پوتراجایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے غیر ملکی کارکنوں کے نظام میں مبینہ فراڈ، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے ...
پوتراجایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے غیر ملکی کارکنوں کے نظام میں مبینہ فراڈ، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا کہ وزارت غیر ملکی کارکنوں کے نظام میں مبینہ طور پر جعل سازی کرنے والے گروہوں کو ان کے بنیادی مراکز سے ختم کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہے اور اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اب صرف دفاعی انداز میں کارروائی کرنے کے بجائے ایسے گروہوں کے خلاف براہ راست کارروائی کر رہا ہے تاکہ ان کے مبینہ نیٹ ورک کو اس کے ماخذ پر ہی روکا جا سکے۔
جالن چن سوہ لین میں 11 مقامات پر چھاپے
وزیر داخلہ کے مطابق یہ کارروائی 14 ستمبر 2026 کو کوالالمپور کے جالن چن سوہ لین کے کمرشل علاقے میں کی گئی، جہاں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے آپس سرکاپ کے تحت بیک وقت 11 مقامات پر چھاپے مارے۔
کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 30 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
ان میں 11 افراد کو مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کے اہم منتظمین یا سرغنہ ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا گیا۔ ان 11 افراد میں 10 مرد اور ایک خاتون شامل تھے اور تمام کا تعلق بنگلہ دیش سے بتایا گیا ہے۔
مزید 19 غیر ملکی شہری بھی مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں کے شبہ میں گرفتار کیے گئے۔ ان میں 16 بنگلہ دیشی، ایک میانمار کا شہری اور دو انڈونیشیائی شہری شامل ہیں۔
جعلی ای پی ایل کے ایس اور پولیس رپورٹس برآمد
کارروائی کے دوران حکام نے بڑی تعداد میں الیکٹرانک اور پرنٹنگ آلات سمیت مختلف اشیا قبضے میں لیں۔
برآمد ہونے والی اشیا میں:
- 18 لیپ ٹاپ
- 21 پرنٹرز اور اسکینرز
- 3 موبائل فون
- بنگلہ دیش کے 10 بین الاقوامی پاسپورٹس
- جعلی الیکٹرانک عارضی وزٹ ورک پاس(ای پی ایل کے ایس)
- جعلی پولیس رپورٹس کی پرنٹ شدہ نقول
شامل ہیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق مبینہ طور پر جعلی ای پی ایل کے ایس ہر ایک 150 رنگٹ میں فروخت کیے جا رہے تھے، جبکہ جعلی پولیس رپورٹ کے لیے 70 رنگٹ وصول کیے جاتے تھے۔
غیر قانونی داخلے کے خدشات
سیف الدین ناسوشن نے کہا کہ اس نوعیت کی مبینہ سرگرمیاں صرف امیگریشن نظام کی انتظامی ساکھ اور عملداری کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ عوامی تحفظ کے لیے بھی خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔
ان کے مطابق جعلی دستاویزات کی تیاری اور فروخت سے غیر ملکی شہریوں کے لیے غیر قانونی طور پر ملائیشیا میں داخل ہونے یا ملک میں قیام کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزارت داخلہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے انتظامی اختیارات کو مؤثر انداز میں استعمال کرے گی۔
تاہم گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف الزامات، تفتیش اور قانونی کارروائی کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ حتمی قانونی حیثیت متعلقہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد طے ہوگی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا کے حکام غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، ورک پرمٹ، امیگریشن دستاویزات اور غیر قانونی نیٹ ورکس سے متعلق نگرانی اور نفاذِ قانون پر توجہ بڑھا رہے ہیں۔

COMMENTS