پوتراجایا: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں سے متعلق امیگریشن قوانین اور دستاویزات کی پابندی بہتر بنانے کے لیے فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمن...
پوتراجایا: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں سے متعلق امیگریشن قوانین اور دستاویزات کی پابندی بہتر بنانے کے لیے فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم (ایف ڈبلیو سی ایم ایس) کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
پبلک پالیسی پروفیشنل دینی نورہانی کے مطابق غیر ملکی کارکنوں سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کے لیے چھاپوں اور گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ ایسے ڈیجیٹل نظام کو بھی مؤثر بنایا جانا چاہیے جو خلاف ورزی ہونے سے پہلے مسائل کی نشاندہی اور روک تھام میں مدد دے سکے۔
انہوں نے یہ بات 13 ستمبر کو لبُوہ پڈو، کوالالمپور میں ہونے والے بڑے امیگریشن آپریشن کے تناظر میں کہی، جس کے دوران 2,500 غیر ملکیوں کی جانچ کی گئی اور 472 افراد کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں کے شبہ میں حراست میں لیا گیا تھا۔
دینی نورہانی کا کہنا تھا کہ صرف کارروائیوں کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے ایسے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جو غیر ملکی کارکنوں کے انتظام، ورک پرمٹ اور متعلقہ ریکارڈ کی نگرانی میں مدد دے۔
ایف ڈبلیو سی ایم ایس میں کیا سہولیات موجود ہیں؟
دینی نورہانی نے وزارت داخلہ کی جانب سے 10 فروری 2026 کو پارلیمنٹ میں دیے گئے تحریری جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف ڈبلیو سی ایم ایس غیر ملکی کارکنوں کے ورک پرمٹ سے متعلق درخواست، منظوری، نگرانی اور انتظام کے مختلف مراحل کو ڈیجیٹل طریقے سے سپورٹ کرتا ہے۔
ان کے مطابق اس نظام میں آجروں، غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے، طبی جانچ اور کارکنوں کے ملک میں داخلے سے متعلق معلومات کو ایک مرکزی ریکارڈ میں جمع کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
مرکزی ڈیجیٹل ریکارڈ کا مقصد معلومات کو منظم رکھنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ریکارڈ کو بعد میں جانچنے اور آڈٹ کرنے میں بھی سہولت فراہم کرنا ہے۔
بائیومیٹرک تصدیق سے شناخت کی جانچ
دینی نورہانی نے ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے بائیومیٹرک ویریفکیشن نظام کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق بائیومیٹرک معلومات کے ذریعے شناخت سے متعلق مسائل، جعلی شناخت، ڈپلیکیٹ ریکارڈ اور دستاویزات کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے بائیو میڈیکل ویریفکیشن ماڈیول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانے میں مدد دینا ہے کہ طبی معائنہ کرانے والا کارکن وہی شخص ہو جو اپنے ملک سے روانہ ہو کر ملائیشیا پہنچا ہے۔
ان کے مطابق کارکن کی شناخت اور دستاویزات کے ریکارڈ میں تسلسل برقرار رکھنا اس لیے اہم ہے کیونکہ ناقابلِ اعتماد دستاویزات امیگریشن نظام میں کمزوری کا باعث بن سکتی ہیں۔
پی ایل کے ایس کی آن لائن تجدید 90 دن پہلے ممکن
غیر ملکی کارکنوں کے ورک پرمٹ کی تجدید کے حوالے سے دینی نورہانی نے بتایا کہ خاص طور پر غیر ملکی گھریلو ملازمین کے معاملات میں آجر اب پی ایل کے ایس کی تجدید کے لیے آن لائن درخواست میعاد ختم ہونے سے 90 دن پہلے جمع کرا سکتے ہیں۔
اس نظام میں ای پاس نے پرانے اسٹیکر سسٹم کی جگہ لی ہے۔
ان کے مطابق آن لائن تجدید کا یہ طریقہ بظاہر ایک بڑی تبدیلی نہ ہو، لیکن اس سے کاغذی کارروائی اور بیوروکریسی میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ آجروں کو میعاد ختم ہونے سے پہلے ضروری دستاویزات اور معلومات مکمل کرنے کا وقت بھی مل جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح آجر آخری وقت میں مسئلہ پیدا ہونے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پہلے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکتے ہیں۔
ای انفورسمنٹ سے امیگریشن نگرانی میں مدد
دینی نورہانی کے مطابق ایف ڈبلیو سی ایم ایس میں موجود ای انفورسمنٹ ماڈیول امیگریشن نفاذ کی کارروائیوں کو زیادہ ہدفی بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ ماڈیول میعاد ختم ہونے والے ورک پرمٹس کے بارے میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کو ابتدائی معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس طرح متعلقہ اداروں کو ایسے معاملات کی بروقت نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے، جہاں ورک پرمٹ کی مدت ختم ہو چکی ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو سی ایم ایس کی اہمیت صرف ایک بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ کے عملی معاملات میں بھی ہے، جن میں میعاد ختم ہونے والے پرمٹس میں کمی، تجدید کے عمل میں تیزی، ریکارڈ کو بہتر انداز میں محفوظ کرنا اور نظام میں شفافیت شامل ہیں۔
چھاپوں کے بجائے روک تھام پر بھی توجہ
دینی نورہانی نے مؤقف اختیار کیا کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے لیے نفاذی کارروائیاں اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ڈیجیٹل نظام کے ذریعے خلاف ورزیوں کی پیشگی روک تھام بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق درست ریکارڈ، آجروں کی فعال شمولیت اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط فالو اپ کے ذریعے ایف ڈبلیو سی ایم ایس کو غیر ملکی کارکنوں سے متعلق قانونی اور منظم روزگار کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو سی ایم ایس کوئی نئی یا غیر معمولی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک عملی ڈیجیٹل نظام ہے، جسے مزید مؤثر بنا کر غیر ملکی کارکنوں کے امیگریشن معاملات میں تعمیل بہتر بنانے اور نفاذی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر انداز میں سپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ نکات پبلک پالیسی پروفیشنل دینی نورہانی کے بیان اور ان کی جانب سے وزارت داخلہ کے پارلیمانی جواب کے حوالے پر مبنی ہیں۔ ایف ڈبلیو سی ایم ایس کے ذریعے فراہم کی جانے والی سہولیات اور عملی نفاذ سے متعلق حتمی ذمہ داریاں متعلقہ ملائیشین حکام اور اداروں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔

COMMENTS