کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے بدھ کے روز کوالالمپور میں ایک کلیننگ کمپنی پر چھاپہ مارا، جس پر غیر ملکی کارکنوں کو غیر قانونی...
کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے بدھ کے روز کوالالمپور میں ایک کلیننگ کمپنی پر چھاپہ مارا، جس پر غیر ملکی کارکنوں کو غیر قانونی طور پر ملازمت دینے اور ان کا استحصال کرنے کا شبہ ہے۔ اس کارروائی میں 31 غیر ملکی شہریوں کو بازیاب کرایا گیا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے بیان میں بتایا کہ بازیاب کرائے گئے 31 افراد میں 27 خواتین اور 4 مرد شامل ہیں، جو کمپنی میں صفائی اور نقل و حمل کے کام پر مامور تھے۔ ان کے مطابق تحقیقات میں سامنے آیا کہ کسی کے پاس بھی ملائیشیا میں قیام اور کام کے لیے درست سفری دستاویزات یا پرمٹ موجود نہیں تھے۔
اہم تفصیلات
یہ مشترکہ آپریشن امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے انسانی اسمگلنگ کے خلاف شعبے اور انسداد منی لانڈرنگ شعبے نے کوالالمپور اور نگری سمبیلان کے امیگریشن دفاتر، نیشنل اینٹی فنانشل کرائم سینٹر، محکمہ محنت جزیرہ نما ملائیشیا، ان لینڈ ریونیو بورڈ اور کمپنیز کمیشن آف ملائیشیا کے تعاون سے کیا۔ کارروائی کا نشانہ کلانگ ویلی میں رجسٹرڈ ایک ہوم کلیننگ سروس فراہم کنندہ کمپنی سے منسلک کوالالمپور کے متعدد مقامات تھے۔
زکریا شعبان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ کمپنی نے غیر ملکی کارکنوں کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ ان کے بقول کارکنوں کو ماہانہ 1,500 رنگٹ سے کم اجرت دی جاتی تھی، ان کی تنخواہوں سے غیرمنصفانہ کٹوتیاں کی جاتی تھیں، بغیر رضامندی جرمانے عائد کیے جاتے تھے، زبردستی اووَرٹائم کرایا جاتا تھا اور ان کی نقل و حرکت کو کمپنی کی جانب سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی کے پاس ایسے کارکنوں کا ریکارڈ بھی موجود تھا جو مبینہ استحصال برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے فرار ہو چکے تھے۔
گرفتاریاں اور ضبطگی
اس آپریشن میں کمپنی کے تین ملائیشین مالکان — ایک مرد اور دو خواتین — کو بھی حراست میں لیا گیا۔ کمپنی کے مقامات کی مزید تلاشی کے دوران حکام نے 20 دیگر افراد کے پاسپورٹ، 9,400 رنگٹ نقدی اور کئی کمپیوٹرز برآمد کیے، جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تعلق کمپنی کی سرگرمیوں سے ہے۔ زکریا شعبان کے مطابق یہ اشیاء تحقیقات میں مدد کے لیے فی الحال جانچ پڑتال کے مرحلے میں ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی مبینہ طور پر انڈونیشی کارکنوں کو کلیننگ کی نوکریوں کی پیشکش کرکے بھرتی کرتی تھی اور یقین دہانی کراتی تھی کہ بھرتی سے متعلقہ اخراجات اور بعض دیگر لاگت کمپنی خود برداشت کرے گی۔
مالی کھاتے منجمد
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی مالیاتی انٹیلی جنس ٹیم نے کمپنی کے مبینہ مالکان سے منسلک کئی اکاؤنٹس کی نشاندہی کی، جن کا تعلق مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے بتایا جاتا ہے۔ زکریا شعبان کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ، انسداد دہشت گردی فنانسنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی آمدنی سے متعلق قانون 2001 (ایکٹ 613) کی دفعہ 4(1) کے تحت کئی انفرادی اور کمپنی اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق دیگر جرائم بھی سامنے آئے، جن پر متعلقہ اداروں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار کے قوانین کے تحت کارروائی کی۔ گرفتار افراد کو مزید تحقیقات اور کارروائی کے لیے کوالالمپور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے امیگریشن حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔
حکومتی مؤقف
زکریا شعبان نے واضح کیا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ امیگریشن اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتے گا۔ ان کے مطابق امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹس ایکٹ 1966، انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی اسمگلنگ کے خلاف ایکٹ 2007 اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2001 کے تحت جرائم میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی فریق کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ غیر ملکی کارکنوں کی غیر قانونی ملازمت، ان کے استحصال اور دیگر ملائیشین قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ نفاذی کارروائیوں کو مزید تیز کرے گا۔

COMMENTS