن کے بارے میں انہیں دستاویزات کے حوالے سے خلاف ورزیوں کا شبہ تھا۔
ان میں:
- 44 انڈونیشی شہری، جن میں 12 مرد اور 32 خواتین شامل ہیں
- 8 بنگلہ دیشی مرد
- ایک میانمار کا مرد شہری
شامل ہیں۔
حراست میں لیے گئے افراد کی عمریں 18 سے 59 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کارکنوں نے اپنے کام کی جگہوں تک آنے جانے کے لیے تقریباً 100 رنگٹ ماہانہ ادا کیے تھے۔ یہ ٹرانسپورٹ سروس کمپونگ داتوک ’ ابو بکر باجندا، کاجنگ اور پتراجایا کے آس پاس کے علاقوں میں کارکنوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
تمام 7 وینز قبضے میں لے لی گئیں
امیگریشن حکام نے کارروائی کے دوران تمام 7 وینز کو قبضے میں لے لیا ہے کیونکہ انہیں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہونے کا شبہ ہے۔
حکام اب ان دیگر گاڑیوں کے مالکان کا بھی سراغ لگا رہے ہیں جو کارروائی کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے، تاکہ تحقیقات میں ان سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکے۔
حراست میں لیے گئے غیرملکی شہریوں کو مزید کارروائی اور تحقیقات کے لیے پتراجایا امیگریشن ڈیپو منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹ ایکٹ 1966 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت زیرِ تفتیش ہے۔
کارروائی صرف غیرملکی کارکنوں تک محدود نہیں
اس کارروائی میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ملائیشین امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی صرف غیرملکی کارکنوں تک محدود نہیں رہے گی۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ایسے ملازمین، گاڑی مالکان اور دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جو غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو ملازمت، رہائش، آمدورفت یا دیگر سہولت فراہم کرنے میں ملوث پائے جائیں۔
یہ پیش رفت ملائیشیا میں غیرملکی کارکنوں سے متعلق حالیہ کریک ڈاؤن کے اس رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے جس میں حکام صرف غیرملکی افراد کی گرفتاری کے بجائے ان افراد اور کاروباری عناصر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جو مبینہ طور پر امیگریشن خلاف ورزیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔
پاکستانی کارکنوں کے لیے اہم پیغام
اس کارروائی میں گرفتار افراد میں پاکستانی شہری شامل نہیں تھے، تاہم ملائیشیا میں مقیم پاکستانی کارکنوں کے لیے یہ واقعہ ایک اہم قانونی یاد دہانی ضرور ہے۔
غیرملکی کارکنوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پاسپورٹ، ویزا یا ورک پاس، ملازمت اور ڈرائیونگ لائسنس سمیت تمام متعلقہ دستاویزات کو قانونی اور درست حالت میں رکھیں۔
خصوصاً اگر کوئی غیرملکی شہری موٹر سائیکل، کار یا وین چلاتا ہے تو اسے اس بات کی یقین دہانی کرنی چاہیے کہ اس کے پاس ملائیشیا میں گاڑی چلانے کے لیے مطلوبہ قانونی اجازت اور درست لائسنس موجود ہے۔
اسی طرح کسی غیرملکی کارکن کو ایسی ٹرانسپورٹ سروس استعمال کرنے سے پہلے بھی محتاط رہنا چاہیے جو غیر واضح یا غیرقانونی طریقے سے چلائی جا رہی ہو۔
نوٹ: حراست یا تحقیقات کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں ہے۔ حتمی قانونی ذمہ داری متعلقہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں طے ہوگی۔

COMMENTS